0

برطانوی وزیراعظم کو بریگزٹ کے نئے پلان پر ڈیڈ لاک کا سامنا

Spread the love

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کو یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاہدے پر شکست کے بعد بریگز کے نئے پلان پر ڈیڈ لاک کا سامنا ہے۔تھریسامے کی جانب سے پیر کو متبادل مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل اپوزیشن رہنماو¿ں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کراس پارٹی مذاکرات کے لیے ملاقات کریں۔تاہم ان کے مخالفین کی جانب سے تعاون کے لیے مطالبات کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے، جس میں انہوں نے برطانیہ کے بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین کے علیحدگی کے امکان کو بھی مسترد کیا ہے۔برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ یورپی یونین کے معاملے پر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور جدید برطانوی سیاسی تاریخ میں ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کو بدترین شکست دی اور 432 کے مقابلے میں حکومت کو صرف 202 ووٹ مل سکے۔اس معاملے کو دیکھتے ہوئے تھریسامے نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ارکان پارلیمنٹ نے واضح کردیا کہ وہ کیا نہیں چاہتے، لہٰذا پارلیمنٹ چو جاہتا ہے اس کے لیے ہمیں مل تک تعمیراتی کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں اس کا حل نکالنا چاہیے اور اس ایوان کی حمایت کے لیے کام کرنا چاہیے‘ تاہم اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربن نے کہا تھا کہ اگر وزیر اعظم نو ڈیل بریگزٹ کے تباہی کے تمام امکانات کو مکمل طور پر ختم کردیتی ہیں تو وہ اس صورت میں ملاقات کرسکتے ہیں۔نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو تباہ کن شکست کا سامنا کرنا پڑا اور تھریسامے کی حکومت نے عوام اور پارلیمنٹ کا اعتماد کھو دیا ہے۔اس پر برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ جرمی کوربن کے فیصلے سے ’مایوسی‘ ہوئی تاہم ان کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔یاد رہے کہ برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے 23 جون 2017 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 جبکہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے تھے اور اس پر مارچ 2019 میں عمل ہونا تھا۔

Leave a Reply