Kud Kalami by Journalist Imran Rasheed Khan 0

باس کی کال، ڈرگ مافیا، پولیس کی پریس کانفرنس اور” خبر”

Spread the love

باس کی کال

کافی سال پہلے کی بات ہے پشاور شہر کے ایک تھانے کی پولیس نے اپنے

علاقے میں کامیاب کارروائی کے دوران شراب فروش کو گرفتار کر کے اس

کے قبضے سے سیکڑوں بوتل شراب برآمد کی، کارکردگی کی دوڑ میں ہر تھانہ

سرکل پولیس کو اول پوزیشن حاصل کرنے کی پڑی تھی، پولیس نے میڈیا کو

پریس کانفرنس کی اطلاع کی، اسوقت بطور کرائمز رپورٹر میں بھی تھانے پہنچ

گیا، جہاں پولیس سٹیشن کے گیٹ پر مامور سپاہی نہایت ہی خوش اخلاقی کیساتھ

پیش آیا، حالانکہ اسوقت زیادہ تر گیٹ پر سزا کے طور پر ڈیوٹیاں لگائی جاتی

تھیں، ہوسکتا اب بھی کہیں نہ کہیں ایسا ہوتا ہو، تاہم دروازے پر مامور اہلکار کی

اکثر یہ کوشش ہوتی تھی، کہ وہ باہر سے آنیوالے کسی صحافی یا افسر سے تعلق

رکھنے والے شخص سے تلخ رویے میں بات کرے، تاکہ اس کی شکایت پر

کسی اور جگہ ڈیوٹی لگا دی جائے-

=-،-= ماضی میں پولیس کی ایک پریس کانفرنس کا احوال

اسی اثناء میں چند فوٹو جرنلسٹ دوستوں کیساتھ آگے بڑھے تو محرر اور ایس

ایچ او صاحب کرائمز رپورٹرز کے استقبال میں کھڑے تھے، ہر ایک کیساتھ

نہایت خوش اخلاقی کیساتھ مسکرا کر مل رہے تھے، حیرانگی خوش اخلاقی کی

نہیں بلکہ زیادہ اس بات کی تھی کہ اسوقت پولیس دو تین صحافت کے ٹھیکیدار

بنے کرائمز رپورٹرز کے دائیں بائیں نظر آتی تھی، جس کی وجہ ان کا بڑے

اخبار سے منسلک ہونا ہی تھا، پولیس کی پریس کانفرنس پر آنے سے قبل ابھی

اپنے آفس جو مذکورہ تھانے کے قریب ہی واقع تھا، سے نکلنے لگا تو مجھے

میرے محترم چیف ایڈیٹر صاحب نے آواز دی، __ عمران __

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

مڑ کر فوری کہا کہ جی سر، انہوں نے فرمایا بھئی تم شام کو اچانک پراسرار

طور پر غائب ہو جاتے ہو، گذشتہ روز بھی تمہاری خبروں کی وجہ سے کاپی

لیٹ ہوئی اور چیف نیوز ایڈیٹر صاحب نے بھی تمہاری شکایت کی ہے، جہاں جا

رہے ہو کوریج کرکے فوراً واپس آفس آ جانا-

=-،-= باس کی کال، راقم کا تعمیل میں یس سر کہنا اور ” خبر”

میں نے سر جھکاتے ہوئے اچھا سر کہا اور دفتر سے نکل کر پریس کانفرنس

کے پوائنٹس لئے، ٹی پارٹی اٹینڈ کئے بغیر ہی، ایس پی اسماعیل کھاڑک کے دفتر

سے نکل گیا، ابھی سیڑھیاں اتر کر نیچے ہی پہنچا کہ آواز آئی اصلی بوتلیں

علیحدہ کر دیں، ایک لمحے کیلئے میرے ذہن میں یہ خیال آیا ہو سکتا ہے اصلی

اور دیسی شراب مکس بوتلوں کو علیحدہ کیا جا رہا ہے، سیڑھیاں اترتے ہی بائیں

طرف تھوڑے فاصلے پر ہی کم روشنی تھی، جہاں ٹیبل پر درجنوں بوتلوں کو

چیک کیا جا رہا تھا، یہ ٹیبل نیچے صحن میں رکھی گئی تھی، تاکہ فوٹو، کیمرہ

جرنلسٹس شراب کی تصاویر لیں اور پھر اوپر ایس پی کے آفس چلے جائیں، تاہم

میں ٹیبل کی طرف بڑھا وہاں معمولی روشنی تھی، سادہ کپڑوں میں موجود ایک

پولیس نے ساتھ کھڑے اہلکار کو پشتو زبان میں روایتی انداز میں کہا کہ ‘ ایف

دی ایچ ” یہ تو سب میں ہی پانی ہے تو دوسرے نے دھیمی آواز میں جواب دیا

کہ اسے بھرنے اور سیل لگانے میں ہمارا بہت سارا وقت لگا اور تم نخرے کر

رہے ہو-

=-،-= معاشرے میں پولیس کے رویے کی وجہ سے پولیس کا رُتبہ

بس یہ سن کر ساری کہانی میری سمجھ میں آ گئی، یعنی تقریباً ایک منٹ میں

پوری خبر مل گئی، بہر حال منٹوں میں خبر ملنا میرے لئے کوئی نئی بات نہیں

تھی، چلو آگے بڑھتے ہیں، میں نے کرائمز رپورٹنگ میں کافی تجربہ حاصل کیا

معاشرے میں لوگوں کی طرف سے جہاں پولیس کو کرپٹ اور دیگر نازیبا الفاظ

استعمال کرتے ہوئے برا بھلا کہا جاتا ہے، وہیں پر میرا ایسے فرض شناس

پولیس افسروں و اہلکاروں کیساتھ بھی واسطہ اور تعلق رہا کہ ان میں سے کسی

ایک کی فیلڈ میں مہارت تجربہ کاری اور خوبیوں کے قصوں پر اگر لکھنا شروع

کروں تو کئی ایک کالم لکھنے پڑجائیں، کہنے کا مطلب یہ کہ خوبیاں خامیاں

اچھی بری عادتیں ہر انسان میں موجود ہوتی ہیں، چاہے وہ پولیس افسر ہے یا اہل

قلم یا کسی اور شعبہ سے وابسطہ فرد، ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس کے کام سے

قوم اور ملک کو کیا اور کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے- اسی طرح اس کی حوصلہ افزائی

کرنا بھی ہمارا فرض ہے-

=-،-= مقصد کسی افسر کی مخالفت یا خوشنودی نہیں

صوبہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں اسوقت ہر طرف پشاور پولیس کے چرچے ہو

رہے ہیں، یاد رہے میرا یہ کالم کسی سابق پولیس سربراہ کی مخالفت یا موجودہ

سی سی پی او عباس احسن کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ

حقیقی معنوں میں پولیس کی کارکردگی نہایت قابل تعریف ہے، اور اس کی مثال

ماضی میں کہیں نہیں ملتی، پشاور پولیس نے خیبرپختونخوا پولیس کے مثالی

ہونے کے خطاب میں جان ڈال دی ہے، کیونکہ کچھ عرصے سے پشاور ہی نہیں

پوری صوبائی پولیس کے گرتے ہوئے وقار کی وجہ سے عوام، الیکٹرانک اور

پرنٹ و سوشل میڈیا پر کے پی پولیس کیساتھ مثالی لفظ کا استعمال بہت طنزیہ

طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، پشاور پولیس کی جانب سے ماضی میں بھی

مختلف جرائم کے خلاف بھر پور کارروائیاں کی گئیں، منشیات کے خاتمے کیلئے

ملزم بھی گرفتار کئے گئے، اور منشیات بھی پکڑی گئی، ہاں بعض جگہ پولیس

کی جعلی کارروائیوں اور بیگناہ یا معمولی ملزم کو سمگلرز بنا کر پیش کر نے

کے قصے بھی عام رہے ہیں-

=-،-= پولیس کی کارکردگی سے متعلق میڈیا کی شہ سُرخیاں

دراصل ہم اکثر ایسا سنتے آئے ہیں اور اخبارات میں کسی نہ کسی کے انٹرویو یا

بیانات کی کچھ اس طرح کی سرخیاں بھی دیکھ چکے ہیں، مثلاً آخری جرائم پیشہ

فرد کے علاقہ چھوڑ کے بھاگنے تک دم نہیں لیں گے، اور فلاں جرم کو جڑ سے

اکھاڑ پھینکیں گے، یہ وہ روایتی جملے ہیں جنہیں سُن سُن کر عوام کے کان پک

چکے ہیں، مگر!! اب ایسا صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وہ دور گزر چکا، پشاور

