بلاول کا ایک فقرہ ، “یو ٹرن” اور شیخو جی

Spread the love

(تجزیہ:….ابورجا حیدر)

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اورچیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو

زرداری کی قیادت میں ‘”کاروانِ بھٹو”‘ کا کراچی کے کینٹ سٹیشن سے روانہ

ہونے والا ٹرین مارچ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے، گزشتہ روز یہ ٹرین

مارچ جب کوٹری پہنچا تو مختصر قیام کے دوران بلاول بھٹو نے کارکنان سے

خطاب کرتے ہوئے کہا 40 سال پہلے غیر جمہوری قوتوں نے ذوالفقار علی بھٹو

کو تختہ دار پر لٹکا دیا لیکن انہوں نے اپنا سر نہیں جھکایا اور جان دے دی اور ‘یو

ٹرن نہیں لیا۔

“‘کاروانِ بھٹو”‘ مارچ میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد

موجود ہے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ٹرین کی بکنگ 10 لاکھ 51 ہزار چار

سو روپے میں کرائی گئی ہے۔ کاروان بھٹو ٹرین ایک لگژری سپیشل سیلون اور

ایک اے سی سلیپر سمیت 14 ڈبوں پر مشتمل ہے، ٹرین میں 8 اکانومی کلاس

بوگیاں اور دو پاور پیک انجن بھی شامل ہیں جبکہ سیکورٹی کے لیےگارڈز کی

دو بوگیاں بھی کاروان ٹرین کا حصہ ہیں۔ ٹرین میں اجلاس کے لیے میٹنگ روم،

کچن اور دیگر تمام سہولیات بھی موجود ہیں۔

ٹرین مارچ کے دوران بلاول بھٹو زرداری راستے میں 25 مختلف مقامات جن میں

شہید بے نظیرآباد،پڈعیدن، محراب پور، بھریا روڈ، رانی پور، خیر پور، روہڑی،

سکھر، حبیب کوٹ، مدیجی، سر شاہنواز بھٹو نوڈیرو اور لاڑکانہ شامل ہیں میں

خطاب کریں گے اور کارکنان کا لہو گرمائیں گے۔

قائد عوام ذولفقار علی بھٹو کے نواسے بلاول بھٹو زرداری زبان دانی کی مار کھا

گئے، لگتا ہے جو جملہ انہوں نے کہا وہ انگریزی میں کہتے تو شاید انداز مختلف

ہوتا،بہرحال اب وہ تنقید کی زد میں ہیں،حتیٰ کہ ان کی سیاست اور مستقبل کے

بارے میں بھی بات ہونے لگی ہے۔اگرچہ بلاول اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی

سیاست کا ابھی کوئی مقابلہ نہیں،تاہم ان کے بارے میں بات کرنے یا ان کے بیانیئے

پر تجزیہ کرنے والے تو محترمہ ہی کا حوالہ جانتے پہچانتے ہیں،ہم خود باخبر ہیں

اور ذاتی علم کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) اپنے بچوں

کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہتی تھیں اور وہ ان کو ہوم ورک تک خود

کرواتیں، لیکن یہ سب تو سکول تک تھا، کالج اور یونیورسٹی تک بات آئی تو

معاملہ مختلف ہو گیا،جس ایک بات پر مَیں غور کرتا ہوں اور مجھے اِس بارے میں

فیصلہ کرنے میں دِقت ہوتی ہے، وہ یہ کہ محترمہ نے اپنی سیاسی زندگی کا یوں

تو تحریراً اور تقریراً بھی تجزیہ کیا اور ذاتی رائے دی ہے، لیکن اِس بارے میں

خاموشی ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو اُردو کیوں نہ پڑھائی اور سندھی زبان کی

شدھ بدھ کیوں نہ کرائی کہ آج یہ بچے خود سے تربیتی مراحل سے گذر رہے ہیں۔

جہاں تک محترمہ بے نظیر بھٹو کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنے والد ذوالفقار علی

بھٹو کے دورِ اقتدار میں باقاعدہ طور پر اُردو پڑھی تھی اور وہ خود اُردو لکھ بھی

سکتی تھیں، خود محترمہ کو زبان کے حوالے سے تلخ تجربہ بھی تھا کہ وہ اچھی

طرح اُردو بولنے اور سمجھنے کے باوجود بھی زبان کے حوالے سے کچھ کمی

محسوس کرتی رہیں۔ مثلاً سرگودھا کے جلسہ عام میں تقریر کے دوران اذان کی

آواز آئی تو انہوں نے فوراً احتراماً تقریر ختم کر دی اور خاموشی اختیار کرتے

ہوئے کہا ’’اذان بج رہا ہے‘‘ مخالفین نے ان کا یہ فقرہ پکڑ لیا اور بہت تنقید کی،

تاہم وہ پرواہ کئے بغیر اُردو ہی میں تقریر کرتی رہیں، اب بلاول کے لئے بھی

مسئلہ ہے۔اگرچہ بلاول نے زبان و بیان پر بہت قابو پایا،مگر ابھی تک ’’مولوی

مدن‘‘ سی والی بات بنی نہیں،چنانچہ بلاول نے بھی نکتہ چینی کی تو ایسی بات

کہہ گئے جس پر احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ زبان کے مسئلے پر

بھی سوچ ہی رہے ہوں گے۔

ویسے بلاول نوجوان اور صحت مند ہیں، احساس ہوتا ہے ان کا خون گرم ہے

جسے سیاست کی ’’ٹھنڈ‘‘ کی ضرورت ہے اور ایسا کر لینا چاہئے۔

لیکن بھلا ہو گرم سیاست کا کہ اب ان سے کئی جملے ایسے سرزد ہو گئے،جو

تنقید کی زد میں ہیں،اور تحریک انصاف کے ٹائیگر بھی جا، و بے جا رگڑا لگانے

پر تلے بیٹھے ہیں، ان کو غور کرکے طرزِ عمل تبدیل کرنا چاہئے کہ نانا کے نام

سے طعنہ نہ ملے۔

یہ سب یوں یاد آیا کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات صمصام بخاری نے تنقید کی اور

کہا ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں کہ

’’شہید بے نظیر بھٹو کا بیٹا مودی کی زبان بولے‘‘ صمصام بخاری کی یہ تنقید

سخت ہونے کے باوجود مہذب انداز لئے ہوئے ہے اور انہوں نے اپنے پیشرو

چوہان صاحب کی ’’زبان‘‘ لوگوں کو بھلا دی، تنقید کا موقع پاتے ہوئے بھی وہ

احتیاط سے بولتے ہیں۔ یوں بھی وہ مجلسی آدمی ہیں اور محفل یاراں میں بریشم کی

طرح نرم ہونے کا احساس دِلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہرحال ان کی تنقید سے

ہمیں یاد آیا کہ کبھی وہ بھی تو تھے آشنا، ان کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو، پیپلزپارٹی میں

تو تھے ہی۔

بلاول بھٹو سے زباں کے ضمن میں ضرور اختلاف کیا جا سکتا ے لیکن انہیں

مودی کا یار یا بھارت کا ہمدرد کسی طور نہیں گردانا جا سکتا ، کیونکہ ایسا کسی

طور ممکن ہی نہیں ، جہاں تک ان کا لعدم تنظیموں کے حوالے سے موقف ہے وہ

کوئی نئی بات نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کا شروع دن سے یہی موقف چلا آرہا ہے البتہ

پی ٹی آئی کی قیادت کا موقف ضرور تبدیل ہوا ہے اس لیے بلاول بار بار “یو ٹرن”

کہہ رہے ہیں، کاش ریاست شروع دن سے مستقبل کو مدنظر رکھ کر اور دور

اندیشی پر مبنی پالیسیاں مرتب کرتی تو وطن عزیز کو آج ایسے مسائل درپیش نہ

ہوتے ،چلو دیرآید درست آید کے مصداق ہی سہی اب اگر ایسی تنظیموں جو بزور

طاقت ہمسایہ ممالک سمیت دیگر عالمی برادری سے اپنے مسائل اور تنازعات حل

کرنے کا نظریہ رکھتی ہیں کےخلاف کارروائی کا فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے تو

ماضی میں ایسی تنظیموں کو نکیل ڈالنے کا موقف اپنا نے والی جماعتوں اور ان

کی قیادت کی تنقید کو بھی برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ

غلطیوں کا ازالہ ہو سکے اور مادر وطن انتہا پسندانہ نظریات کی حامل قوتوں کے

چنگل سے آزاد ہو کر ایک ایسی فلاحی مملکت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے

کہ دنیا ششدر رہ جائے ، اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان پر بھاری ذمہ

داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی جماعت کے رہنمائوں اور کارکنوں کو اپنی زبانوں

کو لگام میں رکھنے کی ہدایت کریں ، ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

صاحب جو بذات خود پیپلز پارٹی کے انتہائی سینئر رہنما رہے ہیں اور زرداری

دور میں اسی منصب پر فائض رہے ہیں نے انتہائی مناسب اور قابل عمل تجویز دی

ہے کہ پارلیمنٹ میں مذکورہ مسئلے پر بحث و مباحثہ کر کے قومی اتفاق رائے پیدا

کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ اپنی سابقہ جماعت کے موقف اور اس وقت مخالفت

کرنے والی ریاستی قوتوں کی طرف سے پیپلز پارٹی پو پہنچنے والے نقصان سے

مکمل طور پر آگاہ ہیں اور اب اسی پیپلز پارٹی کے موقف پر عمل کرنے کی بابت

پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کے غم و غصہ سے آگاہ ہیں .

ہم امید کرتے ہیں کہ وطن عزیز کی ترقی ، خوشحالی اور استحکام کیلئے تمام

سٹیک ہولڈرز فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو درپیش تمام چیلنجز کا

مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد و یکجہتی سے کام لیں گے اور مستقبل کیلئے دور اندیشی

پر مبنی پالیسیاں تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کرینگے تاکہ یو ٹرن کی نوبت آ

ہی نہ سکے کیونکہ “یو ٹرن” کسی بھی طور صاحب فہم و فراست کی نشانی نہیں

بلکہ وقت گزاری کی علامت ہے ،ویسے بھی ہمارے شیخو جی ہم سے اس معاملے

پر ناراض ہیں کہ جب سے ہم نے عمران خان صاحب کے نظریہ “یو ٹرن” کی

تھوڑی سی گنجائش پیدا کرنے کیلئے ان کے سامنے تاویلیں گھڑی ہیں.

Leave a Reply