بائیڈن پیوٹن پہلی ملاقات، بریک تھرو ہو سکا، ایک ساتھ کھانا کھایا نہ میڈیا گفتگو

بائیڈن پیوٹن پہلی ملاقات، بریک تھرو ہو سکا، ایک ساتھ کھانا کھایا نہ میڈیا گفتگو

Spread the love

جنیوا، واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) بائیڈن پیوٹن پہلی ملاقات

امریکی صدر جوبائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب صدر پیوٹن کے درمیان جنیوا

میں ہونیوالی پہلی سربراہی ملاقات لاحاصل رہی۔ دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے

درمیان گہرے اختلافات بدستور برقرار ہیں، تاہم جس اتفاق رائے کا اظہار ہوا وہ

محض رسمی ہی تھا۔ اس اعلیٰ سطحی رابطے سے سیاسی مبصرین نے زبردست

توقعات وابستہ کر رکھی تھیں لیکن ان کو اس سے بہت مایوسی ہوئی۔

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

امریکی میڈیا کے مطابق چونکہ باہمی دلچسپی کے مسائل کی فہرست بہت طویل

تھی اس لئے فریقین نے اس کے لئے تقریباً چھ گھنٹے کا وقت مخصوص کر رکھا

تھا لیکن مذاکرات کے دو روز چار گھنٹے سے بھی کم وقت میں اچانک ختم ہو

گئے، تاہم دونوں سربراہوں نے مذاکرات کے بارے میں محتاط اور مفاہمتی الفاظ

استعمال کئے۔ جنیوا میں ایک جھیل کنارے واقع مقام پر پہلی ملاقات پر صدر بائیڈن

اور صدر پیوٹن نے مسکراتے ہوئے مصافحہ کیا۔ بات چیت شروع کرتے ہوئے

صدر پیوٹن نے صدر بائیڈن کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس ملاقات کا سوچا اور

اس کا آغاز کیا۔ مذاکرات کے بعد صدر پیوٹن نے کہا کہ انہوں نے صدر بائیڈن

سے اتفاق کیا ہے کہ انہیں سائیر سیکورٹی کے بارے میں بات چیت جاری رکھنی

چاہئے اور ساتھ ہی یہ بھی الزام لگایا کہ امریکہ کی طرف سے روس پر سائیبر

حملے ہو رہے ہیں۔ صدر بائیڈن نے بتایا کہ روس اور امریکہ کے باہمی تعلقات

میں بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں جن پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ضروری ہیں۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

وائٹ ہاﺅس کے مطابق صدر بائیڈن نے اس موقع پر بتایا کہ وہ روس کے ساتھ

تعاون اور باہمی دلچسپی کے علاقوں کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر

پیوٹن نے واضح کیا کہ دونوں فریقوں نے ان مذاکرات میں کسی قسم کی دشمنی کا

مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو سمجھنے کی خواہش

دیکھنے میں آئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ممالک سے اپنے سفیرں کو

بلا لیا تھا لیکن ان مذاکرات کے بعد وہ واپس اپنے سفارتخانوں کو چلے جائیں گے۔

دونوں سربراہوں نے اس امر بھی اتفاق کیا کہ اسلحے کو کنٹرول کرنے کے بارے

میں ہونیوالے مذاکرات کو جاری رکھا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں سربراہوں

نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی بجائے میڈیا سے الگ الگ بات کی اور مل کر کھانا

بھی نہیں کھایا۔ صدر پیوٹن نے میڈیا کو بتایا کہ روس، امریکہ کو جوہری استحکام

کے لئے برابر کی ذمہ داری لینی چاہئے۔

بائیڈن پیوٹن پہلی ملاقات

Leave a Reply