ایک امریکی فوجی قتل کرنے کایہ مطلب نہیں کہ مذاکرات معطل کر دئے جائیں،افغان طالبان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان نے امریکہ کو ایک بار پھر امن مذاکرات کی

پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقبل میں امن

مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہیں تو ان کے دروازے کھلے ہیں۔بی بی سی کو دئے

گئے انٹرویو میں طالبان کے امن مذاکرات کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی

نے افغانستان میں امن کے لیے صرف مذاکرات کو ہی واحد راستہ قرار دیا۔انہوں

نے امریکہ کی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے کچھ غلط نہیں

کیا،امریکیوں نے ہزاروں طالبان کو قتل کیا لیکن اسی دوران اگر ایک بھی امریکی

فوجی کو قتل کردیا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں اس طرح کا رد عمل

دینا چاہئے کیونکہ دونوں طرف سے سیز فائر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری

طرف سے مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ

دوسری طرف سے بھی مذاکرات کے حوالے سے کیے گئے فیصلے پر دوبارہ

غور ہوگا۔شیر محمد عباس کا کہنا تھا کہ طالبان اور غیر ملکی افواج کے درمیان

سیز فائر پر عملدرآمد معاہدے پر دستخط کے بعد بھی ہوگا ،تاہم اس وقت طالبان

اور افغان حکومت کے درمیان کوئی سیز فائر نہیں ہے۔شیر محمد عباس نے تصدیق

کی کہ طالبان نے امن مذاکرات میں مدد کے لیے روس اور چین تک رسائی حاصل

کرلی تھی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply