ایڈیٹر انچیف جنگ گروپ میرشکیل الرحمان کو نیب نے حراست میں لے لیا

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے 54

پلاٹوں پر رعایت لینے کے الزام پر مبنی کیس میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان

کو گرفتار کر لیا۔میر شکیل الرحمان گزشتہ روزدوسری بار نیب کے سوالات کا جواب دینے کیلئے

پیش ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ 5 مارچ کو 2 گھنٹے نیب کے زیر تفتیش رہے۔ ترجمان نیب نے

میرشکیل الرحمان کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔جبکہ نیب کی جانب سے تصدیقی بیان میں کہا

گیا ہے کہ میر شکیل الرحمان سوالوں کے جواب نہ دے سکے جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا، آج

عدالت پیش کر کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ لیا جائیگا۔خیال رہے کہ میر شکیل الرحمان پر نواز

شریف سے 54 پلا ٹس پر رعایت لینے کا الزام ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمان کو 1986ء

میں جوہر ٹاؤن لاہور میں 54 پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ ہوئی۔دوسری طرف ترجمان جنگ گروپ

کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے

تھے جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شا مل ہیں۔ترجمان

جنگ گروپ کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے یہ پراپرٹی پرائیوٹ افراد سے خریدی تھی، میر

شکیل الرحمان کیس کے سلسلے میں دو بار خود نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے، جواب دینے کے

باوجود گرفتار کر لیا گیا، نیب نجی پرا پرٹی معاملے میں ایک شخص کو کیسے گرفتار کر سکتا ہے؟

میر شکیل الرحمان کوجھوٹے، من گھڑت کیس میں گرفتارکیاگیا، قانونی طریقے سے سب بے نقاب

کریں گے۔ ترجمان کے مطابق گزشتہ 18 ماہ میں نیب نے ہمارے رپورٹرز، پروڈیوسرز اور ایڈیٹرز

کو بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر درجنوں دھمکی آمیز نوٹسز بھیجے اور دھمکی دی کہ ہمارے

چینلز کو پیمرا کے ذریعے بند کرادیا جائے گا کیو نکہ ہمارے چینل پر نیب کے حوالے سے خبریں

اور پروگرامز چلائے جارہے ہیں۔ اپنے دفاع میں نیب نے تحریری طور پر یہ کہا کہ ادارے کو آئینی

تحفظ حاصل ہے اور اس پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ نیب نے دیگر ذرائع سے

بھی ہمیں سچ بتانے کے بجائے اپنی رفتار کم ، خبریں نہ چلانے اور اْن کے حق میں کا م کرنے پر

مجبور کرنے کی کوشش کی۔ترجمان جنگ گروپ کے مطابق ہم اپنے رپورٹرز، پروڈ یو سر ز اور

اینکرز کو کسی بھی ایسی خبر کو نشر کرنے سے نہیں روکیں گے جو میرٹ پر اترتی ہو اور ساتھ ہی

ہم اس میں نیب کا مؤقف بھی شامل کرنے کی کوشش کریں گے، اس حوالے سے نیب نے مذکورہ تمام

الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ وہ تمام کیسز کو آزادانہ طور پر لے کر چلتا ہے اور وفاقی حکومت

کی جانب سے کسی خاص کیس کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply