0

بلاول،مراد شاہ کے نام ECL سے نکالے جائیں ،کیا ملک نیب چلائے گی، سپریم کورٹ

Spread the love

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی اکاونٹس کیس کا تحریری حکم جاری کردیا جس کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نام فی الحال ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن نے جعلی اکاؤنٹس کیس کا تحریری حکم لکھا جس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جیآئی ٹی) رپورٹ، جمع شدہ مواد اور شواہد فوری طور پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔تحریری حکم نامے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے فی الحال نکالنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔تحریری حکم کے مطابق جے آئی ٹی تحقیقات میں نیب کی معاونت کریگی، نیب دو ماہ کے اندر تحقیقات کرکے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا، بلاول، مرادعلی شاہ کیخلاف اگر ٹھوس شواہد ملتے ہیں تو وفاقی حکومت کو نام ای سی ایل میں ڈالنے کا اختیار ہوگا۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نیب فاروق ایچ نائیک، ان کے بیٹے سے متعلق جے آئی ٹی کے مواد کا ازسرنو جائزہ لیگا اور اگر کیس نہیں بنتا تو فاروق نائیک اور ان کے بیٹے کے نام ای سی ایل سے ہٹا دیے جائیں۔تحریری حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ نیب انور منصور کے بھائی سے متعلق جے آئی ٹی کے مواد کا جائزہ لے گا، انور منصور کے بھائی سے متعلق کیس نہیں بنتا تو نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے، تحقیقات مکمل ہونے تک نیب ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔تحریری حکم کے مطابق جے آٓئی ٹی زیر تفتیش مقدمات کی تفتیش کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی جبکہ نیب ہر 15 دن بعد اپنی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا۔تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں نیب ریفرنس اسلام آباد اور پنڈی کی احتساب عدالتوں میں دائر کرے گا، جے آئی ٹی اپنا تمام ریکارڈ نیب اسلام آباد کو جمع کرائے گی۔حکم نامے کے مطابق چیئرمین نیب ریفرنس کی تیاری کیلئے کسی اہل ڈی جی نیب کو تعینات کریں گے، چیئرمین نیب ریفرنسز حتمی نتیجے تک پہنچانے کیلئے ڈی جی نیب کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دیں گے۔تحریری حکم کے مطابق نیب کی تحقیقاتی رپورٹ ہر 15 دن بعد عمل درآمد بینچ کے پاس جائے گی، چیف جسٹس آف پاکستان عمل درآمد بینچ تشکیل دیں گے، فی الحال اس مقدمے کونمٹایا جاتا ہے، ضرورت پڑنے پر معاملہ دوبارہ کھولا جاسکے گا۔خیال رہے کہ رواں ماہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک، ان کے اہلخانہ اور اٹارنی جنرل انور منصور خان کے بھائی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے جعلی بینک اکاؤنٹس کا معاملہ تحقیقات کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیج دیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ بینچ نے آج جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی تھی جس کا اب تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کا معاملہ نیب کو بھجواتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ ‘نیب 2 ماہ کے اندر جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں ازسر نو تفتیش کرے’۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ ‘نیب بلاول بھٹو زرداری اور مرادعلی شاہ سے آزادانہ تحقیقات کر سکتا ہے اور تحقیقات کے بعد اگر ریفرنس بنتا ہو تو اسے دائر کیا جائے’۔

Leave a Reply