بھارتی عام انتخابات، ممتا بینرجی، مایاوتی اور پرینکا گاندھی مودی کیلئے بڑا چیلنج

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں آئندہ ہفتے شروع ہونے والے عام انتخابات

میں موجودہ وزیراعظم نریندرمودی کو تین خواتین سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق ملک میں 11 تا 19 اپریل تک 7 مراحل میں پارلیمانی

انتخابات کا انقعاد ہو گا۔ مودی کیلئے دوسری مرتبہ انتخابات جیتنے کے راستے

میں جو معروف خواتین رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ان میں پہلی 2011 سے مغربی

بنگال کی باگ ڈور سمبھالے ممتا بینرجی جوعوامی سطح پر انتہائی مقبول ہیں

اورسابق وفاقی وزیر ریلوے کی دی دی یعنی بڑی بہن کے نام سے بھی جانی

جاتی ہیں۔ انکا تعلق آل انڈیا ترینیمول کانگریس پارٹی سے ہے۔جبکہ اس مشرقی

ریاست مغربی بنگال کی آبادی جرمنی سے بھی زیادہ ہے۔ سیاسی ماہرین کے

مطابق ممتا بینرجی عوام میں خاصی مقبول ہیں اور وہ اگر انتخابات میں کامیاب

ہوتی ہیں تو حکومت سازی میں ان کا اہم کردار ہوگا۔ اس ریاست میں وزیراعظم

مودی کی قوم پرست سیاسی جماعت بھارتی جنتا پارٹی کو بہتر کارکردگی دکھانا

ہوگی۔ دوسری خاتون سابق صوبائی وزیراعلی ریاست اتر پردیش اور سوشلسٹ

نظریات کی حامل بھوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی ہیں جو دلت کمیونٹی کی

نمائندگی کررہی ہیں۔63 سالہ مایاوتی دلت کوئین یعنی دلتوں کی رانی کے نام سے

مشہور ہیں۔ اترپردیش 200 ملین آبادی پر مشتمل سب سے بڑی ریاست ہے۔ جہاں

مسلمانوں کی آبادی تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔ سیاسی ماہرین کے خیال میں مایاوتی

مخلوط حکومت بنانے میں اہم کردارادا کرسکتی ہیں اورمایاوتی کا سیاسی ایجنڈا

زیادہ تر بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست پر تنقید کے گرد گھو م رہا ہے۔

تیسری خاتون پرینکا گاندھی واڈرا ہیں جنہوں امسال جنوری میں انڈین کانگریس

کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ پارٹی کی جانب

سے برسوں انہیں عملی سیاست میں حصہ لینے کی مسلسل پیشکش کی جاتی رہی۔

کانگریس کا جنرل سیکرٹری ومشرقی یوپی کا انچارج بنائے جانے کے بعد پہلی

مرتبہ ان کے لکھنو میں ہوئے روڈ شو میں صوبے سے لاکھوں افراد شامل ہوئے،

جن میں مسلم افراد کی تعداد دیگر کے مقابلے میں زیادہ تھی۔عوامی مقبولیت کی

بنا پر مبصرین ان تینوں خواتین کو مودی کیلئے خطرہ قراردے رہے ہیں.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply