Kud Kalami by Journalist Imran Rasheed Khan
Spread the love

بلدیاتی الیکشن پشاور بدمزگی

بلدیاتی انتخابات میں خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے میئر کی نشست پر

امیر ترین خاندانوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار مدمقابل ہیں۔ میئر کا تاج اپنے

سر سجانے کیلئے چار بڑی سیاسی جماعتوں کے امیر ترین امیدوار ایڑی چوٹی کا

زور لگا رہے ہیں۔ میئر پشاور سٹی کونسل کی نشست پر قسمت آزمائی کیلئے 17

امیدوار انتخابی اکھاڑے میں ہیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل

پارٹی، جمعیت علماء اسلام اور پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی شامل ہیں۔ سیاسی

حلقوں کے مطابق ان چاروں امیدواروں کے مابین ہی کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے-

= ضرور پڑھیں: خیبرپختونخوا بلدیاتی الیکشن پہلا مرحلہ، میدان سج گیا

خیبر پختونخوا ( کے پی کے) میں شیڈول بلدیاتی انتخابات سے ایک دن قبل ہی 18

دسمبر کو ڈیراسمٰعیل خان میں عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) کے میئر کے

امیدوار عمر خطاب شیرانی قتل کے واقعے اور دیگر اضلاع میں سیاسی جماعتوں

کے کارکنوں میں تصادم، سوشل میڈیا پر ووٹوں کی خرید و فروخت سمیت افغان

خود کش بمبار کی موجودگی جیسی غیر مصدقہ خبروں کے بعد دارالحکومت

پشاور کے شہری اور نواحی علاقوں میں مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف

کی جانب سے عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے جیسے واقعات کے رونما ہونے

کی وجہ سے عوامی حلقے شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے ہیں، جس کے

باعث صوبہ، بالخصوص پشاور میں آج ہونیوالے الیکشن میں خواتین ووٹرز کا ٹرن

آؤٹ انتہائی کم، جبکہ عمر رسیدہ ، اور معذور افراد کا اپنے گھروں میں ہی پولنگ

ٹائم ختم ہونے کا انتظار کرنے کا امکان ہے، جس کا نقصان حکمران جماعت کو

بھگتنا پڑ سکتا ہے-

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

صوبائی دارالحکومت پشاور میں اندرون شہر یوسی 15، این سی 33 میں حال ہی

میں یونین کونسل 13 کے تین محلے جن میں محلہ جیون مل، محلہ ظفر شہید اور

محلہ سمندر خان شامل ہیں، ان محلوں کی ووٹرز کی تعداد 12 سو ہے، جسے ملا

کر اس یوسی 15 میں ووٹرز کی کل تعداد دس ہزار سے زیادہ بنتی ہے، محلہ

سمندر خان میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن، درینہ نظریاتی شخصیت

صمد مرسلین کی رہائشگاہ واقع ہے، اگر صمد مرسلین کو صوبے میں پارٹی

چیئرمین عمران خان کو پہلا ویلکم کرنے اور پارٹی کیلئے بے شمار قربانیاں

دینے والا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، بلدیاتی انتخابات 2021ء میں اس یوسی 15

این سی 33 سے جاری امیدوار لسٹ کے مطابق، 6 پارٹی ٹکٹ سے جنرل سیٹ

کیلئے الیکشن لڑ نے والوں اور آزاد حیثیت سمیت 15 امیدوار آج مدمقابل ہیں۔

=-،-= سیاسی ورکرز کا سکول پر دھاوا، حلیم شیرازی و انکی اہلیہ

18 دسمبر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پولنگ سٹیشن میں آج ہونیوالی پولنگ کی

تیاریوں کیلئے مختلف پارٹیوں کے کارکن اور آزاد امیدواروں کے حامی موجود

تھے، اچانک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ون پشاور کے سابق پرنسپل، اور پاکستان

تحریک انصاف کے سابقہ کونسلر حلیم شیرازی پر دیگر پارٹیز کے کارکنوں نے

دھاوا بول دیا، اور ان سمیت ان کی اہلیہ جو کہ پریزائیڈنگ آفیسر بھی تھیں، پر

پری پول ریگنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید نعرہ بازی، ہنگامہ آرائی کی اور

شدید احتجاج کیا، یہ خبر فوری طور پر جنگل کی آگ کی طرح پورے پشاور میں

پھیل گئی، جس پر مختلف پارٹیوں کے رہنما بھی موقع پر پہنچ گئے-

=-،-= الیکشن کمیشن کا تحقیقات، ملوث افراد کیخلاف کارروائی کا عندید

پولیس نے سابق پرنسپل، پی ٹی آئی کے میڈیا سیل انچارج اور ان کی یریزاڈنگ

آفیسر اہلیہ کو تحویل میں لے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، زیرحراست حلیم

شیرازی کا کہنا ہے کہ وہ بیگناہ ہیں، اپنی بیوی سے ملنے آیا تھا، سیاسی انتقام کا

نشانہ بنایا جا رہا ہے، بیلٹ پیپر پر ٹھپے لگانے کے الزام میں کوئی صداقت نہیں۔

صوبائی الیکشن کمشنر شریف اللہ کا اس حوالے سے موقف یہ ہے کہ تحقیقات کے

بعد جو بھی ملوث ہو گا اس کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ پولنگ کیلئے نیا عملہ

تعینات کر دیا گیا ہے۔

=-،-= NC33 میں غیر یقینی صورتحال پر اُٹھنے والے سوال

اندرون شہر این سی 33 میں اچانک پیدا ہونیوالی اس غیر یقینی صورتحال کے

مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے، تو جہاں بہت سارے سوال ابھر کر سامنے آنے

لگتے ہیں، وہیں اس یوسی میں 18 دسمبر کے دن کا آغاز بھی ” اچانک اور غیر

یقینی صورتحال” کیساتھ ہوا، دونوں واقعات میں فرق تو تھا، لیکن دونوں میں پی

ٹی آئی اور پاکستان الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے الزام عائد کئے گئے، ایسا لگتا

ہے کہ پہلا سازشی وار تجرباتی بنیادوں پر کیا گیا، جس کے ناکام ہونے کے بعد

دوسری سازش نہ صرف کامیاب ہوئی، بلکہ پورے ملک میں اس وقت پی ٹی آئی

حکومت کے ماتھے پر بدنامی جھومر بن چکی ہے، ہفتے کے روز 12 بجے کے

قریب سامنے آنے والی کہانی کی شروعات اور اختتام بھی، ڈرامائی مگر پراسرار

اندازمیں ہوا- البتہ اندرونی کہانی کچھ اور ہی لگتی ہے-

=-،-= بیلٹ پیپر پر گٹار کی جگہ ویل چیئر کا نشان کا الزام –؟

واقعہ کچھ یوں ہے کہ اچانک یوسی 15 کریم پورہ این سی 33 کے سابق ناظم اور

موجودہ امیدوار برائے جنرل کونسلر سید مقصود علی شاہ نے بیلٹ پیپر پراپنے

انتخابی نشان ” گٹار ” کی بجائے ” ویل چیئر ” کے نشان کی موجودگی کا شور

مچا دیا، کچھ ہی دیر میں اپوزیشن پارٹیوں اور آزاد امیدواروں نے پشاور کی ایک

سیاسی شخصیت کے دفتر واقع نیو رامپوری گیٹ جمع ہو گئے، جہاں انہوں نے

مذکورہ بیلٹ پیپر کے بارے میں بتایا، اور الیکشن کمیشن جانے کا فیصلہ کیا، تاہم

دیگر تمام کونسلر واپس لوٹ گئے، کچھ دیر بعد باخبر ذرائع سے اطلاع موصول

ہوئی کہ اس حوالے سے کسی دوسری جگہ میٹنگ کرنا مناسب سمجھا گیا، لیکن

نامعلوم وجوہات کی بناء پر ایسا بھی نہ ہو سکا، بعدازاں پی پی پی کے ٹکٹ سے

منتخب سابق ناظم نے بتایا، الیکشن کمیشن نے دوبارہ پرانا انتخابی نشان شامل

کرنے کیلئے چھپائی شروع کردی ہے، اور یہ کام شام تک نمٹا دیا جائیگا، جبکہ

ایسا ممکن ہی نہیں تھا-

=-،-= سابق ناظم کے پاس بیلٹ پیپر کہاں سے آیا؟

دوسری اہم سوال یہ کہ سابق ناظم کے پاس بیلٹ پیپر کہاں سے آیا؟ تو ان کا جواب

تھا کہ ان کے گھر کی دہلیز سے اندر پھینکا گیا، تاہم وہ بعد ازاں اپنے بیانات بدلتے

رہے، جس اسے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوشش ناکام ہوگئی، اس کے بعد اب رات والا

