0

برادر اسلامی ملک ترکی کے تجربات سے استفادہ کرینگے ، عمران خان

Spread the love

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے ترکی کےساتھ تمام شعبوں خصوصاً معیشت میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں،یہی وجہ ہے کہ معاشی ٹیم کو اپنے ہمراہ لایا ہوں تاکہ ترکی کے تجربات سے استفادہ کر سکیں۔ گزشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا پاکستان اور ترکی کے درمیان قربت اور دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے، پاکستانی علاقوں کے لوگوں نے ترکی کی تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا ، پاکستان میں بے گھر افراد کےلئے 50 لاکھ گھر بنانے جارہے ہیں ہیں جس کےلئے ہاو¿سنگ کے شعبے میں ترکی کے تجرے سے استفادہ چاہتے ہیں۔ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے خواہش مند ہیں، کسی بھی مہذب معاشرے میں شعبہ صحت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،ہم ان دونوں شعبوں میں برادر ملک تجربے سے فائدہ ا±ٹھانا چاہتے ہیں، پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے، امن کےلئے تمام ہمسایہ ممالک بالخصوص بھارت سے بھی مذاکرات کو تیار ہیں لیکن پاکستان اوربھارت کے درمیان بنیادی تنازع کشمیر ہے اور بھارت کشمیریوں پر اندھا دھند ظلم کررہا ہے، افغانستان کے معاملے پر بھی ترکی کے تعاون کے خواہاں ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کےلئے صدارتی محل پہنچے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔اس سے قبل وزیراعظم نے انقرہ میں ترک بزنس کمیونٹی سے خطاب بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا پاکستان 1960 میں تیزی سے ترقی کرنےوالی معیشت میں شامل تھا، 60 کی دہائی میں پاکستان ملائیشیا اور جنوبی کوریا کےلئے رول ماڈل تھا تاہم 60 کے بعد منافع کمانے والوں کو برا سمجھا جانے لگا جس سے معیشت کو نقصا ن ہوا، نیشنلائزیشن کی پالیسی نے معیشت کو بہت نقصان پہنچایا۔وزیراعظم عمران خان سے ترکی کے وزیر زراعت نے بھی ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں میں زرعی تعاون سمیت امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

Leave a Reply