پولیس نے جرائم کی بیخ کنی کیلئے کمر کس لی ہے، اور پولیس کے جرائم کے

خاتمے کیلئے کئے گئے اس پختہ ارادے کے سامنے مختلف مافیاز بھی ڈھیر

ہوتے نظر آ رہے ہیں، جس کی بڑی مثال بڑے مگرمچھوں بر ہاتھ ڈالنا ہے، جیسا

گزشتہ روز انٹرنیشنل ڈرگ مافیا گروہ کا پشاور پولیس کی نارکوٹکس ایراڈیکیشن

ٹیم کے ہاتھوں پکڑا جانا اور ان کے قبضے سے 80 کلو آئس جس کی پاکستان

میں قیمت دس پندرہ کروڑ جبکہ اسی آئس (کرسٹل میتھ) عالمی منڈی میں قیمت

اربوں روپے بتائی جا رہی ہے-

=-،-= پشاور پولیس کی حالیہ کارروائی انتہائی حوصلہ افزاء

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پشاور پولیس کی جانب سے کی گئی اس کارروائی

سے ایک طرف تو پورے ملک میں زہر کے پھیلاؤ کو روکا گیا ہے، تو دوسری

طرف انٹرنیشنل ڈرگ سمگلنگ مافیا کے نیٹ ورک کو توڑ کر یہاں سے بیرون

ممالک منشیات سمگل ہونے کی وجہ سے ملک کی جو بدنامی ہو رہی تھی اس

میں قدرے کمی کی سبیل ہوئی ہے، کیونکہ گرفتار ہونیوالے پانچ افراد کی دو

پڑوسی ملک افغانستان میں آئس کی فیکٹریاں (لیبارٹریز) ہیں، جہاں یہ تیار کی

جاتی ہے، بعد ازاں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کوئٹہ چمن کے راستے پاکستان

اور بیرون ملک سمگل کی جاتی ہے، گینگ میں موجود دیگر تین افراد پاکستانی

ہیں، سی سی پی او پشاور عباس احسن کی اس ضمن میں پریس کانفرنس اور

مختلف چینلز سے گفتگو سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے پولیس صوبائی

دارالحکومت پشاور میں شہریوں کے جان و مال تحفظ اور پراپرٹیز واگزار

کرانے کیلئے مختلف لینڈ مافیا سمیت دیگر مافیاز کے بڑے بڑے مگرمچھوں پر

ہاتھ ڈالنے سے ہرگز گریز نہیں کرے گی-

=-،-= ویلڈن، وطن دشمنوں کا سانس لینا محال کرنا ضروری

پشاور پولیس کی یہ کارروائی جہاں کے پی پولیس کی سربلندی کا سبب بنی وہیں

عام عوام سمیت مختلف مکتبہ فکر کی جانب سے پولیس کی تعریف کی گئی اور

پشاور پولیس سربراہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر جا رہی ہے کہ

آئندہ بھی پولیس ایسے بڑے مگر مچھوں کے خلاف کارروائیوں کا تسلسل برقرار

رکھتے ہوئے جرائم کو جڑ سے ختم کر کے شہریوں کو بہترین پرامن ماحول

فراہم کرے گی۔ ویلڈن پشاور پولیس ویلڈن بس ہماری بِنتی بھی صرف یہی ہے کہ

کسی دباؤ میں آئے بغیر ہمارے قانون اور عوام کے محافظ وطن عزیز کے

اندورنی و بیرونی چیلنجز کو ذہن میں رکھتے ہوئے مملکت خداداد اور اس کے

باسیوں کے دشمنوں کا سانس لینا تک محال کردیں-

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

باس کی کال ، باس کی کال ، باس کی کال ، باس کی کال ، باس کی کال

باس کی کال ، باس کی کال ، باس کی کال ، باس کی کال ، باس کی کال

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply