بوم بوم کی گیم چینجرکے منظرعام پر آنے کا وقت …..؟

Spread the love

(جے ٹی این آن لائن….. خصوصی تجزیاتی رپورٹ)

قومی کرکٹ ٹیم کے سباق کپتان بوم بوم شاہد آفریدی نے چند روز قبل سماجی

رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر پہلے تواپنے ٹوئٹ میں اپنی اب بیتی کے گزشتہ ماہ کی

25 تاریخ کو ہمسایہ ملک بھارت اور پھر وطن عزیز میں 30 اپریل کومنظرعام پر

آنے کی خبر دے کر دنیائے کرکٹ کو چونکایا اور اب جبکہ ان کی اب بیتی منظر

پر آئی ہے تو اس میں بوم بوم نے جو انکشافات کئے ہیں اور کرکٹ لیجنڈز سمیت

کسی کھلاڑی کو بھی نہیں بخشا وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں ۔ بوم بوم آفریدی جاوید

میانداد، وقار یونس، شعیب ملک سمیت اہم کھلاڑیوں ہر سخت تنقید کرنے سمیت

کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے اپنی کتاب ” گیم چیننجر” میں لکھتے ہیں

پہلا ون ڈے کھیلا تو میری عمر 16نہیں 19 سال تھی۔ جاوید میاںداد کو میرے

بیٹنگ سٹائل سے نفرت تھی۔ 1999 میں چنئی ٹیسٹ سے پہلے نیٹ پریکٹس نہ

کرنے دی گئی۔ میاںداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا لیکن وہ چھوٹے آدمی ہیں۔ پریزنٹیشن

تقریب میں مجھ سے زبردستی تعریف کروائی گئی۔ وقار یونس سے متعلق شاہد

آفریدی کا کہنا تھا وہ میرے خلاف لابنگ کرتے تھے۔ وقار یونس اوسط درجے کے

کپتان اور خوفناک کوچ تھے۔ جب کوچ بنے تو ہر معاملے میں مداخلت کی اس لیے

ان سے اختلافات رہے۔ شعیب ملک سے متعلق انہوں نے کہا وہ کپتانی کے لیے فٹ

نہیں تھے لیکن ا سکے باوجود ان کو کپتانی دی گئی۔ شعیب ملک کانوں کے کچے

تھے اور برے لوگوں سے مشورے لیتے تھے۔ سلمان بٹ کو نائب کپتان بنانا بھی

غلط تھا۔ اعجاز بٹ وقار یونس کی باتوں میں آ گئے تھے، وسیم اکرم اور وقار

یونس کے تعلقات ہمیشہ کشمکش کا شکار رہے۔ شاہد آفریدی نے ایک اور اہم

انکشاف کیا ہے کہ اسپاٹ فکسنگ سکینڈل کا پہلے سے ہی علم تھا۔

مظہر مجید نے فون مرمت کے لیے ایک دکان پر دیا تھا اور اتفاق سے دکان کا

مالک میرے دوست کا دوست نکلا، مظہر مجید کے فون سے پاکستانی کھلاڑیوں

کو کیے گئے پیغامات ملے۔ ٹیم مینجمنٹ کو ثبوت دکھائے مگر کوئی ایکشن نہ لیا

گیا۔ میں نے یہ پیغامات وقار یونس سے بھی شئیر کیے۔ میجنمنٹ یا تو خوفزدہ تھی

یا پھر اسے ملک کے وقار کا خیال تھا۔ یاور سعید نے پیغامات دیکھ کر بے بسی کا

اظہار کیا۔ یاور سعید نے مجھ سے پیغامات کی کاپی مانگنے کی بھی زحمت نہ کی۔

عبدالرزاق نے بھی سلمان بٹ، محمد عامر اور آصف پر شک کا اظہار کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے قومی ہیرو بوم بوم شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں ممکن

ہے سب کچھ سچ لکھا ہو اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن ان کی

کتاب میں کئے گئے انکشافات، باتیں جہاں لمحہ فکریہ ہیں وہیں یہ بات بھی قابل

غور ہے کہ اس کتاب کو منظر عام پر لانے کیلئے ایک ایسے وقت کا انتخاب کہیں

آمدہ ورلڈ کپ میں شاہینوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے یا انہیں ملکی کرکٹ میں

جاری سیاست کے چنگل سے آزادی دلانے کیلئے تو نہیں کیا گیا کیونکہ ایسی

باتوں کے یوں منظر عام پر لانے کے منفی اور مثبت دونوں اثرات وطن عزیز کی

کرکٹ پر ظاہر ہوسکتے ہیں ، تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بوم بوم آفریدی

کو کم از کم اس کا خیال ضرور کرنا چاہیے تھا تاکہ قومی کرکٹ ٹیم پر ورلڈ کپ

جیسے اہم ترین ایونٹ کے موقع پر اضافی بوجھ ڈالتے کیونکہ جب کوئی بات ہو تو

اس پر سوالات ، بحث مباحثہ ،تو تکار ، حق اور مخالفت میں بیانات ضرورسامنے

آتے ہیں . اس کے ساتھ ہی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی شاہینوں کوبوم

بوم کی “گیم چینجر” کو یکسر نظر انداز کر کے ایسے ہی کارکردگی کا مظاہرہ

کرتے رہنا چاہیے جیسے انہوں نے گوروں کی سرزمین پر اپنے تینوں پریکٹس

میچوں میں کیا ہے . کیونکہ یہی وقت کا تقاضا ہے تاکہ اغیار اور ارض پاک کے

دشمنوں کو کسی قسم کا کوئی موقع ہاتھ نہ آسکے .

Leave a Reply