tipu nuqta e nazer jtnonline

ای وی ایم تنازع، حکومت کا موقف درست یا بلاوجہ بضد

Spread the love

ای وی ایم تنازع

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال پر الیکشن کمیشن کے ساتھ تنازع میں

تحریک انصاف کی حکومت اچانک بیک فٹ پر چلی گئی، حکومت کے موقف

میں یہ تبدیلی الیکشن کمیشن کی طرف سے دو وفاقی وزراء فواد چوہدری اور

اعظم سواتی کو نوٹس جاری کئے جانے کے بعد آئی۔ نوٹس جاری ہونے کے بعد

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا

استعمال الیکشن کمیشن کا استحقاق ہے اور الیکشن کمیشن نے ہی فیصلہ کرنا ہے

کہ کونسی ووٹنگ مشین استعمال کرنی ہے، اس سے قبل حکومت بضد تھی کی

2023ء کے انتخابات ہر صورت ان الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے

کرائے گی جو حکومت نے تیارکی ہیں اور جنہیں الیکشن کمیشن نے یہ کہتے

ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ یہ مشین محفوظ نہیں اور ان پر خرچہ بھی زیادہ آئے

گا اور یہ کہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے دھاندلی کی جا سکتی ہے۔ انتخابی

اصلاحات کے سلسلے میں حکومت نے پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے

جس میں حکومت سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کے ارکان شریک ہیں۔

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

تحریک انصاف کی حکومت کی الیکشن ایکٹ 2017ء میں مجوزہ ترامیم میں

میڈیا پر سب سے زیادہ زیر بحث الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی تجویز

ہے۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ2017ء میں ترامیم پر آئینی بنیادوں پر 45

اعتراضات کیے جنہیں حکومت کی جانب سے دور نہیں کیا گیا بلکہ ان پر

اصرار کیا گیا۔ 7 ستمبر 2021ء کو الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی

میں جو تفصیلی رپورٹ جمع کروائی، اس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے

استعمال پر بھی 37 اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ 10 ستمبر 2021ء

کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے ملک میں آئندہ ہونے والے

عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور سمندر پار پاکستانیوں

کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق مجوزہ بل کو مسترد کر دیا، جس پر وفاقی وزیر

ریلوے اور تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن

پر پیسے لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اداروں کو آگ لگا دینی

چاہیے۔ وزیر ریلوے کے ان ریمارکس پر الیکشن کمیشن کے ارکان احتجاجاً واک

آﺅٹ کر گئے۔ بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی

الیکشن کمیشن کو ” اپوزیشن کمیشن “ کا ہیڈ کوارٹر قرار دیا اور کہا کہ چیف

الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجہ کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آئینی اورقومی ادارہ ہے جس کے ارکان کا تقرر

حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے کے بعد کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی

اعلیٰ قیادت نے اپنے وزراء کے غیر مناسب بیانات کا نوٹس نہیں لیا حالانکہ

چیف الیکشن کمشنر اور دوسرے ارکان کا تقرر پی ٹی آئی کے دور حکومت میں

ہی ہوا ہے۔ اس سے قبل اگست 2019ء میں حکومت نے غیر آئینی طریقے سے

الیکشن کمیشن کے 2 ارکان کی تقرری کی تو اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر

نے ان ارکان سے حلف لینے سے انکار کر دیا تو حکومت نے صدارتی آرڈیننس

جاری کر دیا جسے بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر آئینی قرار دے کر

الیکشن کمیشن کے آئینی کردار اور فیصلے کی توثیق کی۔ اب ایک بار پھر

تحریک انصاف کی حکومت نے اکثریت کے بل بوتے پر الیکشن ایکٹ 2017ء

میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات

2023ء کروانے کا فیصلہ کیا ہے تو بحث ایک مرتبہ پھر چھڑ گئی ہے کہ آیا

ووٹنگ کے اس جدید طریقے کو اختیار کیا جائے یا نہیں؟

=-،-= صوبہ پنجاب سے متعلق مزید خبریں ( =،= پڑھیں =،=)

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک ( فافن ) نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم)

اور آئی ووٹنگ بل میں قانونی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں

سیاسی اتفاق رائے کے بغیر الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے جائز ہونے پر سوالات

اٹھائے۔ فافن نے کہا ہے کہ جس طرح 2017ء میں مشاورت کے بعد انتخابی

اصلاحات میں اتفاق رائے پیدا کیا گیا تھا اسی طرح موجودہ حکومت بھی

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور اتفاق رائے پیدا

کرنے کی روایت کو برقرار رکھے۔ فافن نے مشورہ دیا کہ حکومت کو سیاسی

فیصلہ سازی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر نہیں ڈالنی چاہئے کیونکہ اس سے

انتخابات کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔ پلڈاٹ اور دیگر سیاسی ماہرین و مفکرین نے

بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے متعلق الیکشن کمیشن کے موقف

کی تائید کی ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشین فول پروف ہے نہ ہی

اگلے عام انتخابات کے حوالے سے ایک دم اتنا بڑا فیصلہ مناسب ہے جیسا کہ

پچھلے انتخابات میں لیا گیا تھا اور رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم ( آر ٹی ایس ) جام ہو

گیا تھا اور الیکشن 2018ء کے نتائج پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

دنیا بھر میں 70 ممالک نے ابتدائی طور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال

کیا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ ان مشینوں کے نقائص اور انکے فول پروف نہ

ہونے کے باعث اس کا استعمال ترک کر چکے ہیں، موجودہ دور میں صرف تین

ممالک فلپائن، برازیل اور ہمارا ہمسایہ بھارت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا

استعمال کر رہے ہیں، بھارت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا باقاعدہ استعمال

کرنے میں دس سال کاعرصہ لگا، ابتدائی طور پر دو پولنگ سٹیشنوں پھر دو

حلقوں اور اس کے بعد پورے ملک میں اس کا استعمال کیا گیا لیکن صورتحال

یہاں بھی قابل تعریف نہیں ہے، بھارت میں ہر الیکشن کے بعد ان مشینوں کی

افادیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں بلکہ موجودہ حالات میں تو بی جے پی سرکار

سے متعلق اپوزیشن کا واضح موقف ہے کہ مودی سرکار الیکٹرانک ووٹنگ

مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کر کے اقتدار میں آئی ہے۔

=-،-= بلوچستان سے متعلق مزید خبریں ( =،= پڑھیں =،= )

مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین

کو حکومت کی ” مشینی دھاندلی “ کی منصوبہ بندی قرار دے کر الیکشن کمیشن

سے مطالبہ کیا ہے کہ آئینی ادارے پرالزام تراشی کرنے والے وزراء کو نا اہل

قرار دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے تو حکومت کی جانب سے الیکٹرانک

ووٹنگ مشین کے معاملے پر زبردستی کرنے پر آئندہ عام انتخابات کے بائیکاٹ

کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ

مشین پر بات کی جا سکتی ہے کہ یہ ہو یا نہ ہو۔ بتدریج ہو یا نہ ہو۔ بہرحال

الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کی باہمی رضا مندی کے بعد عام انتخابات

منعقد ہونے چاہئیں۔ ورنہ انتخابی عمل کا آغاز پُر خطر ہو گا اور انتخابی نتائج

متنازعہ ہوں گے۔ اسی طرح اگرانتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے

کروانے کے لئے صدارتی آرڈیننس اور یکطرفہ قانون سازی کا سہارا لیا گیا تو

یہ بھی جمہوریت کی روح کے منافی ہو گا۔

=-.-= صوبہ سندھ کی مزید خبریں ( == پڑھیں == )

پی ٹی آئی کی حکومت ماضی میں خود اس بات کا پرچار کرتی رہی ہے کہ قومی

اداروں کو متنازعہ نہ بنایا جائے۔ اب اگر وزیراعظم پاکستان اور کابینہ کے معزز

ارکان خود قومی اور آئینی اداروں کو متنازعہ بنائیں گے تو اس سے جمہوریت

کی نفی ہو گی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کی طرز

پر مالی اور انتظامی خود مختاری دی جائے، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر

باہمی اعتماد کی فضا پیدا کی جائے اور انتخابی اصلاحات کا ایک جامع پیکیج

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کروایا جائے تا کہ اگلے انتخابات

2023ء کا پورا انتخابی عمل ہر قسم کی سیاسی انجینئرنگ، دھونس، دھاندلی اور

دباﺅ سے آزاد ہو اور ایک شفاف و باوقار پارلیمنٹ وجود میں آئے مگر بدقسمتی

سے ڈیڈ لاک ابھی تک برقرار ہے۔

ای وی ایم تنازع ، ای وی ایم تنازع ، ای وی ایم تنازع ، ای وی ایم تنازع

ای وی ایم تنازع ، ای وی ایم تنازع ، ای وی ایم تنازع ، ای وی ایم تنازع

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply