برطانیہ میں خواتین وکلاء کیلئے سفید وِگ کا متبادل حجاب متعارف

برطانیہ میں خواتین وکلاء کیلئے سفید وِگ کا متبادل حجاب متعارف

Spread the love

لندن (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) برطانیہ خواتین وکلاء حجاب

ایک برطانوی کمپنی نے پہلی مرتبہ خواتین وکلا کیلئے حجاب متعارف کرایا ہے۔

برطانیہ کی عدالتوں میں خواتین وکلاء کو سفید وگ پہننے پر مجبور تو نہیں کیا

جاتا لیکن وگ کی جگہ پہننے کیلئے کوئی ڈریس بھی مخصوص نہیں کیا گیا، تاہم

اسے مدنظر رکھتے ہوئے برطانیہ میں وکلاء کیلئے لباس بنانے والے ڈیزائنر آﺅی

اینڈ نارمینٹن نے حجاب کی ایسی سیریز متعارف کروائی جنہیں عدالتوں میں پہنے

جانیوالے لباس کے مطابق بنایا گیا ہے۔ سفید اور سیاہ رنگ کے امتزاج سے بنائے

جانیوالے اس حجاب سے سر ڈھکنے والی خواتین کیلئے آسانی پیدا ہوگئی ہے، جن

میں ایک بڑی تعداد مسلم خواتین وکلاء کی بھی ہے۔

=–= خواتین سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

آﺅی ایند نارمینٹن کی بانی بیرسٹر کارلیا نے عرب نیوز کو بتایا امید ہے یہ حجاب

مزید زیادہ مسلم خواتین کو قانون کے شعبے کی جانب لانے کا سبب بنے گا۔ حجاب

مسلم خواتین وکلا کو ان کی اپنی الگ پہچان کو برقرار رکھتے ہوئے مردوں

کیساتھ شانہ بشانہ کام کرنے میں بھی مدد دے گا۔ خاتون وکیل سلطانہ صفدر نے

حجاب کی لانچ پر خوشی کا اظہار کرتے یوئے بتایا حجاب علامتی طور پر بھی

اتنا ہی ضروری ہے جتنا عملی طور پر کیونکہ حجاب کی لانچ اس بات کی علامت

ہے مسلم خواتین وکلاء کی موجودگی کو برطانوی عدالتوں میں تسلیم کیا جارہا ہے۔

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اس حجاب کی مدد سے مسلم خواتین وکلاء کو عدالتی اصولوں کے مطابق لباس

پہننے کیساتھ ساتھ اپنی الگ پہچان برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ ایک اور

مسلم خاتون بیرسٹر مریم میر نے بھی حجاب کی لانچنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ

برطانوی عدالتوں میں خواتین وکلاء کی تعداد 50 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی

ہے اور صنفی تنوع کی صورتحال میں مسلم خواتین کی موجودگی کو اس انداز میں

تسلیم کیا جانا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

برطانیہ خواتین وکلاء حجاب

Leave a Reply