186

بچوں سےبد اخلاقی ،مجرم کوسرعام پھانسی کی قرارداد منظور،پیپلز پارٹی کی طرف سے شدید مخالفت

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی میںبچوں سے زیادتی

کے مرتکب مجرموں کو سرعام پھانسی د ینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور

کرلی،قرار داد وزیر مملکت علی محمد خان نے پیش کی ۔قرارداد کے متن میں کہا

گیا کہ بچوں کوزیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والوں کو سرِعام پھانسی دی

جائے۔ایوان میں اس قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جب کہ اپوزیشن

جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت

کی گئی۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ لاش کو سرعام لٹکانے پر پوری دنیا سے

مخالفت سامنے آ سکتی ہے،پھانسی کی سزا ممکن نہیں کیونکہ پاکستان پر اقوام

متحدہ کے قانون لاگو ہوتے ہیں اور کوئی بھی معاشرہ اس کو قبول نہیں کریگا۔

حکومت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ملک میں جرائم کی شرح میں کمی جبکہ سائبر

کرائمز میں اضافہ ہورہا ہے، ملک میں4کروڑ67لاکھ سے زائد پاکستانیوں

،6496سفارتی اہلکاروں اور3لاکھ24ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کے پاس

بلیو پاسپورٹ ہے،ایک سال کے دوران حکومت نے 7لاکھ58ہزار242پاکستانیوں

کو روزگار کیلئے خلیجی ممالک میں بھیجا،انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت

ابتک84 تنظیموں کوکالعدم اور337افراد کی بیرون ملک جانے پر پابندی لگائی

ہے،گزشتہ 11سال کے دوران2111غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر پاکستانی

شناختی کارڈدئیے گئے،جس پر240ملازمین کو برطرف کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت علی محمد خان، شہریار

آفریدی،پارلیمانی سیکرٹری صائمہ ندیم نے ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے

ہوئے کیا۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکرقاسم سوری کی زیر

صدارت ہوا۔وقفہ سوالات کے دوران تحریک انصاف کی رکن اسمبلی نفیسہ عنایت

اللہ خٹک کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر مملکت

علی محمد خان نے کہا کہ گزشتہ3سالوں کے دوران انسانی اعضا کی سمگلنگ

کیخلاف14مقدمات درج کئے گئے اور74افراد کو گرفتار کیا گیا، ملک میں اعضاء

کی غیر قانونی تجارت کے کیسز میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا ۔ رکن اسمبلی

چوہدری محمد حامد حمید کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی

سیکرٹری صائمہ ندیم نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا دروازہ کھل

چکا ہے اور حالیہ میچوں کے دوران 12ہزار سیکیورٹی اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے

رہے ہیں۔ رکن اسمبلی فہیم خان کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی

سیکرٹری نے کہا کہ سپورٹس کی تمام فیڈریشنز خود مختار تھیں اور وہ اپنے فنڈز

خود پیدا کرتی ہیں۔ رکن اسمبلی شمیم آرا پنہوار کے ضمنی سوال کا جواب دیتے

ہوئے وزیرمملکت علی محمد خان نے کہا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں

نئے ڈسٹ بن لگانے کیلئے میٹروپولیٹن کارپوریشن نے سی ڈی اے کو فنڈز فراہمی

کیلئے لکھا ہے۔رکن اسمبلی علی نواز اعوان نے کہا کہ میئر کا تعلق مسلم لیگ (ن)

سے ہے اور وہ فنڈز استعمال نہیں کرتے ہیں، اسلام آباد کا کوڑا ایک سیکٹر میں

ڈالا جاتا ہے اور کوئی نظام نہیں ہے،اس وقت سینی ٹیشن ورکرز تنخواہیں نہ ملنے

کی وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ رکن شمیم آراء پنہوار کے سوال کے جواب

میں وزارت داخلہ نے اپنے تحریری ضواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ ملک

میں9کروڑ70لاکھ 36ہزار318لوگوں کے پاس پاوسپورٹ ہے جبکہ

4کروڑ67لاکھ5ہزار264پاکستانیوں کے پاس بلیو پاسپورٹ،6496سفارتی اہلکاروں

اور3لاکھ24ہزار558سرکاری ملازمین کے پاس بلیو پاسپورٹ ہے۔ ایک اور سوال

کے جواب میں وزارت سمندر پا پاکستانیز نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو

آگاہ کیا کہ اگست2018سے دسمبر2019تک 7لاکھ58ہزار242پاکستانیوں کو

روزگار کیلئے خلیجی ممالک میں بھیجا۔رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی کے ضمنی

سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیرمملکت علی محمد خان نے کہا کہ جموں و کشمیر

ہائوسنگ سوسائٹی میں 7ارب روپے کا گھپلا ہوا ہے اور اس انکوائری سے متعلق

درخواست ڈپٹی کمشنر کو چلی گئی ، سوسائٹی کے حسابات کا آڈٹ کیا جا رہا ہے

اور فراڈ میں ملوث سوسائٹی کے سابقہ عہدیداروں کے نام بھی ڈپٹی کمشنر کو

بھجوا دیئے ہیں۔رکن اسمبلی عبدالاکبر چترالی کے ضمنی سوال کا جواب دیتے

ہوئے وزیرمملکت علی محمد خان نے کہا کہ ملک میں جرائم کی شرح میں کمی ہو

رہی ہے جبکہ سائبر کرائمز میں اضافہ ہورہا ہے، حکومت جرائم کے خلاف ہر

سطح پر اقدامات کر رہی ہے، جرائم کے خاتمے کیلئے ممبر و مسجد کو بھی اپنا

کردار ادا کرنا چاہیے ۔ رکن اسمبلی نفیسہ عنایت اللہ خٹک کے ضمنی سوال کا

جواب دیتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر

میں بچوں سے زیادتیوں کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کئے جا رہے

ہیں، زینب الرٹ بل میں بچوں سے زیادتی کے ملزم کیلئے سزائے موت کی تجویز

دی گئی تھی مگر پیپلز پارٹی کے ممبران نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کا

کہ بعض اوقات ملک میں ایسی قانون سازی لائی جاتی ہے جس کی پشت پر بین

الاقوامی این جی اوز ہوتی ہیں جو سزائے موت کی مخالفت کرتی ہیں۔ انہوں نے

کہا کہ بچوں سے زیادتی کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، مجرم کا تعلق

کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں ہوتا ہے، اجلاس کے دوران وزیرمملکت علی

محمد خان نے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزمان کو سرعام پھانسی دے کر ان

کی لاش کو لٹکانے کے حوالے سے قرارداد پیش کی جس پر رکن اسمبلی راجہ

پرویز اشرف نے کہا کہ محض سزائے بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاش کو سرعام لٹکانے پر پوری دنیا سے مخالفت سامنے آ سکتی

ہے، حکومت ایسے اقدامات سے گریز کرے۔ پھانسی کی سزا ممکن نہیں کیونکہ

پاکستان پر اقوام متحدہ کے قانون لاگو ہوتے ہیں اور کوئی بھی معاشرہ اس کو قبول

نہیں کریگا۔ پیپلزپارٹی رہنما نے تجویز دی کہ سزا سخت کر دیں مجرم کو اتنی سزا

دیں کہ جیل میں مر جائے۔ اس موقع پر ایوان نے قرارداد کی کثرت رائے سے

منظوری دے دی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین نے قرار داد کی مخالفت کی۔

رکن مولانا عبدالاکبر چترالی کے سوال کے جواب مین وزارت داخلہ نے اپنے

تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ11بی

کے تحت ابتک84 تنظیموں کوکالعدم قرار دیا گیا ہے جبکہ انسداد دہشت گردی

ایکٹ کی دفعہ11 سی سی کے تحت337افراد کی بیرون ملک جانے پر پابندی

لگائی گئی۔ رکن نفیسہ عنایت اللہ خٹک کے سوال کے جواب مین وزارت داخلہ نے

اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ 2009سے2012تک 1637 غیر

ملکیوں نے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیا جبکہ 2013سے2018تک474 غیر

ملکیوں نے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیا۔غیر ملکیوں کو پاکستانی شناختی کارڈ

جاری کرنے کے الزام پر240ملازمین کو برطرف کیا گیا۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ

ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سرعام پھانسی سے متعلق قرارداد کی

بھرپورمذمت کرتا ہوں۔وفاقی وزیربرائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے

اپنی جماعت کی جانب سے پیش کی گئی بچوں سے زیادتی اورقتل کے مجرموں

کوسرعام پھانسی کی قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قوانین

تشدد پسندانہ معاشروں میں بنتے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ بربریت سے آپ

جرائم کے خلاف نہیں لڑسکتے جب کہ یہ انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

وزارت انسانی حقوق نے بھی بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سرعام سزائے

موت کی قرارداد کی مخالفت کر دی۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں

مزاری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج اسمبلی میں جو قرارداد آئی وہ حکومت کی

طرف سے نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ آئین میں ریپ کی سزا موجود ہے، لوگوں

کو کوئی تبصرہ کرنے سے قبل موجودہ قوانین پر نگاہ دوڑانی چاہیے، مسئلہ

صرف اس سزا کے اطلاق اور انصاف کی تیز فراہمی کا ہے، جس پر ہم اب توجہ

دے رہے ہیں۔شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں قرارداد انفرادی طور

پر پیش کی گئی تھی، مجھ سمیت کئی لوگ اس قرارداد کے خلاف ہیں، وزارت

انسانی حقوق اس قرار داد کی مخالفت کرتی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آج وہ

ایک میٹنگ کے باعث قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکی تھیں۔

Leave a Reply