تحقیقات میں صرف نیب معاون رہا، معاہدہ عالمی قوانین کی ناسمجھی کا ثبوت، براڈ شیٹ کمیشن

تحقیقات میں صرف نیب معاون رہا، معاہدہ عالمی قوانین کی ناسمجھی کا ثبوت، براڈ شیٹ کمیشن

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن پاکستان نیوز) براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ

براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ نے ملکی بیورو کریسی کے عدم تعاون کی قلعی کھولتے

ہوئے کہا ہے افسران نے ریکارڈ چھپانے اور گم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی،

ریکارڈ کو کئی محکموں سے حتیٰ کہ دوسرے براعظم تک غائب کیا گیا۔ حکومتی

اداروں کے عدم تعاون پر موہنداس گاندھی کو فخر محسوس ہوا ہو گا۔ رپورٹ میں

انکشاف کیا گیا ہے کہ کاوے موسوی سزا یافتہ شخص، اس نے بعض شخصیات پر

الزامات لگائے۔ موسوی کے الزامات کی تحقیقات کمیشن کے ٹی او آرز میں شامل

نہیں ہیں۔ حکومت اگر چاہے تو کاوے موسوی کے الزامات کی تحقیقات کروا سکتی

ہے۔

=-= یہ بھی پڑھیں: براڈ شیٹ کو 15 لاکھ ڈالر ادائیگی غلط ، انکوائری کمیشن

براڈ شیٹ سکینڈل انکوائری کمیشن کی سفارشات میں کہا گیا ہے بین الاقوامی

کمپنیوں کی خدمات کیلئے ضروری بنیادی چیزیں یقینی بنائی جانی چاہیں۔ کسی

بھی غیر ملکی کمپنی کی خدمات لینے سے پہلے وزارت خارجہ متعلقہ ملک کی

وزارت خارجہ سے کمپنی کی تصدیق کرائے۔ کمپنی کی رجسٹریشن، مالیاتی

حیثیت اور مقدمے بازی کا معلوم کرایا جائے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی کمپنیوں

اور اداروں کی پاکستانی سرکاری اداروں تک کھلی رسائی کی حوصلہ شکنی ہونی

چاہیے۔

=-= بیوروکریسی نے ریکارڈ چھپانے، گم کرنیکی پوری کوشش کی، رپورٹ
———————————————————————————————-

سربراہ براڈ شیٹ کمیشن جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید نے رپورٹ میں لکھے گئے

نوٹ میں کہا ہے مارگلہ کے دامن میں رپورٹ لکھتے وقت گیدڑوں کی موجودگی

بھی ہوتی تھی۔ گیدڑ بھبھبکیاں مجھے کام کرنے سے نہیں روک سکتیں۔ رپورٹ

میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اس کیساتھ قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے سوا

متعلقہ حکومتی اداروں میں سے کسی نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا۔ وفاقی کابینہ

کی منظوری کے بعد براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی گئی جس میں بتایا

گیا کہ بیوروکریسی نے ریکارڈ چھپانے اور گم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی،

پاکستان لندن مشن سمیت براڈشیٹ کا ریکارڈ تقریباً ہر جگہ سے غائب تھا۔ رپورٹ

میں کہا گیا کہ کمیشن کے سربراہ نے طارق فواد اور کاوے موسوی کا بیان ریکارڈ

کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بتایا گیا کہ نیب کے سوا متعلقہ حکومتی اداروں میں سے

کسی نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا۔ ایسٹ ریکوری معاہدہ حکومتی اداروں کا بین

الاقوامی قانون نہ سمجھنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

=-==قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں</a

رپورٹ میں کہا گیا کہ براڈشیٹ کو ادائیگی کا معاہدہ 22 لاکھ ڈالر میں کیا گیا تھا،

احمر بلال صوفی نے اسوقت کے براڈشیٹ کے چیئرمین جیری جیمز سے رابطہ

کیا تھا، جیری جیمز جس سے پہلا معاہدہ کیا گیا اس کا براڈشیٹ سے کوئی تعلق ہی

نہیں تھا۔ کمیشن نے رپورٹ میں کہا کہ اس وقت کے نیب چیئرمین نوید احسان بھی

اس معاہدہ میں شامل تھے، تاہم رپورٹ میں نوید احسان کے بیان کا حوالہ دیتے

ہوئے کہا گیا کہ سابق چیئرمین نیب نے بیان دیا تھا کہ احمر بلال نے جیری جیمز

کیساتھ معاہدے سے متعلق کچھ نہیں بتایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق نیب کے افسر

حسن ثاقب شیخ بھی معاہدے کیساتھ جڑے تھے۔ پہلا سیٹلمنٹ معاہدہ براڈ شیٹ ایل

ایل سی جبرالٹر کیساتھ ہوا تھا، جبرالٹر نام کی ایسی کوئی کمپنی نہیں تھی جس کے

ساتھ پاکستان نے کبھی معاہدہ کیا ہو۔ براڈ شیٹ کمیشن نے جج کلیم خان جو اس

وقت وزارتِ قانون میں تھے، کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ

Leave a Reply