ایک درخواست پر پگڑیاں اچھالنے لگتے ہیں کیانیب کے سوا سب چور ہیں؟چیف جسٹس

Spread the love

۔چیف جسٹس نے چیئرمین نیب پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک درخواست آتی ہے اور لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا شروع کردیتے ہیں، کیا نیب کے سوا پورا ملک چور ہے، جس نے اب عدالتی احکامات کی ہی تذلیل شروع کر دی۔چیف جسٹس نے کہا بحرین حکومت 10 ارب روپے دینے کو ترس رہی ہے اور نیب ہر معاملے میں انکوائری شروع کر کے سسٹم روک دیتا ہے، کیا صرف نیب کے لوگ سچے اور پاک ہیں، نیب سپریم کورٹ کے احکامات کی تذلیل کروا رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کس نے کس نیت سے درخواست دی اور نیب نے کارروائی شروع کر دی،ہم نیب کے لوگوں کے وارنٹ جاری کر دیں تو ان کی کیا عزت رہ جائے گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ لاہور میں نیب کی ایک بی بی بیٹھی ہے جو لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے اور وہ بی بی اپنے کام کروا رہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے کیا کام شروع کر دیا ہے، نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھال رہا ہے پورے ملک کو بدنام کر رہا ہے، چیئرمین نیب کو بتا دیں ممکن ہے ان کو بطور سابق جج حاصل حاضری سے استثنیٰ واپس لے لیں، سابق سپریم کورٹ ججز کو حاضری سے استثنیٰ خود ہم نے دیا۔چیف جسٹس نے کہا کیوں نہ چیئرمین نیب کا بطور سابق جج حاضری سے استثنیٰ ختم کر دیں، چیرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب فوری طور پر چیمبر میں پیش ہوں۔عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کو بھی فوری طور پر طلب کرلیا۔بعد ازاں وفاقی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے چیمبر میں ملاقات کی ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے طلب کیے جانے پر چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال پیش ہوگئے اور چیئرمین نیب نے چیف جسٹس سے چیمبر میں ملاقات کی

Leave a Reply