واقعے میں سوال بنتا ہے ٹھپے لگانے کا فوری طور پر کیسے معلوم ہوا؟ ویڈیوز

میں کہیں ٹھاپہ لگا بیلٹ پیپر کیوں نہیں ملا، اور ایک دم پوری سیاسی قیادت کا

وہاں پہنچنا، ہلہ گلہ کرنا دال میں کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، جیسا کہ

سب کچھ پری پلان کیا گیا ہو، ویسے بھی یہ بات ہضم ہونے والی نہیں ہے-

=-،-= موجودہ بدمزگی،حکومت کیلئے مکافات عمل؟

کچھ اسی طرح کے الزامات پر مبنی واقع پہاری پورہ میں بھی رونما ہوا جہاں

مخالف پارٹیز کے رہنماؤں اور کارکنوں نے احتجاجاََ پشاور موثر وے ہر قسم کی

ٹریفک کیلئے بند کردیا، ان واقعات پر جہاں پارٹی رہنماؤں نے ذمہ دار ادارے کو

آن کیمرہ گالیاں دیں، تو سوشل میڈیا پر بھی ملا جلا ردعمل سامنے آیا، ایک ٹویٹر

صارف نے لکھا ماضی میں جیسے پی ٹی آئی حکومت نے دھاندلی کا شور مچاتے

ہوئے دھاندلی کی تھی، ٹھیک اسی طریقے سے مخالف سیاسی جماعتیں کرنے کو

پورے قد سے تیار کھڑی ہیں، لیکن حکومت کیلئے کنٹرول کرنا مشکل بن چکا

ہے، جس کی بڑی وجہ بیروز گار سیاسی پارٹیوں کا اس معاملے میں ایکا ہو سکتا

ہے- پشاور یوسی 15 این سی 33 میں پیدا ہونیوالے حالات پی ٹی آئی کی دھاندلی

کرانا ہے، یا مخالفین کا خوف کے مارے سازش کرنا، یہ تو واقعے کی مکمل

تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو گا، لیکن جہاں ایسے واقعات حکومت کی ناانصافی کا

مبینہ ثبوت بن چکے ہیں، وہیں آج ووٹر ٹرن آؤٹ کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں-

=-،-= اعلیٰ سیاسی شخصیت کی صائب تجویز،

ایک اعلی سیاسی شخصیت نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ کمزور

تحقیقات کے باعث معاشرے کے بہترین افراد میاں بیوی کا کیس بھی دیگر نامکمل

کیسز کی طرح سرد خانے کی نذر ہو جائیگا، ایک معلم شوہر اور اس کی معلمہ

بیوی کا ہمیشہ کیلئے کیئر تباہ ہوجائیگا، ایسی دیدہ دلیری کیساتھ ایک پریذائڈنگ

آفیسر سرعام ٹھپے لگانے کا کام انجام دے، کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں

ہوتے، یہاں بھی صورتحال ایسی لگتی ہے، انہوں نے ویب میڈیا کے توسط سے

حکومت کے سامنے ایک تجویز پیش کی کہ یونین کونسل 15 کریم پورہ کے تمام

کونسلرز کے ریکارڈز کی جانچ پڑتال کی جائے، تو سابق پرنسپل حلیم شیرازی

اور مخالفین میں ملک و قوم کی بہتری اور برائی کیلئے مگن عناصر کا پتہ چل

سکتا ہے، دوسری جانب اگر حکومت و انتظامیہ نے آج صوبہ کے 17 اضلاع کے

9223 پولنگ اسٹیشنز میں سے کسی پر بھی سکیورٹی حوالے سے غفلت کی تو یہ

خدا نخواستہ کسی بڑے سانحہ کو دعوت دینے کے مترادف ہو گی، اور بعد ازاں

صرف پچھتاوے کے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ ہم دعا گو ہیں آج خیریت کیساتھ

پولنگ کا عمل مکمل ہو، بلدیاتی نمائندے شفاف الیکشن کی بدولت منتخب ہوں تاکہ

عوام کو درپیش مسائل کے حل کی سبیل ہو سکے-

بلدیاتی الیکشن پشاور بدمزگی ، بلدیاتی الیکشن پشاور بدمزگی ، بلدیاتی الیکشن پشاور بدمزگی

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

Leave a Reply

%d bloggers like this: