jtn jaiza3

بس تھوڑا انتظار، 2021ء کے طالبان سے متعلق متضاد رائے اور حقائق

Spread the love

(تحریر:- سینئر صحافی و تجزیہ کار سید اظہر علیشاہ المعروف بابا گل) بس تھوڑا انتظار طالبان

Journalist and annalist Sayed Azher Ali Shah

افغانستان میں طالبان کی تخت کابل کی جانب پیش قدمی کے بعد پاکستان میں کچھ

لوگ انہیں بُرا بھلا کہہ رہے ہیں، ان لوگوں کے خیال میں طالبان ایک بے رحم

مخلوق ہے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں،

شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کر لیئے جاتے ہیں اور انسانوں کے ساتھ جانوروں

جیسا سلوک کیا جاتا ہے- اگر ان خدشات کو ماضی کی طالبان حکومت کے تناظر

میں دیکھا جائے تو اگر سارے تاثرات درست نہیں تو سارے تاثرات کو غلط بھی

نہیں کہہ سکتے، یہ وہ وقت تھا جب طالبان کی پشت پر پاکستان اکیلا کھڑا تھا-

ضرور پڑھیں: تحفظِ ثقافتی ورثہ، چین افغانستان کیساتھ فروغِ تعاون کیلئے پُر عزم

2021ء کے طالبان ماضی کے مقابلے میں مختلف سوچ رکھتے ہیں، اس کی سب

سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ طالبان کی پشت پر ایک پورا بلاک کھڑا ہے

جس میں پاکستان سمیت چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کے علاوہ ایران بھی

قابل ذکر ہے، چین نے موجودہ طالبان کی سوچ اور پالیسی بدلنے میں کلیدی کردار

ادا کیا ہے، چین طالبان والے افغانستان کو سی پیک میں شامل کر کے انہیں عالمی

دھارے میں لانا چاہتا ہے، اس عنوان پر چین، پاکستان، روس اور ایران کے

معاملات طالبان کے ساتھ طے ہو چکے ہیں-

=–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

2021ء کے طالبانی دور میں چین بین الااقوامی کرکٹ کو افغانستان میں مدعو

کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، کرکٹ ڈپلومیسی کو کامیاب کرنے کے لئے کابل میں

بین الااقوامی معیار کے سٹیڈیم کی تعمیر بھی طے شدہ معاملات میں شامل ہے،

دلچسپ بات یہ کہ چین کی اپنی کوئی کرکٹ ٹیم نہیں اور طالبان کی نظر میں یہ

ایک فضول سا کھیل ہے مگر اس کے باوجود یہ سب کچھ طے ہو چکا ہے-

یہ بھی پڑھیں، پیسکو اور فائر بریگیڈ کا عملہ اور اندرون شہر آتشزدگی —– ؟

2021ء کے طالبان کسی ایک فرقے کی نمائندگی نہیں کریں گے بلکہ وہ اسلام کا

روشن چہرہ دنیا کو دکھائیں گے، اس مقصد کے تحت سب سے پہلے ایران کے

ساتھ طالبان کے معاملات طے کراے گئے ہیں، اس کے نتیجے میں طالبان نے

علماء کے وفود تشکیل دیئے، یہ وفود افغانستان کے ہر اس شہر اور قصبے میں

گئے جہاں شیعہ آبادی مقیم ہے، علماء کرام کے ان وفود نے انہیں یقین دلایا کہ وہ

طالبان سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہ کریں، طالبان افغانستان کے کونے

کونے میں مقیم شعیہ مسلک کو لوگوں کو سیکورٹی فراہم کریں گے، علماء کرام

کے اس دورے کے بعد ایران نے افغانستان میں مقیم اپنے حامیوں کو طالبان کے

خلاف نہ صرف اسلحہ اٹھانے سے روک دیا بلکہ انہیں طالبان کیخلاف کسی بھی

مہم کا حصہ بننے سے منع کیا-

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

طالبان کے افغانستان میں چین ابتدائی طور پر 60 ارب ڈالر کے منصوبوں پر

سرمایہ کاری کرے گا، پاکستان، ایران، ترکمانستان پائپ لائن افغانستان سے گزرے

گی جس پر روس 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، چین افغانستان میں جدید

تقاضوں سے ھم آہنگ انفراسٹرکچر کی تعمیرنو کرے گا-

=-،-= پشاور کابل موٹروے کی تعمیر، جدید ہتھیاروں کی فراہمی طے

پشاور سے کابل تک موٹروے بھی اس منصوبے کا حصہ ہے، افغانستان کو دفاعی

لحاظ سے وہ تمام جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیار دیئے جائیں گے جو کسی بھی طاقتور

ملک کی جارحیت کا جواب دے سکیں، طالبان افغانستان میں امن کو یقینی بنائیں

گے اور جرائم پیشہ افراد کے لئے سخت رویہ اپنائیں گے تاکہ ترقی کا عمل کسی

رکاوٹ اور خوف کے بغیر تیزی سے آگے بڑھ سکے-

=-،-= افغانستان میں نفاذِ اسلام کیلئے مکمل تعاون کی بھی یقین دہانی

یہ تمام بڑی طاقتیں اتنی بڑی سرمایہ کاری سے قبل طالبان کو اس بات پر آمادہ کر

چکی ہیں کہ افغانستان میں اسلام کے نفاذ میں ایسی کوئی کمزوری نہیں چھوڑیں

گے جس کا فائدہ مغربی اور یورپی طاقتیں اٹھا سکیں، خواتین کے حقوق پر بھی

تفصیل کے ساتھ معاملات طے ہیں-

=-،= طالبان داعش، ٹی ٹی پی سمیت تمام دہشتگرد گروں کا خاتمہ کرینگے

یہ بات بھی طے ہو چکی ہے کہ طالبان داعش، ٹی ٹی پی سمیت کسی بھی دہشت

گرد گروہ کو چین، پاکستان اور ایران میں داخل نہیں ہونے دیں گے، طالبان ان تمام

منفی قوتوں کی سرکوبی کریں گے، چین، پاکستان ایران اور روس داعش اور ٹی

ٹی پی سمیت تمام د ہشتگرد گروہوں کے خاتمے کے لئے طالبان کی ہر طرح سے

مدد کریں گے- یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ طالبان ہتھیار پھینکنے والے سرکاری

فوجیوں کو گرفتار یا قتل کرنے کی بجائے گلے لگا کر انہیں اپنا بھائی قرار دے

رہے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ طالبان کی قیادت نے واخان جیسے اہم علاقے کا

قبضہ حاصل کرنے کے لئے صرف چار طالبان بھیجے اور وہ علاقہ قبضہ ہو گیا،

واخان پاکستان اور چین کے لئے اتنا ہی اہم علاقہ ہے جتنا کہ گوادر، ان حقائق کی

روشنی میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کی حکومت قائم ہونے کا انتظار

کرنا چاہیے، ابتدائی ایام ہی میں جب طالبان اپنی پالیسی بیان کریں گے تو اس کے

تمام خدوخال پوری طرح واضح ہوجائیں گے۔

بس تھوڑا انتظار طالبان ، بس تھوڑا انتظار طالبان ، بس تھوڑا انتظار طالبان ، بس تھوڑا انتظار طالبان

Leave a Reply