195

بھارت، مدھیا پردیش میں سرعام رفع حاجت کرنے پر 2 ’دلت‘ بچوں کو تشدد کے بعد قتل کردیا گیا

Spread the love

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کے ضلع شیو پوری

میں ہندوؤں کی اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد نے نچلی ذات ’دلت‘ کے

2 بچوں کو سرعام رفع حاجت کرنے کے الزام میں تشدد کرکے ہلاک کردیا۔بھارت

میں لوگوں کی جانب سے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور نچلی ذات کے

ہندوؤں، خاص طور پر دلتوں کو، تشدد کرکے ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ

ہوا ہے۔ایک روز قبل بھارتی ریاست مدھیا پردیش میں اونچی ذات کے 2 ہندو

بھائیوں نے نچلی ذات ’دلت‘ سے تعلق رکھنے والے بچوں کو سرعام رفع حاجت

کرنے پر ڈنڈے کے وار سے تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں ہلاک کردیا۔بھارتی اخبار

’دی ہندو‘ کے مطابق مذکورہ واقعہ ضلع شیو پوری کے گاؤں بھاوکیڑی میں پیش

آیا۔پولیس نے بچوں کو سرعام رفع حاجت کرنے کے الزام میں 2 بھائیوں کی جانب

سے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کرنے کی تصدیق کی ہے۔پولیس نے کارروائی کرتے

ہوئے بچوں کو قتل کرنے والے دونوں بھائیوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قتل

اور نچلی ذات کے افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر

کرلیاہے۔رپورٹ کے مطابق بچوں کو اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے بھائیوں

حاکم سنگھ یادیو اور رمیشور یادیو نے قتل کیا۔دونوں بھائیوں نے 11 سالہ اور 12

سالہ بچوں کو صبح 6 بجے اس وقت تشدد کرکے قتل کیا جب وہ سرعام راستے پر

رفع حاجت کر رہے تھے۔دوسری جانب گاؤں والوں نے بتایا کہ جن افراد نے بچوں

کو تشدد کرکے قتل کیا، ان میں سے ایک شخص کا دماغی توازن درست نہیں اور

وہ ماضی میں دماغی علاج بھی کرواتا رہا ہے۔دوسری جانب ’دلت‘ اور دوسری

نچلی ذاتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی رضاکاروں اور تنظیموں

نے الزام عائد کیا کہ پولیس اونچی ذات کے ہندوؤں کو بچانے کی کوشش کر رہی

ہے۔

Leave a Reply