Rape

زمیندار کی نابینا بچی سے 3 سال زیادتی، لاہور میں گداگر بچی سے گینگ ریپ

Spread the love

لاہور، گگومنڈی (جے ٹی این آن لائن خواتین نیوز) بچی زیادتی گینگ ریپ

لاہور میں 13 سالہ گداگر بچی کو تین افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،

جبکہ گگو منڈی میں سفاک زمیندار محنت کش کی نابینا بیٹی کو گذشتہ تین سال

سے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا مگر مجبور باپ بیٹی کی عزت نہیں بچا سکا، پولیس

تاحال ملزم زمیندار عبدالرزاق عرف کالی جوئیہ کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے-

=–= خواتین سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق شیرا کوٹ میں 13 سالہ لڑکی کو 3 افراد نے زیادتی کا نشانہ

بنا دیا جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک ملزم کے والد کو حراست میں لے

لیا، متاثرہ لڑکی کے والد نے پولیس کو بتایا میرا گھرانا شاہدرہ کے علاقہ میں 25

نمبر سٹاپ کے قریب جھگیوں میں رہتا ہے۔ میری بیٹی بھیک مانگنے کیلئے رنگ

محل گئی جہاں سے نامعلوم رکشہ ڈرائیور اسے ملک پارک شیرا کوٹ کے ایک

خالی کوارٹرمیں لے گیا جہاں ملزم نے 2 دیگر ساتھیوں رمضان اور علی سے مل

کر اس کیساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ پولیس اور تحقیقاتی ٹیموں نے واقعہ کے بعد

جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کیے اور میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد شیرا کوٹ

تھانے میں زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا اور ایک ملزم کے والد کو حراست میں لے

لیا-

=—= پولیس سفاک زمیندار کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام

ادھر گگو مینڈی کے گاؤں 179۔ای بی کا بااثر زمیندار محنت کش کی نابینا بیٹی کو

3 سال تک گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ منع کرنے پر زمیندار نے متاثرہ

لڑکی کے والد کو جھوٹی درخواستیں دیکر متعدد بار کئی کئی روز تھانے میں بند

کروائے رکھا۔ بچی کے والد کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ تو درج کر لیا لیکن

تاحال زمیندار عبدالرزاق عرف کالی جوئیہ کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ متاثرہ لڑکی

اوراس کے والد محمد امیر نے وزیراعلیٰ پنجاب سے انصاف اور تحفظ دلائے

جانے کی اپیل کی ہے۔

=–= بچوں سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–= )

کم سن بچیوں اور بچوں سے زیادتی کے واقعات میں گذشتہ ایک برس کے دوران

ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے غیر سرکاری تنظیم نے ایک رپورٹ مرتب

کی گئی جس کے مطابق گذشتہ سال کے دوران 1510 بچیاں جبکہ 1450 بچے

جنسی تشدد کا شکار ہوئے۔ کم عمری کی شادی کے 119 واقعات جبکہ 7 واقعات

میں بچیوں کو ونی کیا گیا ہے، 50 بچوں اور بچیوں کو مدرسہ جات میں جنسی

تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس طرح بچوں کو ہسپتال، ہوٹل، کار، کلینک، کالج،

فیکٹری، جیل، پولیس سٹیشن، شادی ہال، قبرستان اور دیگر کئی جگہوں پر بھی

جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 2020ء کے دوران بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات

سب سے زیادہ صوبہ پنجاب میں کُل 1707 رپورٹ ہوئے، صوبہ سندھ میں 861،

صوبہ بلوچستان میں 53، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 102، خیبر پختون خوا

میں 215، آزاد کشمیر میں 18 اور گلگت بلتستان میں بچوں سے زیادتی کے 4

واقعات رپورٹ ہوئے۔

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

رپورٹ کے مطابق ایسے میں پولیس زیادتی کے واقعات کو روکنے کی جہاں

کوشش کر رہی ہے وہیں ملزمان کی نشاندہی کے باوجود انہیں گرفتار کرنے میں

اکثر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ معمولی ملزمان سے لے کر اثر و رسوخ رکھنے والے

ملزمان کم سن بچیوں، لڑکیوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بھی سر

عام گھومتے ہیں۔

بچی زیادتی گینگ ریپ

Leave a Reply