oh my God jtn-online

بچوں کیلئے میٹھا زہر، نوجوانوں کو اندر سے کھوکھلا کرنیوالے مشروبات

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جے ٹی این آن لائن ہیلتھ نیوز) بچوں کیلئے میٹھا زہر

آج کل انرجی ڈرنکس اور سافٹ ڈرنک کا ضرورت سے زیادہ استعمال عام ہو رہا

ہے۔ جو نوجوان اور بچوں کی صحت میں پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ اسمیں موجود

کیفین اور دیگر عناصر نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سکولوں، مدارس میں کولڈ ڈرنکس کے استعمال پر پابندی
——————————————————————————–

ایک تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ سافٹ ڈرنکس کا استعمال نظر کی

خرابی، دل کے امراض، جگر اور گردوں کی خرابی کا سبب بن رہے ہیں۔ صر ف

امریکہ میں ہر سال نو بلین ڈالر سافٹ ڈرنک پر استعمال کیے جا رہے ہیں، اور

اتنی ہی تیزی سے بیماریاں بھی پیدا ہورہی ہیں۔

مشروبا ت ذہنی و جسمانی تندرستی اور کارکردگی کو متاثر کرنے کا باعث

سافٹ ڈرنک بنانے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ مشروبا ت ذہنی اور جسمانی

تندرستی اور کارکردگی کو متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ بچوں میں سافٹ ڈرنک

کے استعمال سے ذیابیطس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔

کولڈ ڈرنکس بچوں میں کینسر کا موجب

پاکستان میں رجسٹرڈ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 70 فیصد سے زیادہ ہے۔

جبکہ اتنے ہی فیصد تعداد وہ ہے جو غیر رجسٹرڈ ہے اور اپنی بیماری سے بے

خبر ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنک کا استعمال بچوں کیلئے ایک

میٹھے زہر کا کام کرتا ہے۔ جوان کو اندر سے کھو کھلا کر رہا ہے۔ ان سافٹ

ڈرنک اورجنک فوڈ کا استعمال بچوں میں خصوصاً دس سے بارہ سال کے دوران

کے بچو ں میں کینسر کا باعث بن رہا ہے۔

کھانا ہضم کرنے کا نہیں تیزابیت پیدا کرنے کا سبب

عموماً ہم کھانا کھانے کے فوری بعد کولڈ ڈرنک کا استعمال کرتے ہیں جو صحت کیلئے انتہائی مضر ہے۔ یہ ڈرنک کھانا ہضم کرنے کے بجائے معدے میں تیزابیت پیدا کرتے ہیں اور موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر اور دل کےامراض کا سبب بنتے ہیں۔ اسلیے حتی المکان کوشش کریں کہ ان ڈرنکس کا استعمال کم سے کم بلکہ نا ہونے کے برابر کریں کیونکہ صحت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

آپ کی صحت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے

اچھی صحت زندگی کی دوڑ میں دور تک لے جانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ٹوٹی پھوٹی صحت کیساتھ زندگی میں آگے بڑھ سکیں گے تو یہ ناممکن سی بات ہے۔ آپ کی صحت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

بے جا کولڈ ڈرنکس کا استعمال موت کو دعوت

خود کو صحتمند رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہر اچھی بری چیز کے بے جا استعمال کے باوجود آپ صحتمند رہ سکتے ہیں تو یہ ناممکن بات ہے۔ ہر چیز اعتدال میں اچھی لگتی ہے۔ اسی طرح انرجی ڈرنک کا بے جا فالتو استعمال آپ کو صحت مند رکھنے کے بجائے آپ کیلئے خود ہاتھوں سے خریدی ہوئی مو ت ہے۔ جسے آپ قطرہ قطرہ اپنے اندر انڈیل رہے ہیں۔

پیاس کی شدت میں کمی ، گردوں کیلئے نقصان دہ

ان مشروبات کی وجہ سے آپ پانی کا استعمال کم کرتے ہیں۔ کیونکہ ان فیک مشروبات کی وجہ سے آپ میں پیاس کی شدت ختم ہو جاتی ہے۔ اور یہی مشروبات آپ کے اندر مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ مشروبات کا بے جا استعمال آپ کے اندر درج ذیل بیماریوں کو پیدا کرتا ہے۔ کیفین والے مشروبا ت سے متلی اور قے ہونے کے خدشات ہوتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ متلی اور قے کو روکتے ہیں تو یہ سوچ انتہائی غیر مناسب ہے۔

پیٹ کی بیماریوں کا بھی سبب

بعض شربتوں میں ایسے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں۔ جو وقتی طور پر توانائی تو فراہم کرتے ہیں لیکن بعد میں یہ پیٹ کی بیماریو ں کا سبب بنتے ہیں۔ مشروبا ت میں انوسیٹول ہوتا ہے جو ڈائریا یعنی اسہال اور پیچش کا سبب بنتے ہیں۔

حاملہ خواتین کیلئے کیمیکلز انتہائی مضر

حاملہ خواتین کیلئے یہ کیمیکلز اتنہائی نقصان کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ حاملہ خواتین میں پیٹ اور جگر کے امراض کا موجب بنتے ہیں۔ بعض مشروبا ت زیادہ پیشاب آور ہوتے ہیں جو گردوں کے امراض کا سبب بنتے ہیں۔ کیوکہ گردوں کو زیادہ سے زیادہ پانی فلٹر کرنا پڑتا ہے جو گردے کی نالیوں اور نیفر ونز کو ناکارہ کر دیتے ہیں۔

گھریلو مشروبات صحت کیلئے مفید

بچوں میں ان ڈرنک کا استعمال ان کی نشوونما کو روک دیتا ہے۔ اس لیے حد درجہ کو شش کریں کہ ان ڈرنکس سے دور رہا جا سکے۔ ان کے بجائے گھریلو اور قدرتی مشروبات کا استعمال کریں۔ جیسے آم، اسٹرابری، انار، سیب، کیلا ان کے ملک شیک کا استعمال نہ صرف آپ کو صحتمند بناتا ہے بلکہ آپ کو دن بھر توانا بھی رکھتا ہے۔ اسلیے بازاری مشروبا ت کے بجائے گھر کے مشروبات کو ترجیح دیں یہ آپ کی اچھی صحت کا ضا من ہوتے ہیں۔

——————————————————————————
دوستو : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————

بچوں کیلئے میٹھا زہر

بچوں کیلئے میٹھا زہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply