sachi kahaniya jtnonline

ڈانٹ پر بچوں کا بہیمانہ انتقام، بے شرم بیٹی اور جنسی درندہ

Spread the love

حافظ آباد، لاہور، پاکپتن (جے ٹی این آن لائن پنجاب نیوز) بچوں کا بہیمانہ انتقام

صوبہ پنجاب حافظ آباد میں درندہ صفت شخص نے چھ سالہ بچی کو اغواء کر کے

زیادتی کا نشانہ بنانے بعد قتل کر دیا اورمعصوم کی لاش مسجد کے قریب دفن

کرکے فرار ہو گیا جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کر کے اس کی نشاندہی پر

کمسن کی لاش برآمد کر لی۔ پوسٹمارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بچی سے زیادتی

اور جسم پر زخموں کے نشانات کی بھی تصدیق ہو گئی ہے- ادھر صوبائی

دارالحکومت لاہور کے علاقہ شاد باغ میں بیٹی کو دوست کیساتھ دیکھ کر ماں بیٹی

میں تلخ کلامی ہونے پر بوائے فرینڈ نے فائرنگ کر کے گرل فرینڈ کے سامنے 50

سالہ ماں کو گولیوں سے چھلنی کر کے ابدی نیند سُلا دیا، جبکہ ضلع پاکپتن کی

تحصیل عارف والا میں چند روز قبل زہریلا کھانا کھانے سے ماں اور چار بچوں

کی ہلاکت کا ڈراپ سین ہو گیا، مقتول بچوں کے نوعمر کزن واقعے میں ملوث

نکلے-

=-،-= سچی کہانیوں کے عنوان کے تحت مزید (=-= سٹوریز =-=)

تفصیلات کے مطابق حافظ آباد کے علاقہ کالیکی میں درندہ صفت ملزم شاہد نے

غریب محنت کش محمد یونس کی چھ سالہ بیٹی ثمن فاطمہ جو گھر کے باہر کھیل

رہی تھی پہلے اسے اغواء کیا پھر زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعدازاں پر جرم

چھپانے کیلئے کمسن کو بیدردی سے قتل کر کے لاش مسجد کے قریب گھڑا کھود

کر دفن کر دی۔ مقتولہ کے ورثاء اس کی تلاش کرتے رہے لیکن وہ کہیں سے نہ

ملی، شک ہونے پر ورثا نے مقامی پولیس کو ملزم کے بارے میں اطلاع دی جس

پر پولیس نے ملزم شاہد کو گرفتار کر لیا، دوران تفتیش ملزم نے جرم کا اعتراف

کرتے ہوئے بچی کو دفن کرنے کی نشاندہی کی جس پر لاش برآمد کر لی گئی۔

=–= خواتین سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

مقتولہ کے والد محمد یونس اور رشتہ داروں نے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے

سفاک نوجوان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے

ملزم سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے مقتولہ بچی

کا پوسٹمارٹم مکمل کر لیا گیا جس میں بچی سے زیادتی اور جسم پر زخموں کے

نشانات بھی پائے گئے ہیں، تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے بچی کے جسم سے لیے جانے

والے نمونے ٹیسٹ کے لیے لاہور لیبارٹری بھجوائے جائیں گے۔ پولیس ذرائع کے

مطابق ملزم شاہد کا فرازنک لیب لاہور سے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا جائیگا،

کیس کی تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے۔ دوسری جانب ایڈیشنل

ڈپٹی کمشنر نورش صباء نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا اور مقتولہ کے ورثاء

سے ملاقات کی اوران سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ انصاف فرام کیا

جائیگا، بچی کیساتھ ظلم کرنے والا کسی صورت قانون سے نہیں بچ پائے گا۔

=-،-= صوبہ پنجاب سے متعلق مزید خبریں ( =،= پڑھیں =،=)

تھانہ شاد باغ لاہور کی پولیس کے مطابق 50 سالہ نسیم بی بی شادباغ میں اپنی بیٹی

ثناء سے ملنے آئی تو وہاں اس کے دوست حیدر کو دیکھ کر مشتعل ہو گئی، ماں

بیٹی میں تلخ کلامی ہوئی تو ملزم حیدر نے نسیم بی بی پر فائرنگ کردی، زخمی

نسیم بی بی کو ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گئی۔ پولیس کا

کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ثناء اور ملزم حیدر فرار ہو گئے جن کی گرفتاری کے

لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

=-،-= بچوں کی انتقامی کارروائی نے پورا خاندان اُجاڑ دیا

عارف والا کے نواحی گاﺅں 143 ای بی میں 8 روز قبل راؤ توفیق کی فیملی نے

اچار اور پراٹھوں کا ناشتہ کیا تھا، جس کے بعد ماں اور اس کے چار بچوں کی

حالت غیر ہو گئی، تمام افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔ پولیس

نے اچار اور گھی سمیت دیگر اشیاء فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھجوائیں تو ان میں

زہر کے شواہد مل گئے جس پر پولیس نے شک کی بنیاد پر مقتول بچوں کے کزن

حمزہ اور علی عظیم کو حراست میں لیا تو انہوں نے اعتراف جرم کر لیا۔ پولیس

حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم حمزہ کو اس کی ممانی نے ڈانٹ پلائی تھی جس کی

رنجش پر اس نے علی کی مدد سے ان کے کھانے میں زہریلی گولیاں ملانے کا

منصوبہ بنایا۔ مقتول بچوں کے والد توفیق کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بھانجے اور

بھتیجے کو خود پولیس کے حوالے کیا، ملزمان کو ان کے کیے کی سزا ملنی

چاہیے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقتول بچوں کے ماموں کی مدعیت میں مقدمہ

بھی درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

بچوں کا بہیمانہ انتقام ، بچوں کا بہیمانہ انتقام ، بچوں کا بہیمانہ انتقام ، بچوں کا بہیمانہ انتقام

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply