بھارتی مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر تشویش ہے،انتونیو گوتریس

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے

بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے گئے شہریت ترمیمی ایکٹ سے

مسلمانوں کی اکثریت سمیت 20 لاکھ افراد کے بے وطن ہونے کے خدشے پر

تشویش کا اظہار کردیا۔ایک انٹرویومیں بھارت میں اقلیتوں کیساتھ بڑھتے ہوئے

امتیازی سلوک پر تشویش سے متعلق سوال پر انتونیو گوتریس نے کہا کہ اس

حوالے سے ذاتی طور پر تشویش ہے، جب کبھی شہریت قوانین تبدیل کیے جاتے

ہیں تو بے وطنی سے گریز اور دنیا کے ہر شہری کو کسی ملک کا شہری ہونے

کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔جب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے تشدد، جنسی استحصال اور 7 سال

کے بچوں کو قید کیے جانے سے متعلق بین الاقوامی میڈیا سمیت ایمنسٹی

انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور حال ہی میں نئی دہلی میں جاری کی گئی رپورٹس

سے متعلق سوال کیا گیا،تو انتونیو گوتریس نے کہا اقوام متحد ہ ہائی کمشنر کی 2

رپورٹس سمیت ان تمام رپورٹس نے کشمیر میں حقیقت میں کیا ہورہا ہے اسے

واضح کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا اور یہ ضروری ہے کہ ان رپورٹس کو

سنجیدگی سے لیا جا ئے۔اقوام متحدہ، مقبوضہ کشمیر جانے اور وہاں ڈھائے

جانیوالے مظالم کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطح کا انکوائری

کمیشن تشکیل دینے میں ناکام ہونے سے متعلق سوال پر سیکریٹری جنرل نے کہا

کہ صرف اقوام متحدہ کی گورننگ باڈیز یا سلامتی کونسل یہ فیصلہ کرسکتی ہیں

لیکن یہ رپورٹس قابل اعتبار، مفید اور انتہائی اہم ہیں۔انتونیو گوتریس نے آگاہ کیا کہ

اقوام متحدہ کی موجودہ ساخت اور اس کے صرف 5 مستقل رکن ممالک کو حاصل

ویٹو پاور اقوام متحدہ کو اس کا مقصد پورا کرنے کی صلاحیت سے روک رہی ہے

حالانکہ اسے تنازع کے حل کیلئے تشکیل دیا گیا تھا۔انہوں نے جنگ عظیم دوم کے

بعد قوانین پر مبنی نظام مغربی ممالک کے درمیان اتحاد کا نتیجہ تھا جو تیزی سے

ختم ہورہا ہے اور اب ان کا خیال ہے اقوام متحدہ کو اتنا خطرہ نہیں تھا جتنا زیادہ

اس نئی حقیقت سے ہے۔اقوام متحدہ کی بڑھتی ہوئی افادیت کو یقینی بنانے سے

متعلق انہوں نے کہا اقوام متحدہ میں ریفارم لاکر مزید جمہوری و مؤثر بنانے اور

جس کثیر جہتی دنیا میں ہم آج رہتے ہیں اس کی مزید نمائندہ بنانے کی ضرورت

ہے۔ ہم دو قطبی دنیا میں رہتے تھے، قوانین نسبتاً واضح تھے، آج دنیا دو قطبی

نہیں رہی، کثیر قطبی ہے اور انتشار کا شکار ہے۔ طاقت سے تعلقات غیر واضح

ہیں لہٰذا ہم تنازع کی صورتحال دیکھتے ہیں جس میں سبوتاژکرنیوالے جو چاہتے

ہیں وہ کرتے ہیں کیونکہ اس حوالے سے ترتیب بنانے کا کوئی راستہ نہیں ۔ ہم

تضادات میں رہتے ہیں، کوئی ایک بات نہیں، ہمیں عالمی مسائل پر عالمی ردعمل ،

پہلے سے زیادہ کثیر الجہتی گورننس کی ضرورت ہے، ہم انتشار کا شکار دنیا میں

رہتے ہیں جہاں چیزوں کو آگے بڑھانا مشکل ہے، ہمیں اقوام متحدہ میں اصلاحات

لاکر اس چیلنج سے نمٹنا ہے۔اقوام متحدہ کی مبینہ غیر مؤثر کارکردگی سے متعلق

سوال کے جواب میں انہوں نے کہا وہ دنیا پر حکومت نہیں کرتے اور یہ بہت

ضروری ہے کہ ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کا احترام

کریں۔ دنیا بھر کے عوام سیاسی ادارے کے کام سے خوش نہیں اور گلوبلائزیشن

نے بہت سے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔فلسطین سے متعلق ہمارا مؤقف تبدیل

نہیں ہوا اور دو ریاستی حل کے عزم پر قائم ہیں۔ ان ریاستوں کی سرحدو ں کو

1967 کے بارڈرز پر مبنی ہونا چاہیے ،مغربی یروشلم کو اسرائیل جبکہ مشرقی

یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اقوام

متحدہ، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ’بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے

تحت‘ مذاکرات کی سہولت کاری کیلئے تیار ہے۔پاکستان میں مہاجروں کی آمد اور

افغان امن عمل کی ناکامی کی صورت میں افغان مہا جرین کی واپسی میں تاخیر

اور امریکی فوجیوں کے انخلا کی صورت میں پیدا ہونیوالے طاقت کے خلا کے

باعث افغانستان میں خانہ جنگی کے دوبارہ سر اٹھانے سے متعلق اقوام متحدہ کے

ہنگامی منصوبے کے سوال پر انہوں نے کہا ہمارا کوئی ہنگامی منصوبہ نہیں ، امن

کی گنجائش موجود اور پاکستان بہت مثبت کردار ادا کررہا ہے۔ ہمیں افغانستان میں

قیامِ امن کیلئے ہر کام کرنا چاہیے، انہوں نے افغانستان سے تعاون اور جنگ زدہ

ملک کی تعمیرِ نو کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا۔ہم اپنی زندگی

میں اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی تناز عات کے حل دیکھ سکیں گے یا نہیں اس

حوالے سے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پْرامید تھے نہ مایوس بلکہ اقوام

متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے اپنے اختیار میں جو کچھ ہے کرنے کا

عزم کا کیا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply