0

باہر کی دنیا میں لوگ سچ بولتے ہیں،چیف جسٹس

Spread the love

سپریم کورٹ نے 17سالہ لڑکے کے قاتل مجرم کو بری کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرا ر دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی ، ٹرائل کو ر ٹ نے ملزم حضرت علی کو سزائے موت سنائی تھی جسے بعد میں ہائی کورٹ نے ختم کرتے ہوئے بری کرنے کے احکامات جاری کئے تھے ۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس د یئے کہ باہر کی دنیا میں لو گ سچ بیان کرتے ہیں اور قانون پر بحث ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں پریشانی کو بڑھایا اور عدالتوں کےلئے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ پا کستا ن میں سپریم کورٹ کی سطح تک بھی واقعے کی حقیقت کا علم نہیں ہوپاتا اور سپریم کورٹ بھی اپنا وقت واقعہ سمجھنے میں صر ف کر دیتی ہے۔
ہمارے ہاں ایک ہی واقعے پر ایک ہی گاﺅں کے 4معزز گواہان واقعے کو دن دہاڑے کا واقعہ قرار دیتے ہیں جبکہ اس ہی و ا قعے میں اس ہی گاﺅں کے 4اور معزز گواہان اس کو رات کی تاریکی کا واقعہ قرار دے دیتے ہیں،مذکورہ مقدمے میں بھی کسی ایک گواہ نے سچ نہیں بولا اور کسی نے بھی اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی جبکہ تحقیقاتی ادارے اسی لیے ہوتے ہیں کہ وہ سچ بیان کریں۔بعدازاں عدالت نے ملزم حضرت علی کی سزائے موت عمر قید میں بدلتے ہوئے فوری گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا جس پر ملزم کو احاطہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا گیا ۔

Leave a Reply