بنام اہل پاکستان ،،،،،

Spread the love

(تحریر:… ابو شجیعہ)
ہم وطنو! گزشتہ روز ہم سب نے بڑے جوش و جذبے سے یوم پاکستان منایا،اس

عظیم دن کے کیا تقاضے ہیں اور کیا ہم وہ پورے کرتے چلے آ رہے ہیں یا نہیں

یقینا گزری رات ہم نے اس سوال کا جواب خود سے ضرور مانگا ہو گا،

قرارداد پاکستان 1940ء: 23مارچ کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ برصغیر پاک و ہند

کے مسلمانوں نے رنگ و نسل، زبان و ذات اور فرقہ کی تعریف کے بغیر صرف

اپنے دین، اللہ و رسولؐ کے نام پر ایک عہد باندھا، ایک وعدہ کیا کہ وہ ایک ایسی

مملکت تخلیق کریں گے جہاں دینِ محمدیؐ نافذ کرکے اپنے تہذیبی و ثقافتی اور

دینی افکار و نظریات کے مطابق اپنی زندگیاں گزاریں گے، جہاں اقلیتوں کے

حقوق کی پاسداری کی جائے گی، ان کے جان و مال کو مکمل سلامتی حاصل ہو

گی۔ یہ وعدہ جب قرارداد لاہور کی شکل میں سامنے آیا تو ہندوئوں نے اسے

قراردادِ پاکستان کا نام دیا۔ پھر اسے ایک علیحدہ مملکت کی قرارداد قرار دیا اور

اس طرح یہ قرارداد، قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہو گئی۔

اس قرارداد کو عملی شکل دینے کے لئے ، اسے نافذ العمل کرنے کے لئے ہندی

مسلمانوں نے مل جل کر جدوجہد کی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے اور محمد

علی جناحٌ کی لازوال قیادت میں عظیم الشان جدوجہد کی گئی۔ عصرَ حاضر کی

سیاسی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیجئے، اس میں اس قدر واضح اور شفاف نظریئے

کو عملی شکل دینے کے لئے مختلف نسلی، لسانی اور ثقافتی گروہوں نے جس

طرح سیسہ پلائی دیوار بن کر جدوجہد کی اس کی مثال شاید نہ ملے ۔ بنگالی،

تہذیبی ، ثقافتی اور لسانی اعتبار سے مختلف تھے۔ بلوچوں، پشتونوں، پنجابیوں کے

درمیان بھی تفاوت پایا جاتا تھا۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے بھی

اپنی تہذیبی و ثقافتی پہچان رکھتے تھے اور پھر اس پر اصرار بھی کرتے تھے۔

فخر بھی کرتے تھے، لیکن یہ سب 23مارچ 1940ء کو اختیار کردہ لائحہ عمل پر

اس طرح گامزن ہوئے کہ تاریخ رقم کر گئے۔ صرف سات سال کی قلیل مدت میں

انہوں نے ایک نئی ریاست تخلیق کرکے دکھا دی۔ گزری صدی میں یہ پہلی ریاست

تھی جو کسی فکر، کسی نظریئے اور عقیدے پر تشکیل دی گئی تھی۔ پاکستان 14

اگست 1947ء کو وجود میں آ گیا ۔ اس کی ابتداء، فکر کی تشکیل 1930ء کے آل

انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الٰہ آباد میں ہوئی تھی۔ علامہ اقبالؒ نے

مسلمانوں کیلئے ہی نہیں، بلکہ برصغیر پاک و ہند کے وسیع و عریض خطے میں

بسنے والی اقوام کے درمیان امن و سکون کے لئے تجویز پیش کی، جسے نظریہ

پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ علامہ اقبالٌ نے تاریخی حوالوں سے یہ بات

ثابت کی کہ برصغیر میں بسنے والے مسلمان نظری، فکری اور تہذیبی لحاظ سے

یہاں بسنے والے ہندوئوں سے یکسر مختلف ہیں۔ ان کے ہیرو بھی مختلف ہیں، ان

کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ برصغیر کو ہندو اور

مسلم خطوں میں بانٹ دیا جائے، یہی نظریہ پاکستان ہے اور اسی بنیاد پر قرارداد

لاہور پیش کی گئی اور اسی بنیاد پر ہندوستان کی دو خطوں میں تقسیم عمل میں

لائی گئی۔

گزری صدی میں سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ بڑا واقع ہے۔ دنیا کے تین براعظموں پر

پھیلی مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت سکڑ سمٹ کر ختم ہو گئی، لیکن 1947ء

میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نظریاتی ریاست پاکستان کا قیام بھی ایک عظیم

الشان واقع ہے۔ سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں اتنی بڑی کامیابی کا حصول یقینا

ایک محیر العقول واقع ہے۔ انگریزوں کی غلامی اور ہندوئوں کی سازشوں کا

شکار ہندی مسلمانوں نے اگر عظیم الشان ریاست پاکستان بنا کر دکھائی تو یہ یقینا

ایک اہم واقع ہے۔

آج ہم 79سال کے بعد (23مارچ 1940ء کے بعد) پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو

ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے اجداد نے انتہائی نامساعد

حالات میں بھی یک جہتی اور جہد مسلسل کے ذریعے ایک نظریاتی ریاست قائم

کر دکھائی تھی، لیکن ہم حالات کی موافقت اور بے پناہ وسائل کی دستیابی کے

باوجود تعمیر و ترقی کی ان منازل تک نہیں پہنچ سکے، جہاں پہنچنا ضروری تھا

تو ہمارے سر شرم و ندامت سے جھکے ہونے چاہئیں۔ اس بارے میں کوئی شک

نہیں ہے کہ ہم نے تعمیر و ترقی کی کئی منازل طے کی ہیں۔ کئی ٹارگٹ حاصل

کئے ہیں، آج ہم یقینا 1947ء کے مقابلے میں بہت بلند مقام پر کھڑے ہیں۔پاکستان

اقوام عالم میں ایک اہم پوزیشن پر کھڑا ہے۔71ء کے سانحے کے باوجود ہماری

جغرافیائی اور عالمی حیثیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ مسلم امہ ہمیں یعنی پاکستان کو

اہم مقام پر دیکھتی ہے اور ہم ان کے لئے باعث تقویت ہیں۔ سعودی عرب کے 23

ممالک پر مشتمل ملٹری الائنس کو دیکھ لیجئے ، اس کی حیثیت اس وقت مستحکم

ہوئی جب جنرل راحیل شریف نے اس کی قیادت سنبھالی۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست

میں اسرائیل صرف پاکستان کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ عرب ممالک بھی

پاکستان کی عسکری قوت کے ذریعے احساس تحفظ پاتے ہیں۔ پاکستان کی افواج

وہاں اپنا کردار پہلے ہی ادا کرتی رہی ہیں۔

پاکستان تعمیر و ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔ غلطیوں، کوتاہیوں کے باوجود

عظمتوں اور رفعتوں کا سفر جاری ہے۔ طاقت اور قوت کے ساتھ، ہم آگے بڑھ

رہے ہیں۔ ہمارا دشمن، بلکہ ہمارے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ موقع ملتے

ہی ہمیں دبوچ لیں، ہمیں ہوشیار رہنا ہے۔ ہمیں 23مارچ1940ء کا سبق یاد رکھنا

ہے، کہ نظریہ پاکستان ہی ہمارے قیام کا باعث تھا اور یہی نظریہ ہماری بقاء کا

ضامن ہے۔ سیاسی و نظریاتی بالغ النظری کے ذریعے جہد مسلسل ہمیں کامیابی

و کامرانی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ ایک بار پھر آزمائش شرط ہے۔

گزشتہ روزہم نے بحیثیت قوم قرارداد پاکستان (یوم پاکستان) کی 79ویں سالگرہ

“پاکستان زندہ باد” کے نعرے (سلوگن) کے تحت بڑی شان و شوکت سے منائی ہر

چہرہ شاداں نظر آیا ، برادر اسلامی ملک ملائیشیا کے سربراہ اور عظیم عالمی

رہنما ڈاکٹر مہا تیر محمد خصوصی طور پر ہماری اس خوشی میں شرکت کیلئے

آئے ، دیگر اسلامی ممالک کے خصوصی نمائندوں نے بھی شرکت کی جبکہ

ہمسایہ اور لازاول دوست ملک چین نے تو اپنے لڑاکا طیاروں کا دستہ تک ہماری

خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے بھیجا جنہوں نے ارض پاک کی فضا میں دونوں

ممالک کے پرچموں کے زنگ بکھیر کر پاکستان سے حقیقی دوستی نبھانے کا

ثبوت دیا ، اس حوالے سے ہماری ذمہ داریوں میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے کہ

ہم ارض پاک سے وابستہ اپنے اسلامی اور دیگر دوست ممالک کی امن و استحکام

باہمی عزت ووقار کےلئے خود کو اس قدر مضبوط و مستحکم کریں کہ جس کی

عہد حاضر ہی نہیں مستقبل میں ضرورت ہے، یہ صرف اس وقت ہی مملکن ہے

جب ہم سب پاکستانی خلوص نیت کے ساتھ اپنا محاسبہ کریں ، خود میں موجود ہر

طرح کی خامیوں ، برائیوں ، کوتاہیوں کا ازالہ کرنے اور ارض پاک کیلئے ذاتی

مفادات کو بالائے طاق رکھ کر دن رات محنت کرنے کا مصمم عزم کرکے اس پر

عمل پیرا ہو جائیں .ورنہ ہم اسی طرح روتے اور کڑھتے ہی رہیں گے ملک میں

مہنگائی ہے ، بےروزگاری ہے ، کرپشن ہے ، لاقانونیت ہے ، اقربا پروری ہے ،

غریب امیر میں تفریق ہے ، ناانصافی ہے ، جہالت ہے ،بیماری ہے ، افلاس ہے.

Leave a Reply