بنوں میں تاجروں کی مہنگائی کیخلاف آذانیں، علماء کا شرعی موقف

بنوں میں تاجروں کی مہنگائی کیخلاف آذانیں، علماء کا شرعی موقف

Spread the love

پشاور(بیورو چیف، عمران رشید خان) بنوں میں تاجروں کی

Journalist Imran Rasheed

بنوں کے تاجروں نے مہنگائی و بیروز گاری کیخلاف انوکھا احتجاج شروع کر

دیا، صبح صبح کاروباری مراکز اور دُکانیں کھولنے سے پہلے آذان دینے لگے،

تاجروں کا اس ضمن میں موقف یہ ہے کہ جب بھی کوئی آفت یا گھمبیر حالات

آتے ہیں تو آذان دینے کا حکم آیا ہے، تاجر رہنماؤں چیمبر آف کامرس کے صدر

شاہ وزیر خان، غلام قیباز خان، ناصر خان اور دیگر رہنماؤں نے کہا اُنہوں نے

مہنگائی کیخلاف سڑکوں پر طویل المدت احتجاج ریکارڈ کیا مگر حکمرانوں

کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، اب ہم نے اللہ سے رجوع کر لیا ہے کیوں

کہ ہر آفت و بلا سے نجات پانے کیلئے آذان ہی واحد ذریعہ ہے اور ہم نے اس پر

عمل شروع کر دیا ہے، موجودہ حکومت ژالہ باری اور زلزلے زیادہ آفت ہے-

=-،-= مہنگائی ضرور، آذان دینے کا کوئی شرعی ثبوت نہیں، نظریاتی کونسل

دوسری طرف اسلامی نظر یاتی کونسل کے ممبر سید مولانا نسیم علی شاہ نے

بتایا کہ ملک میں مہنگائی ضرور ہے لیکن اس قسم کے حالات میں آذان دینے کا

کوئی شرعی ثبوت موجود نہیں، البتہ ماحولیاتی آفات کے دوران ثواب کی نیت

سے آذان دی جا سکتی ہے، اسی طرح بچہ پیدا ہو تو اُس کے کان میں آذان دی

جاتی ہے، دوسرا یہ کہ مہنگائی کے خلاف اس طرح کی اجتماعی آذانیں بھی

دینے کا کہیں پر ثبوت موجود نہیں، جو تاجروں نے احتجاج کے طور پر شروع

کر دیا ہے، صرف انفرادی آذان دینے کا حکم ہے، لہذا ان معاملات میں سوج

بُوجھ کیساتھ قدم اُٹھانا پڑیگا، لہذا اس طرح کی آذانیں دینے سے گریز کیا جائے۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

بنوں میں تاجروں کی ، بنوں میں تاجروں کی ، بنوں میں تاجروں کی

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply