aik foji khani jtnonline1

مجھے شہید ہوئے 12 سال کا عرصہ بیت چُکا، یہ ہے 2032ء . . . . .

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک فوجی کی کہانی

آج مجھے شہید ہوئے 12 سال کا عرصہ گزر چکا ہے، میں 24 سال کی

بھرپور جوانی کی عمر میں جب میرے ہم عمر موبائل پرپب جی( PUBG)

کھیلتے تھے میں ایک اصلی لڑائی میں کلاشنکوف کی 60 روپے کی ایک بھارتی

گولی سے شکار ہوا۔

دنیا ویسی ہی چل رہی ہے جیسے تھی

————————————————————–

میں چھوٹا تھا تو مجھے پڑھنے کا شوق تھا

میں نے دینی تعلیم ایک مدرسے، دنیاوی و دینی مکس تعلیم سکول سے حاصل کی

زندگی بڑی رنگین تھی گلی محلے میں دوستوں سے کھیلتے جھگڑتے ،صلح

کرتے جوانی کی طرف جا نکلی اور مجھے پتہ تک نہ چلا۔

میٹرک پاس کیا تو اندازہ ہوا کہ گھر کے حالات مجھے آگے پڑھنے کی اجازت

نہیں دیں گے، اسلئے مجھے روزگار ڈھونڈنا چاہئے۔

اسی اثنا میں میرا محلے کی ایک فخرالنسا نامی معصوم سی لڑکی پہ دل آ گیا جو

کہ عمر میں مجھے سے تین سال چھوٹی تھی۔

کیا دل کا آنا اور کیسے وقت میں آنا تھاکہ ایک دن بھائی نے کہا کہ فوج کی

بھرتی آئی ہوئی ہے تم کو روز گار کی تلاش تھی تو کیا تم قربانی دو گے اب

تاکہ سارے بہن بھائیوں کی پڑھائی جاری رہ سکے۔

ہم چار بھائی اور تین بہنیں تھے۔

——————————————————

میں نے اپنی ذات کو اس شرفِ قربانی کیلئے موزوں سمجھ کے رجسٹریشن

کروا دی اور سلیکشن کے تمام امتحانات سے سرخرو ہوتا گیا، جیسے کہ اللّٰہ

کی طرف سے غیبی مدد اور بلاوہ تھا۔

میں فوجی ہو گیا۔

——————————————————–

گھر سے دور ایسے لوگوں کے رحم و کرم پی کہ جن کو میں صرف اتنا جانتا

تھا کہ وہ میری طرح کے فوجی اور مجھ سے سینئر ہیں۔

مجھے ٹریننگ میں میرے ہی گھر رابطہ کرنے کیلئے موبائل رکھنے کی اجازت

نہیں تھی۔

میں لائنوں میں لگ کے ایک ایک منٹ کے حساب سے اس دور میں پیسے دے کے

اپنے ہی گھر والوں کو کال کرتا تھا جس دور میں لوگ انٹر نیٹ کے ذریعے اپنے

دوستوں اور معشوقوں کو فری کال کر کے پیار کی باتوں میں راتیں گزار دیتے

تھے۔

میری ہر رات سردی اور گرمی کی سخت ٹریننگ میں گزرتی تھی۔

گھر کی خبر نہ اکلوتی محبت فخرالنسا کی ،جس سے پردے اور اسلامی ماحول

کے باعث میں اظہار تک نہ کر سکا اور غربت کی وجہ سے رشتہ تک نہ بھیج

سکا تھا۔

جان چھوٹی کہ ٹریننگ ختم ہوئی

—————————————————–

کشمیر کے گلیشئر میرے قدموں کی چھاپ کے جیسے منتظر پڑے تھے۔

میری یونٹ کو کشمیر بھیج دیا گیا۔

جہاں کے گلیشئر پہ صرف زندہ رہنا ہی ایک جنگ تھی۔

دوسال وہاں گزرے۔

ان دو سالوں میں جب جب برف پگھلتی تھی تو اس کے پانی سے ہم اپنے لاپتہ

فوجی دوستوں کی لاشیں نکالتے تھے اور اپنی باری کا انتظار کر تے تھے کہ

کب کیا ہو جائے۔

گھر والوں سے رابطہ بہت ہی کم ہوتا کیونکہ سگنل ہمارے سامنے موجود پہاڑ

کی چوٹی کے قریب ایک مخصوص جگہ پہ آتے تھے اور وہ بھی ایک ہی نیٹ

ورک کے جہاں پیدل جانا پڑتا اور کال کٹ کٹ کے ہوتی۔

اس دوران میری خاندانی زندگی پہ عجیب اثر پڑا۔

جس گھر کا میں فرد تھا اسی گھر میں میں جب چْھٹی جاتا تو میرے ساتھ

مہمانوں والا سلوک کیا جاتا اور مجھے مہمان سمجھا جاتا۔

میری کسی بات سے فطری اختلاف پہ میرے دوسرے بھائی یا بہن کو ترجیح

دی جاتی اور ان کی ماں باپ کیساتھ بھلائیاں اور خدمات گنوائی جا تیں۔

مجھے گھر کی بھلائی کیلئے نکلے ہوئے تین سال ہو چکے تھے تب مجھے کچھ

کچھ احساس ہونے لگا کہ میں پاگل ہوں۔

—————————————————————–

قربانی بھی میں نے دی پر ماں باپ تک مجھ سے مہمانوں والا برتاؤ کرتے ہیں

کیونکہ میں دور ہونے کی وجہ سے خدمت نہیں کر پا رہا تھا حالانکہ ان کا

علاج معالجہ تک اللہ نے میرے وسیلے سے فری کر دیا تھا اور وہ بھی ملک کے

بہترین ہسپتالوں میں پر میں کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا۔

اچانک ایک دن ہماری یونٹ کو شمالی وزیرستان جانے کا حکم مل گیا

ایک طرح سے شکر کیا کہ ان برفانی تودوں کی دشمنی سے جان چْھوٹی

وزیرستان رپورٹ سے پہلے میں گھر والوں کو ملنے آیا تھا

اپنی ماں سے فخرالنسا سے شادی اور رشتہ مانگنے کا اظہار کیا تا کہ اسکے

والدین کہیں اور نہ رشتہ کر دیں پر ماں کی زبانی پتہ چلا کہ میری پہلی

محبت کی شادی کو چار ماہ گزر چکے تھے جسکا مجھے سیاچن کے بارڈرز پہ

پتہ تک نہ چلا تھا۔

ایک صدمہ تھا یا ایک اور قربانی جس نے میری ذہنیت پہ پاگل ہونے کے نقوش کو

اور پْختہ کر دیا۔

وزیرستان جانے سے پہلے پوری یونٹ کوہاٹ میں جمع ہو چکی تھی

ہم کانوائے کی صورت میں وزیرستان روانہ ہوئے

ابھی ٹل کراس ہی کیا تھا کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور ہم سے اگلی گاڑی اور

فوجیوں کے ٹکڑے ہوا میں بکھر گئے۔

میرے ہاتھوں کی انگلیاں شدید زخمی ہو گئیں

کانوائے میں موجود تمام فوجیوں نے علاقے کو گھیر کے سرچ آپریشن کیا تو

پتہ چلا کہ ایک نو سالہ بچے کو ریموٹ کا بٹن دبا کے بم پھٹانے کیلئے بٹھایا گیا

تھا جس کو دہشت گردوں نے ایک ہزار روپیہ اس کام کا معاوضہ ایڈوانس دیا تھا

اور بولا کہ جھنڈے والی پیلی گاڑیاں جب اس در خت کے پاس پہنچ جائیں تو

بٹن دبا دینا۔

دہشت گرد نکل گئے تھے

ہم کس کے ہاتھوں پہ اپنا خون تلاش کرتے

——————————————————————

بہت ہی عجیب قسم کے دشمن سے پالا پڑا تھا جو بچوں تک کو استعمال کر رہا

تھا

ہمارے چھ جوان اور ایک افسر شہید ہو چکے تھے

افسر ابھی ابھی کاکول سے ٹریننگ مکمل کر کے پہلی پوسٹنگ پر ہمارے ساتھ جا

رہا تھا

شہیدوں میں ایک حوالدار زاہد تھا۔۔۔۔۔جو شادی شدہ تھا باقی تمام نوجوان تھے

حوالدار زاہد کا ایک سال کا بیٹا تھا جس کا نام اس نے میرے نام پہ ہی رکھا

تھا کیونکہ وہ مجھے اپنا بیٹا کہا کرتا تھا اور ہمارا ایک روحانی قسم کا تعلق تھا۔

ہم مسجد میں ہر نماز پہ ملتے تھے

میں حوالدار زاہد سے اپنے تمام معاملات پہ مشورہ لیتا تھا

وزیرستان کیا تھا ایک نئی جنگ تھی

جو گلیشئر اور نہ انڈین توپ خانے سے بچنے کی تھی بلکہ اپنے وطن کے ان

لوگوں سے تھی جو ہم کو مرتد اور امریکہ کے اتحادی بول کے کلمے پڑھ پڑھ

کے بکروں کی طرز پہ ذبح کرتے تھے۔

ایک فوجی کی کہانی—– جاری —–

یہ بھی پڑھیں : بی بی سی کی رپورٹ حقائق کے برعکس، جھوٹ کا پلندہ، ترجمان پاک فوج
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ایک فوجی کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply