new zara meri bhi suno2

بلاجواز طلاق ظالمانہ فعل، بیوی شوہرکے ورثے کی حقدار، شیخ جامعہ الازھر

Spread the love

قاہرہ (جے ٹی این آن لائن ذرا میری بھی سنو) بلاجواز طلاق ظالمانہ فعل

مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب

نے کہا ہے اسلام میں گھر کے لیے اطاعت کا کوئی تصور نہیں۔ اگر مال کی ترقی

میں بیوی کا کوئی کردار ہے تو وہ شوہر کے مال میں حصہ لینے کا حق بھی

مکمل رکھتی ہے۔

=-= ذرا میری بھی سنو عنوان تحت پڑھیں مزید ( =-= سٹوریز =-= )

تفصیلات کے مطابق ایک بیان میں شیخ الازھر نے کہا کہ خواتین عدلیہ اور افتا

جیسے اعلیٰ عہدوں پرکام کرسکتی ہیں۔ اگر محرم کے بغیر سفر کرنے میں کوئی

خطرہ نہ ہو خواتین بغیر محرم کے سفر بھی کرسکتی ہیں۔ شیخ الازھر نے بغیر

کسی ٹھوس سبب کے بیوی کو طلاق دینے کے عمل کو ظالمانہ اور اخلاقی جرم

قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ولی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی خاتون کا اس کی مرضی

کیخلاف نکاح کرے۔ شیخ الازھر نے جامعہ الازھر کے زیراہتمام ہونے والے فقہی

اجتہادات کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کو اس کے مفادات میں

وافر حصہ وصول کرنے کا حق ہے۔ اس کے مفادات میں خاتون کا سفربھی شامل

ہے۔

=-= قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ان کا مزید کہنا تھا بیشتر فقہا کا خیال ہے کہ خاتون کو محرم کے بغیر سفر نہیں

کرنا چاہیے جبکہ بیشتر کا کہنا تھا کہ خاتون کے لیے بہتر ہے کہ وہ شوہر کے

ساتھ سفر کرے یا اس کے محارم میں سے کوئی محرم رشتہ دار اس کے ساتھ ہو۔

پرانے دورمیں خاتون کا محرم کے بغیر سفر کرنا اس دور کے تقاضوں کے مطابق

درست ہو سکتا ہے کیونکہ خاتون کی عزت و ناموس کا معاملہ زیادہ نازک ہے۔

پرانے زمانے میں خواتین کے اغوا یا عصمت ریزی اور اسے باندی بنائے جانے

کے ڈر سے خواتین کا تنہا سفر کرنا ایک طعنہ تھا۔ ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ

جدید فقہی اجتہاد میں خواتین کو ریاست کی کلیدی ذمہ داریوں پر فائز کیا جا سکتا

ہے۔ خواتین عدلیہ میں جج اور افتا جیسے شعبوں میں بھی خدمات انجام دے سکتی

ہیں۔ طلاق کے بارے میں بات کرتے ہوئے شیخ الازھر نے کہا کہ بیوی کو طلاق

دینے کے لیے معتبر شرعی جواز ہونا چاہیے ورنہ طلاق ایک ظالمانہ اورغیر

اخلاقی جرم تصور کیا جائے گا۔

بلاجواز طلاق ظالمانہ فعل

Leave a Reply