براڈ شیٹ انکوائری کمیشن

براڈ شیٹ کو 15 لاکھ ڈالر ادائیگی غلط قانون ، انکوائری کمیشن کی رپورٹ

Spread the love

براڈ شیٹ انکوائری کمیشن

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) براڈ شیٹ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے رپورٹ مکمل کر

کے وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق براڈشیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر

کی غلط ادائیگیاں کی گئیں، کمیشن نے نیب کو سوئس مقدمات کا سربمہر ریکارڈ کھولنے کی بھی

سفارش کر دی۔ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید پر مشتمل ایک رکنی کمیشن نے مجموعی طور پر 26

گواہان کے بیان ریکارڈ کیے جب کہ ایک سابق خاتون لیگل کنسلٹنٹ طلبی کے باوجود کمیشن میں

پیش نہیں ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق براڈشیٹ کمیشن کو تمام تفصیلات نیب دستاویزات سے ملیں۔رپورٹ

میں کہا گیا ہے کہ غلط ادائیگی کو صرف بے احتیاطی قرار نہیں دیا جا سکتا، اتنی بڑی رقم غلط

شخص کو ادا کرنا ریاست پاکستان کے ساتھ دھوکہ ہے۔ وزارت خزانہ، وزارت قانون اور اٹارنی جنرل

آفس سے فائلیں چوری ہوگئیں، پاکستانی ہائی کمیشن لندن سے بھی ادائیگی کی فائل سے مخصوص

حصہ غائب ہوگیا۔براڈ شیٹ کمیشن آصف زرداری کے سوئس مقدمات کا ریکارڈ بھی سامنے لے آیا۔

کمیشن نے نیب کو سوئس مقدمات کا سربمہر ریکارڈ کھولنے کی سفارش کر دی۔ نیب ریکارڈ کو ڈی

سیل کر کے جائزہ لے کہ اس کا کیا کرنا ہے، سوئس مقدمات کا تمام ریکارڈ نیب کے سٹور روم میں

موجود ہے۔، سوئس مقدمات کا ریکارڈ 12 ڈپلومیٹک بیگز میں پاکستان پہنچایا گیا تھا، سوئس مقدمات

کا تمام ریکارڈ نیب کے اسٹور روم میں موجود ہے، رپورٹ میں ڈپلومیٹک بیگز کی تصاویر اور

انڈیکس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ براڈ شیٹ کیس کی تحقیقات کے لیے 29 جنوری کو

قائم کردہ کمیشن نے تحقیقات کا باضابطہ آغاز 9 فروری 2021 کو کیا تھا جبکہ اپوزیشن نے جسٹس

ریٹائرڈ عظمت سعید کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

برطانوی فرم براڈ شیٹ کے چیف ایگزیکٹو کاوے موسوی نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ

براڈ شیٹ کمیشن نے تحقیقات کے لیے ان سے رابطہ ہی نہیں کیا۔لندن میں نجی ٹی وی سے گفتگو

کرتے ہوئیک کاوے موسوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کو مکمل حقائق جاننے کا حق ہے،

انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔کاوے موسوی کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ

کمیشن حقائق جاننے کیلیے سنجیدہ ہے تو میں مدد کرسکتا ہوں اور پاکستان کو 70 ملین ڈالر کا نقصان

کیوں ہوا، اس کی مکمل کہانی سْنا سکتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان جائے بغیر’ آن لائن گواہی’

دے سکتے ہیں، کمیشن کو آگاہ کردیا ہے کہ پاکستان کو ایک ملین پاؤنڈ براڈ شیٹ کو ابھی ادا کرنے

ہیں، لندن ہائی کورٹ نے عدم ادائیگی پر براڈ شیٹ کی درخواست پر پاکستان ہائی کمیشن کے اکاؤنٹس

منجمند کر دیے ہیں۔سربراہ براڈ شیٹ کا کہنا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ کمیشن نیک نیتی سے بنایا گیا

لیکن وہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا نظر آرہا ہے، اسکینڈل کے مرکزی کردار کی گواہی کے

بغیر حقائق کیسے سامنے آسکتے ہیں، کمیشن کے ریکارڈ سے براڈ شیٹ کو 1.5 ملین پاؤنڈ کی

ادائیگی اور تمام ریکارڈ کا غائب ہوجانا مضحکہ خیز ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے حکومت پاکستان

کو دھوکہ دینے کے لیے جیری جیمز کو رقم ادا کردی ہے، غلط ادائیگی کا دفاع کرنے میں 20 ملین

ڈالر کے قانونی اخراجات بھی ادا کرنے پڑے۔

براڈ شیٹ انکوائری کمیشن

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply