بدفعلی کی سزا سنگسار، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ کا برونائی کوانتباہ

Spread the love

برونائی(جے ٹی این آن لائن)ایشیائی ملک برونائی میں تین اپرین سے بدفعلی اور

ہم جنس پرستی کے مرتکب مسلمانوں کو سنگسار کرنے کا قانون رائج ہو جائیگا۔

مذکورہ قانون گزشتہ 4 برس سے شدید تنقید کے باوجود نفاذ العمل قرار پائے گا

تاہم اس کا اطلاق صرف مسلمانوں پر ہوگا۔ برونائی میں چوری کی سزا پر ہاتھ یا

پاؤں کاٹنے کا قانون پہلے ہی رائج ہے جبکہ ہم جنس پرستی پہلے ہی غیرقانونی

تھی تاہم اب اس پر سزائے موت ہوگی۔ دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے

برونائی پر زور دیا ہے کہ وہ ’نئے شرعی قوانین کے اطلاق کو فوراً روکے۔

برونائی کے اٹارنی جنرل کے چیمبر سے 29 دسمبر کو جاری ایک نوٹیفکیشن میں

کہا گیا تھا بدفعلی اور ہم جنس پرستی کے خلاف قوانین کا اطلاق 3 اپریل 2019

سے ہوگا۔ برونائی نے مذکورہ اقدامات کا اعلان 2013 میں کیا تھا تاہم دائیں بازو

کی اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے باعث عملدرآمد نہیں ہوسکا اور اس دوران

حکام بھی مذکورہ قوانین پرعملدرآمد سے متعلق امور پرغور کررہے تھے۔وزرات

مذہبی امور کے ترجمان نے کہا سلطان حسن البلقیہ کی جانب سے 3 اپریل کو نئے

شرعی قوانین کے اطلاق کا اعلان ممکن ہے۔ اس وقت چوری پر ہاتھ کاٹنے کے

قوانین پر عملدرآمد کے لیے مکمل تیار ہیں۔اس حوالے سے ہیومن رائٹس واچ کے

فل روبرٹسن نے خبردار کیا کہ ’نئے شرعی قوانین کے اطلاق سے غیرملکیوں

سیاحوں اور تاجر برادری کی نگاہوں میں انسانی حقوق بری طرح متاثر ہوں گے۔

اگر نئے قوانین پر عمل شروع ہوا تو برونائی اقدام کے خلاف عالمی بائیکاٹ مہم کا

ایک مرتبہ پھر آغاز ہوجائیگا۔ برونائی جنوب مشرق ایشیاء کا واحد ملک ہے جہاں

قانون کی رو سے ہم جنس پرستی پر سزائے موت ہے۔

Leave a Reply