88

ای سی سی اجلاس، گیس کی قیمت میں اضافہ موخر

Spread the love

ای سی سی اجلاس
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی

رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چھ نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اقتصادی

رابطہ کمیٹی نے ترکش کمپنی کارکے کیساتھ سیٹلمنٹ معاہدے کی منظوری دیدی ،

جس سے پاکستان کے ذمہ 1.2 ارب ڈالر کے واجبات معاف ہوں گے۔ کابینہ کی

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سٹیٹ بنک کو ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ(ایچ بی

ایف سی ایل) میں اپنے شیئرز فروخت کرنے کی اجازت دینے اور گیس کے نرخ

میں اضافے کی سمری پر غور موخر کر دیا ہے تاہم پاکستان سٹیل ملز کے ذمہ

سوئی سدرن گیس کمپنی کے واجب الادا گیس بلوں کی مد میں 35 کروڑ روپے

کے اجراء کی منظوری دیدی ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کومشیر

خزانہ و محصولات حفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کارکے کے

ذمہ پورٹ چارجز وبقایاجات کی مد میں31جنوری 2020 تک یا جہاز کی بندرگاہ

سے روانگی تک واجب الادا19 کروڑ 49 لاکھ51 ہزار59 روپے سے دستبرداری

کی منظوری دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ واجبات سے دستبرداری حکومت

پاکستان اورکارکے کے درمیان طے پانیوالے تصفیہ کے مطابق ضروری ہے۔

اجلاس میں وزارت خزانہ کی تجویز پر پاکستان مورگیج ریفائنانس کمپنی لمیٹڈ

کیلئے عالمی بنک سے حاصل کردہ14 کروڑ ڈالر قرضہ کی ایک کروڑ ڈالر رقم

کی تیسری قسط کیلئے رسک شیئرنگ سہولت کے نفاذ کیلئے ٹرسٹ فنڈ کے قیام

کی منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے مالی سال 2019-20 کے اخراجات پورے

کرنے کیلئے 80 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی۔اجلاس

میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی مواصلات کی تجویز پر ای گورنمنٹ

پروگرام کے نفاذ کیلئے درکار انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی انفرا سٹرکچر

کی مرکزی طور پر خریداری کیلئے 10 کروڑ روپے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ

کی منظوری بھی دی گئی۔ وزارت صنعت و پیداوار کی تجویز پر رابطہ کمیٹی نے

پاکستان سٹیل ملز کے ذمہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے واجب الادا گیس بلوں کی

ادائیگی کی مد میں 35 کروڑ روپے کے اجراء کی منظوری دی۔متعلقہ رقم مالی

سال2019-20ء میں پاکستان سٹیل ملز کیلئے مختص شدہ بجٹ سے ادا کی جائے

گی۔

ای سی سی اجلاس

Leave a Reply