بادشاہی مسجد سے چوری نعلین پاک کی بازیابی کیلئے میڈیا پر تشہیر کا حکم

Spread the love

سپریم کورٹ نے بادشاہی مسجد سے حضور اکرم کے نعلین مبارک کی چوری سے متعلق کیس میں نعلین پاک کی بازیابی کےلئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تشہیر کا حکم د یتے ہوئے کہا ہے پولیس ہر تین ماہ بعد تبرکات سے متعلق رپورٹ جمع کروائے، پنجاب حکومت باقی تبرکات کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلئے اقدامات کرے، تبرکات کو محفوظ بنانے کےلئے شیشوں کے باکس میں محفوظ کریں، معاملے میں جو بھی معاونت درکار ہوگی عدا لت فراہم کرے گی، بدھ کوچیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نعلین پاک کی چوری سے متعلق کیس کی سماعت کی ، چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ نعلین مبارک جب سے چوری ہوئے درخو است گزار ننگے پا ﺅ ں پھر رہا ہے، یہ تو ایسی نایاب چیز ہے جس کی قیمت ہی کوئی نہیں، اس معاملے کو ہم نے نہیں چھوڑنا، اپنے آرڈر میں لکھوادیں گے، پولیس بتادے آ ئندہ کیا کرنا ہے، اس موقع پر نمائندہ پنجاب پولیس نے عدالت کو بتایا نعلین مبارک 31 جولائی 2002 کو مغرب اور عشا کے درمیان برو نائی سے واپس آتے ہوئے چوری ہوئے، ہم نے اس پہلو کی تفتیش بھی کی نعلین مبارک اسمگل نا ہوگئے ہوں۔ نعلین مبارک کی پیمائش کرائی، فنگر پرنٹس کا جائزہ بھی لیا گیا اور موقع پر جو ایس پی گیا اس کے فنگر پرنٹس ملے، ایک دفعہ کراچی سے بھی خبر آئی ہم وہاں بھی گئے، اب ہمارے پاس اصل نعلین مبارک کی پہچان کا پیمانہ آگیا ہے۔کمرہ عدالت میں نعلین مبارک کا ویڈیو کلپ چلایا گیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا ٹی وی یا اخبار میں تشہیر کی گئی تاکہ کوئی اللہ کا نیک بندہ ہمیں معلومات دے دے جس پر نمائندہ پنجاب پولیس نے بتایا ہم نے 15 لا کھ انعام مقرر کیا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا مسلمانوں کےلئے نعلین پاک کی بہت اہمیت ہے، اس طرح کے تبرکات بین الاقوامی میوزیم میں پائے جاتے ہیں جس پر نمائندہ پنجاب پولیس نے کہا ترکی کے ‘توپ کاپی ’میوزیم اور انگلینڈ کے میوزیم سے بھی چیک کیا۔چیف جسٹس نے کہا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو مذہبی فریضہ سمجھ کر اشتہارات چلانے چاہییں، ہمیں لگ رہا ہے پولیس صحیح سمت میں کام کر رہی ہے، جو تبرکات ہمارے پاس موجود ہیں پنجاب حکومت ان کی حفاظت کرے ، پولیس ہر تین ماہ بعد تبرکات سے متعلق رپورٹ جمع کروائے سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا ایک معاملہ چندہ باکس کی چوری کا ہے، پچھلے سال 82 ملین روپے جمع ہوئے تھے۔چیف جسٹس نے کہا سارے پیسے اوقاف کے پاس چلے جاتے ہیں، پھر اوقاف والے پیسے کھا جاتے ہیں، لوگ وہاں پیسے عقیدت سے دیتے ہیں، ان پیسوں سے مزارات کے کام ہونے چاہیں۔سپریم کورٹ نے حکم دیا پنجاب حکومت آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لے اور بتائے کہ مزارات پر جمع شدہ رقم کس مد میں خرچ ہونی چاہیے۔

Leave a Reply