Aalmi manzer 107

بائیولوجیکل جنگ کا تجربہ کیسا رہا ….. ؟

Spread the love

تحریر( ابو رجا حیدر) بائیو لوجیکل جنگ

پتھر کے زمانے میں انسان شکار اور دشمن کو زیر کرنے کیلئے پتھر کے ہتھیار استعمال کرتا تھا- جوں جوں انسان ترقی کرتا گیا، اس نے بھالے اور تلواروں کا استعمال شروع کیا، پھر دشمن کیخلاف بطور ہتھیار منجنیق بنائی، بارود کی ایجاد کے بعد توپ، بندوق، پستول، کلاشنکوف، بم اور نہ جانے کیا کیا اور کون کون سے ہتھیاربنا کر جنگوں میں استعمال کرنا شروع کئے کہ الامان الحفیظ –
جہاز کی ایجاد کے بعد تو ہزاروں میل دور بیٹھے دشمن کو تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرکے کچھ اور ہی چوڑا ہو گیا۔ ایٹم بم، میزائل راکٹ کی ترقی کے بعد دور دراز کے دشمن پر حملہ کی صلاحیت حاصل کی تو آپے سے ہی باہر ہو گیا اور پہلی جنگ عظیم ہی بھُلا دی، کیونکہ ایٹم بم کے استعمال سے جنگوں کا طریقہ کار ہی بدل گیا۔

مزید پڑھیں : نئی سرد جنگ، امریکہ چین مد مقابل، میدان جنوبی ایشیا، معاشی مفادات اہم ہتھیار

دوسری جنگ عظیم کے بعد سائنس نے بہت زیادہ ترقی کی وائی فائی ٹیکنالوجی کے ذریعہ جنگ کا نقشہ بالکل بدل گیا۔ اقوام متحدہ کے قیام کیساتھ کھل کر جنگ کرنا ایک مشکل کام ہو گیا، میڈیا کی ترقی سے حملہ آور کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مفادات کی جنگ کیلئے امریکہ اور روس سرد جنگ میں داخل ہوئے اور پانچ دہائیوں کے بعد امریکہ کامیاب ہوا۔ 1992ء کے بعد امریکہ تنہا سپر پاور رہ گیا اور اس نے تیل و دیگر وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے عراق، ایران، کویت، لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو جنگ میں دھکیل دیا۔
امریکہ کے دس سال تک من مانی کے نتیجہ میں القاعدہ جیسی تنظیموں نے سر اٹھایا اور نائن الیون جیسا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں افغانستان پاکستان عراق مشرق وسطیٰ کو پھر جہنم بنا دیا گیا-

یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران کشیدگی اورعالمی برادری

روس کی تباہی کے بعد چین کے لیڈروں نے اپنے افرادی و معدنیاتی وسائل استعمال کر کے تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرنا شروع کر دیں، اور اپنی صنعتی پیداوار ارزاں قیمت پر فروخت کر کے یورپی ممالک خصوصاً امریکی مصنوعات کو عالمی منڈی میں چاروں شانے چت کر دیا، جس سے دنیا ہتھیاروں کی جنگ سے نکل کر معاشی جنگ کےفیز میں داخل ہو گئی- چین نے اپنی امن پسندی اور ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کی واحد سُپر پاور امریکہ کو نہ صرف ناکوں چنے چبوانا شروع کر دیئے بلکہ اسے کُھل کر اپنے دشمن کے روپ میں دنیا کے سامنے بے نقاب کیا- روس نے بھی جب یہ ساری صورتحال دیکھی تو چین کا ہمنوا بن گیا-

معاشی بالادستی کیلئے امریکہ اسرائیل اور چین میں جاری سرد جنگ

اس سارے عرصے میں امریکہ جہاں اپنے ہتھیاروں، طاقت اور بدمعاشی کے زور پر دنیا کو اپنے سامنے سرنگوں کرنے کی لا حاصل سعی کرنے میں محو تھا، چین نے خصوصاً ٹیکسٹائل، الیکٹرونک، آٹو موبائل کنسٹرکشن میٹریل کی مارکیٹ میں اپنا حصہ 30 فیصد سے زائد کر لیا۔ پیداواری لاگت میں کمی کی وجہ سے مرسڈیز ایپل جیسی کمپنیوں نے اپنی پیداوار چین میں شروع کر دی۔ اٹلی لیدر و گارمنٹس یورپ اور امریکہ کو سپلائی کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا تھا۔ چین کی کمپنیوں نے اٹلی کی مارکیٹوں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا- (بائیو لوجیکل جنگ)
اس وقت دنیا میں غیر اعلانیہ تقریباً دس ممالک ہیں جن میں اسرائیل بھی شامل ہے، جبکہ امریکہ چین تو ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں اور ان کی سرد جنگ گزشتہ ایک دہائی سے تیزسے تیز تر ہوتی جارہی ہے-

عسکری طور پر امریکہ حاوی تو معاشی پلڑا چین کا بھاری

عسکری طور پر امریکہ دنیا پرحاوی ہے اور دنیا میں اس کے سینکڑوں فوجی اڈے قائم ہیں لیکن چین فوجی اڈوں کے بجائے اپنے معاشی اڈے مضبوط کرنے میں کامیاب ہوتا جا رہا ہے۔ سی پیک منصوبہ اس کی ایک کڑی ہے۔ امریکہ نے چین کے معاشی پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے چینی مصنوعات پر بے تحاشا ٹیکس عائد کئے لیکن چین کی جوابی کارروائی پر پسپائی اختیار کی۔ امریکہ چین سے ظاہری عسکری جنگ نہیں کر سکتا۔ امریکہ جن ملکوں میں صف آرا ہے- (بائیو لوجیکل جنگ)
چین اس میں مداخلت نہیں کرتا اس کام کیلئے امریکہ کا پرانا حریف روس ہی کافی ہے، اس وقت امریکہ اور چین میں مارکیٹ قبضے کی جنگ جاری ہے اور اس میں چین کا پلہ بھاری ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی پیداواری صلاحیت کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کا جنگ کیلئے پیمانہ ہولناک تجربہ

چونکہ حاضر وقت میں دنیا جتنا عسکری جنگ کے حوالے سے خود کو تباہ کن ہتھیاروں سے لیس کر چکی ہے اور ہتھیار بردار طاقتیں جانتی ہیں اگر معمولی سی بھی اس دوران غلطی ہوئی تو بچنا ممکن نہیں- پھر کیا ہوا ان نتائج سے آگاہ عالمی طاقتیں دیگر ایسے طریقے ایجاد کرنے میں جُت گئیں کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے- شیطانی ذہنوں نے اس ضمن میں بائیو سائنس کا سہارا لیا اور بنی نو ح انسان کی فلاح و بہبود کے بجائے اس پر اپنا تسلط قائم کرنے کیلئے بائیولوجیکل ہتھیار بنانا شروع کر دیئے- یوں روایتی لڑائی ایٹمی جنگ سے آگے بڑھ کر وائرس زدہ کر دی-

بائیولوجیکل جنگ کا تجربہ خود تجربہ کرنیوالوں کو بھی مہنگا پڑ چکا

اس بائیو لوجیکل جنگ کا مظاہرہ ہی نہیں بلکہ تباہ کاریاں آج پوری دنیا دیکھنے کیساتھ ساتھ بھگت رہی ہے، حتیٰ کہ وہ طاقتیں بھی اس وائرس جنگ کی لپیٹ میں آچکی ہیں، جنہوں نے اسے دشمن کیخلاف استعمال کیا- آج پوری دنیا میں بسنے والے انسان حیران پریشان ہیں، موت جو ویسے تو بر حق ہے مگر اس کا ایک وقت معین ہے لیکن اب وہ بھی اپنے پر پھیلائے پوری دنیا پر محو پرواز ہے، عالمی معشیت ٹھپ ہو چکی، طلب و آمد و رفت ختم اور چہار سُو معاشی، سماجی بدحالی کا دور دورہ ہے-

چین امریکہ اور امریکہ چین اور روس کو دوش دیے چکے

چین کی وزارت خارجہ نے پچھلے ہفتے بیان جاری کیا چائنا میں کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ امریکہ ہے اور امریکہ وائرس کو چائنہ و روس کا نام دے رہا ہے۔ درحقیقت یہ بائیولوجیکل جنگ سے جو ایٹم بم سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ ایٹم بم کی تباہی تو ایک محدود حد تک رہتی ہے لیکن اس جنگ میں ہر شخص ایک ایٹم بم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بڑی طاقتوں نے ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کے چکر میں پورے کرہ ارض میں تباہی پھیلا دی ہے، اس تباہی کے اثرات ایک سال سے پہلے کم نہ ہوں گے، جبکہ دوبارہ جنم نہ لینے کی کوئی ضمانت بھی نہیں- اس جنگ میں جہاں دونوں ملکوں کی برآمدات تباہ ہو گئی ہیں۔ وہیں پوری دنیا موت کی وادی میں بدل چکی ہے-

تیل انتہائی ارزاں فروخت کرنا مجبوری تو جمع پونجی اپنے بچاؤ پر لگ گئی

امریکی تیل کی قیمت 22 ڈالر ہو گئی اور تقریباً دس ٹریلین ڈالر کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ چین کے ایک شہر ووہان میں تباہی آکر گزر گئی، لیکن اب پورا امریکہ اس کی زد میں آ چکا ہے اوراسے کئی طرح کی تباہی و بربادی کا سامنا ہے-

موجودہ عالمی صورتحال دنیا کی بڑی طاقتوں کیلئے لمحہ فکریہ

موجودہ صورتحال میں لمحہ فکریہ ہے اور دنیا کی بڑی طاقتوں کو اپنے رویے درست کرنے چاہئیں، بائیولوجیکل جنگ کو ختم کرنا چاہیے۔ ورنہ اس جنگ میں کسی کی فتح یا شکست نہیں ہونی بلکہ پوری دنیا کا خاتمہ ہوجانا ہے- کیونکہ ایک تجربے نے سب کچھ عیاں کر دیا ہے- جس مادہ پرستی کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کیلئے گھنائونا کھیل کھیلا گیا اس نے پورے میدان کو ہی تباہی سے دو چار کر دیا ہے- ابھی بھی وقت ہے کہ دنیا بڑی بڑی معیشتیں ایک نیا معاہدہ کریں اور اپنی اپنی صلاحیت کی مناسبت سے میدان معشیت میں اپنا مقام بنائیں اور دوسرے کے مقام کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھیں-

امریکہ اور اسرائیل کو جیو اور جینے دو کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی

حسد و بغض برقرار رہا تو داستاں تک نہ رہے گی داستانوں میں انجام ہے- اس ایک وائرس نے چند ماہ میں پوری دنیا کی معشیت کو پانچ سال پیچھے دھکیل دیا جبکہ غریب ممالک کو تو اپنی جانوں کے لالے پڑ چکے ہیں- امید ہے امریکہ بہادر اور اس کے لے پالک اسرائیل کو بخوبی سمجھ آ گئی ہو گی کہ یہ ایسی جنگ ہے جس میں وہ خود بھی تباہ ہو سکتے ہیں، اسی لئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ دونوں طاقتیں جیو اور جینے دو کے اصول کو اپنا کر بچی کھچی دنیا کو نئے سرے سے آباد کرنے کی سعی میں جُت جائیں گے-

رب تعالیٰ کی شیطان اور چیلوں کو دی گئی مہلت میں ہر لمحے کمی

امریکہ بہادر اور اس کے لے پالک کو اب بھی عقل نہ آئی اور وہ یونہی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے شیطانی کھیل کھیلنے پر بضد رہے تو رب تعالیٰ جسے وہ “گاڈ” کے نام سے اور اہل اسلام ” اللہ ” کہہ کر پکارتے ہیں، نے انہیں نکیل ڈالنے اور سبق سیکھانے کا بڑا بندوبست کر رکھا ہے جس کی تاب لانا کسی کے بھی بس میں نہیں- ویسے بھی رب تعالیٰ وقت معلوم تک شیطان اور اس کے چیلوں کو اپنے بچائو کی دوڑ دھوپ کرنے کی مہلت دے چکا ہے جو ہر گزرتے لمحے کیساتھ کم ہو رہی ہے طویل نہیں- صرف ایک حماقت نے ترقی یافتہ دنیا کو پتھر کے زمانے کی یاد دلا دی-

بائیو لوجیکل جنگ

Leave a Reply