بارش سے کراچی میں صورتحال سنگین، گرڈ سٹیشن سے پانی نکالنے کی کارروائی جاری

Spread the love

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ کے مختلف شہروں میں طوفانی بارش تھم گئی لیکن

عوام مسائل کا شکار ہوگئی۔کراچی میں دو روز تک مسلسل تیز بارش ہوئی جس

کے باعث سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی

معطل ہوگئی۔بارشوں کے بعد نادرن بائی پاس کے قریب تھڈو ڈیم بھر گیا انتظامیہ

کی سیلابی ریلے کو سعدی ٹاؤن سے ایم نائن اور پھر سکیم 33 کی جانب موڑ دیا

گیا۔ کراچی سپرہائی وے کے ڈی اے سکیم 33 کے گرڈ سٹیشن میں سیلابی ریلا

داخل ہونے کی وجہ سے گرڈ سٹیشن کے ایک حصے کو بند کردیا گیا۔سکیم 33

میں متعدد رہائشی سوسائٹیز، نارتھ ناظم آباد بلاک ایف، ایف بی ایریا، کیماڑی اور

ملیر سمیت کئی علاقوں میں بجلی اب بھی معطل ہے۔کے الیکٹرک اور ضلعی

انتظامیہ نے ہیوی مشینری کی مدد سے ریتی کا بندھ باندھ دیا جبکہ پاک فوج کے

جوان گرڈ سٹیشن کے اندر سیکشن پمپ لگا کر پانی نکالنے میں مصروف ہیں۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ لانڈھی اور کورنگی کے صنعتی علاقے،

گڈاپ، ملیر، ملیرکینٹ، گلستان جوہر، کاٹھور، لانڈھی، کھوکھرا پار، شاہ فیصل

کالونی، کورنگی، گلشن معمار اور احسن آباد کے علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ شہریوں کی مشکلات پر معذرت خواہ ہیں،

بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے۔دوسری جانبکراچی میں بارش کے بعد میئر وسیم

اختر اور سندھ حکومت ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے اور دونوں نے ذمے داری

ایک دوسرے پر ڈال دی۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا

کہ کراچی کے بڑے نالوں کی صفائی کی ذمہ داری کے ایم سی کی ہے، کمشنرکے

ساتھ اجلاس میںمیئر کراچی نے بتایا کہ کئی نالے صاف ہوچکے ہیں اور بعض

صاف ہوجائیں گے، نالوں کی صفائی کا کام میئر نے کرانا ہے سندھ حکومت نے

نہیں، 38 نالوں کی صفائی کیلئے کے ایم سی نے ایک ارب 20 کروڑ مانگے تھے،

حکومت نے 50 کروڑ روپے فراہم کیے تھے۔کراچی میں بجلی کی صورتحال پر

سعید غنی نے کہا کہ کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کیلئے صوبائی حکومت

کے پاس کوئی مکینزم نہیں، وفاقی حکومت ادارے کے خلاف کارروائی کرے۔سعید

غنی نے سوال کیا کہ صدر مملکت،گورنر، دو وفاقی وزرا کا تعلق کراچی سے

ہے، انہوں نے شہر کیلئے کیا کیا؟اس موقع پر مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے

کہا کہ صوبائی حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر کراچی کے مسائل حل کرنا

چاہتی ہے، میئر کراچی اختیارات کا رونا روتے ہیں،ان کے پاس جواختیارات ہیں

وہ اس کے مطابق کارکردگی کیوں نہیں دکھاتے۔میئر کراچی وسیم اختر نے وزیر

بلدیات سندھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سکیم 33 کے ڈی اے کی ملکیت ہے اور

کے ڈی اے اب تک کے ایم سی کو ٹرانسفر نہیں ہوا ہے لہٰذاکے ڈی اے کے

معاملات کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے جو کسی کام پر توجہ نہیں دے رہی۔

علاوہ ازیںبارش کے باعث کراچی میں ٹرینوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال بہتر ہونے میں ایک چند روزلگیں گے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالا، مالاکنڈ،

ہزارہ، مردان، ژوب، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بارش کا امکان ہے جبکہ

کراچی میں بارش برسانے والا سسٹم گزر گیا ۔

Leave a Reply