بارشوں کے بعد بلوچستان اور چولستان میں ٹڈیدل کا خطرہ

Spread the love

بہاولپور(جے ٹی این آن لائن) ملک بھر میں جاری حالیہ بارشوں کے سلسلے کی

وجہ سے دس سال قبل ریت میں دبی ٹڈیوں (لوکسٹ) کے دوبارہ نکلنے کے

خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ ماہرین نے ٹڈیوں کے متوقع حملے کے لیے بلوچستان

اور بہاول پور کے چولستان کو ٹارگٹ قرار دے دیا ہے کیونکہ برادر اسلامی ملک

ایران میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے بعد ٹڈیوں کا حملہ شروع ہو چکا ہے جبکہ

وطن عزیز میں بھی حالیہ جاری بارشوں کا سلسلہ ایران ہی کے راستے داخل ہوا

ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں ٹڈیوں کا آخری حملہ 2005 میں ہوا تھا جبکہ

70 اور 90 کی دہائی میں بھی اس چھوٹے پرندے نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی

تھی۔ ملک بھر میں موجود اس ننھے پرندے کی روک تھام کے لیے قائم محکمہ

پلانٹ پروٹیکشن جس کا ہیڈ آفس ملیر کراچی جبکہ ریجنل آفس بہاول پور میں بغداد

ریلوے سٹیشن کے قریب واقع ہے جہاں بارشوں کی حالیہ صورت حال کو مدنظر

رکھتے ہوئے دفتر میں موجود تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تیاریاں

مکمل کرلی گئیں ہیں تاہم محکمہ کو فنڈز اور وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے اور

محکمہ بلڈنگ اور دیگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے

کہ ٹڈیوں نے جہاں بھی حملہ کیا وہ علاقہ ہریالی سے مکمل طور پر محروم ہوکر

رہ گیا کیوں کہ کروڑوں کی تعداد میں ایک ساتھ حملہ کرنے والی ٹڈیاں اپنے

سامنے آنے والی ہر سبز چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دیتی ہیں ۔ ماہرین کا کہنا

ہے ایک ٹڈی ایک وقت میں ہزاروں کی تعداد میں انڈے دیتی ہیں جبکہ انڈوں سے

بچے نکلنے اور ایک مکمل پرندہ بننے میں ایک ہفتہ سے بھی کم وقت لگتا ہے

جبکہ ان کے انڈے ریتلے علاقوں میں بیس سال سے بھی زائد عرصہ تک محفوظ

رہ سکتے ہیں ۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے ماضی میں بھی ہمسایہ ممالک کے

علاقوں سے ٹڈیاں پاکستان میں داخل ہوئیں تاہم ان ممالک کی جانب سے ان کی

روک تھام کے لیے بروقت اقدامات کی وجہ سے عرصہ دراز سے یہ ٹڈیاں

پاکستان میں نظر نہیں آئیں ۔ زرائع کے مطابق ہمسایہ ممالک نے تو ٹڈیوں کے

خاتمے کے لیے بروقت اقدامات کرلیے لیکن پاکستان میں محکمہ پلانٹ پروٹیکشن

کو دوبارہ مضبوط بناتے ہوئے باوسائل نہ بنایا گیا تو ٹڈیوں کے متوقع حملے سے

پاکستان کی زراعت کے ساتھ ساتھ گرین پاکستان کا خواب بھی متاثر ہونے کا خدشہ

ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply