بنگلہ دیش میں خونیں انتخابات ، حسینہ واجد کی پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب،اپوزیشن نے نتائج مسترد کر دیئے

Spread the love

بنگلادیش میں ہونےوالے انتخابات خونیں ثابت ہوئے جن مین پولنگ کے روز 18افراد ہلاک اور 900سے زائد زخمی ہو گئے ان انتخابات میں برسراقتدار شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کر لی ، حکمران جماعت 300 میں سے 241 نشستیں حاصل کرکے ایک بار پھر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ،بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی سربراہی میں اپوزیشن اتحاد اب تک صرف 7نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوا ،اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن نتائج کو مسترد کر دیا اور غیر جانبدار حکومت کی نگرانی میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے، بی بی سی اور دوسری بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق گزشتہ روز جب پولنگ شروع ہوئی تو ملک بھر میں سیکڑوں پولنگ سٹیشنز پر حکومتی جماعت کی مبینہ دھاندلی کےخلاف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے احتجاج کیا ان ہنگاموں اور مار کٹائی میں متعدد جگہوں پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئیں زیادہ تر ہلاکتیں پولیس فائرنگ اور حکومتی جماعت کے کارکنوں کے حملوں میں ہوئیں ان جھڑپوں میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے کئی امیدوار بھی زخمی ہوئے جبکہ ہلاک ہونےوالے زیادہ تر افراد کا تعلق بھی اپوزیشن جماعتوں سے ہے، انتخابات میں مجموعی طور پر 57 امیدواروں نے بائیکاٹ بھی کیا ۔حکومت نے پروپیگنڈا روکنے کے نام پر انٹرنیٹ سروس بند رکھی جبکہ بی بی سی کے مطابق اس کے نمائندے نے الیکشن سے قبل چٹاگانگ شہر میں بھرے ہوئے بیلٹ باکس دیکھے ہیں۔خبرایجنسی کے مطابق اپوزیشن رہنما کمال حسین نے الیکشن کمیشن دھاندلی زدہ نتائج کو کالعدم قرار دےدیا اور غیر جانبدار حکومت کی زیرنگرانی نئے انتخابات کرائے کا مطالبہ کیا ہے ۔

Leave a Reply