new zara meri bhi suno3 103

ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے باوجود دنیا تباہی کے دہانے پر

Spread the love

لندن(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) ایٹمی ہتھیاروں میں کمی

1986ء میں دنیا بھر میں موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد 70 ہزار تھی جو کہ اب کم ہو کر اب 14 ہزار ہو گئی ہے- امریکہ، برطانیہ اور روس نے اپنے ہتھیاروں میں کمی کی- مگر فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے مطابق چین، پاکستان، انڈیا اور شمالی کوریا مزید ہتھیار بنا رہے ہیں۔ مزید پڑھیں

2017ء میں ایسا لگا دنیا جوہری ہتھیاروں سے پاک ہوجائیگی

جولائی 2017ء میں ایک موقع پر ایسا لگا کہ دنیا جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونے کے قریب آ گئی ہے، جب 100 سے زائد ممالک نے اقوام متحدہ کے اس معاہدے کی توثیق کی جس میں ان پر مکمل پابندی لگانے کی بات کی گئی، مگر جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس نے اس معاہدہ کا بائیکاٹ کیا- یہ ممالک اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے مستقل رکن بھی ہیں- برطانیہ اور فرانس نے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی سکیورٹی کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جوہری ہتھیار جنگوں کی حوصلہ شکنی کا سبب ؟

جوہری ہتھیار 70 سال سے زیادہ عرصے سے جنگوں کی حوصلہ شکنی کا سبب رہے ہیں، کیونکہ تمام ممالک یہ جانتے ہیں جوہری جنگ کوئی نہیں جیت سکتا- اگرچہ امریکہ اور برطانیہ جسے ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں میں کمی لا رہے ہیں-
مگر ماہرین کہتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنے موجودہ ہتھیاروں کو جدید طرز پر لا رہے ہیں، اور انہیں پہلے سے بہتر بنا رہے ہیں- برطانیہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے نظام کو جدید بنا رہا ہے- امریکہ ممکنہ طور پر اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کے لیے 2040ء تک ایک کھرب ڈالر خرچ کرے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں گلوبل فائر پاور کے حوالے سے بتایا گیا ہے بھارت سب سے طاقتور ترین افواج کی فہرست میں 136 ملکوں میں چوتھے نمبر پر ہے اور پاکستان کا نمبر 17 واں ہے- یہ فہرست 55 مختلف عناصر کو دیکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے- اس میں جغرافیائی، معاشی، مقامی صنعت، قدرتی وسائل، کارکردگی اور ملک کے پہلی، دوسری اور تیسری دنیا کے ملکوں سے تعلق کو بھی مدِنظر رکھا جاتا ہے-

پاکستانی جوہری ٹیکنالوجی بھارت سے بہتر

بھارت اور پاکستان دونوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں لیکن گلوبل فائر پاور نے اپنی رپورٹ میں جوہری ہتھیاروں کا ذکر نہیں کیا- ادارے کا اس متعلق موقف یہ ہے کے دونوں ممالک اپنے جائزوں میں جوہری صلاحیت کو زیر غور نہیں لاتے، تاہم پاکستانی جوہری ٹیکنالوجی کو بھارت سے بہتر مانا جاتا ہے-
اس بارے میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ کچھ ملکوں کے پاس جوہری بم نہیں ہونا چاہیے جن میں ایران بھی شامل ہے- جبکہ کچھ ملک انہیں رکھ سکتے ہیں، کس ملک کو انہیں رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے اور کس کو نہیں اس بحث کا احاطہ کرنا مشکل کام ہے، مگر یہاں جوہری ہتھیاروں کے بارے میں اہم سوالوں کے جواب جمع کیے گئے ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی

جوہری بم تاریخ میں صرف دو بار استعمال ہوئے

انسانی تاریخ میں جوہری بم تاریخ میں صرف دو بار استعمال ہوئے ہیں- 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان پر دو ایٹم بم گرائے گئے، جن سے شدید تباہی اور بہت زیادہ جانی نقصان ہوا-
ہیروشیما پر گرائے جانے والے بم کے اثرات کئی ماہ تک رہے اور اندازے کے مطابق 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے- ناگاساکی پر گرائے جانے والے بم سے 70 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، اس کے بعد کسی بھی جنگ میں ان کا استعمال نہیں ہوا- جوہری ہتھیاروں سے بڑی تعداد میں تابکاری خارج ہوتی ہے، دھماکے کے بعد بھی اس کے اثرات طویل عرصے تک رہتے ہیں-

دنیا کے 9 ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے حامل

دنیا میں اس وقت نو ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں- جن میں امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، چین،بھارت ،پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ ویسے تو جس کے پاس بھی ٹیکنالوجی، مہارت اور سہولیات موجود ہیں، وہ انھیں بنا سکتے ہیں لیکن کس ملک کو انہیں بنانے کی اجازت ہونی چاہیے، یہ ایک بالکل الگ ہی بحث ہے، اس کی وجہ ہے جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ اس معاہدہ کا مقصد ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور ایٹمی اسلحہ کی تخفیف ہو-
1970ء سے لے کر اب تک 191 ممالک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے ”این پی ٹی“ میں شامل ہوئے ہیں، اور اس معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن پانچ ممالک کو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستیں سمجھا جاتا ہے- جن میں امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ اور چین شامل ہیں، ان پانچ ممالک کو یہ ہتھیار رکھنے کی اجازت ہے، کیونکہ انہوں نے جوہری ہتھیار کو تیار اور ان کا تجربہ 1 جنوری 1967ء کو معاہدے کے نفاذ سے پہلے کیا تھا،

اسرائیل کا جوہری ہتھیاروں کا حامل ہونے کا اعتراف نہ ہی انکار

گو کہ ان ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں- معاہدے کے تحت انھیں بھی ان کی تعداد میں کمی لانا ہو گی، اور وہ انھیں ہمیشہ کے لیے نہیں رکھ سکتے۔ اسرائیل نے اپنے پاس جوہری ہتھیار ہونے کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی انکار، پاکستان اور بھارت ”این پی ٹی“ میں شامل ہی نہیں ہوئے، جبکہ شمالی کوریا 2003ء میں اس معاہدے سے علیحدہ ہو گیا تھا- ایران نے اپنا جوہری پروگرام 1951ء میں شروع کیا- ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا کہ یہ ایک جوہری توانائی کا امن پسند پروگرام ہے مگر شبہ کیا جاتا ہے کہ ایران اس پروگرام کی آڑ میں خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنا رہا ہے- جس کی وجہ سے 2010ء میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل، امریکہ اور یورپی یونین نے ایران پر کمر توڑ پابندیاں عائد کر دیں۔

امریکہ ایران کو ایٹمی ملک بننے کی راہ میں رکاوٹ

2015ء میں ایران اور دیگر بڑی طاقتوں نے ایک معاہدہ کیا جس میں جوہری پروگرام میں کمی کے بدلے ایران پر سے تجارتی پابندیاں اٹھائی گئیں- مگر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد امریکہ مئی 2018ء میں اس معاہدہ سے علیحدہ ہو گیا- اب یورپی ممالک نے ایران سے معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں اسے چیلنج کیا ہے-
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد صدر ٹرمپ نے عہد کیا کہ جب تک وہ صدر ہیں ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی- ایٹمی ہتھیاروں میں کمی

30 سال پہلے کی نسبت کم ایٹمی ہتھیار کئی بار دنیا کو تباہ کرنے کے حامل

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی بغداد میں امریکہ کے ہاتھوں شہادت کے بعد ایران کا کہنا ہے کہ اب وہ معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرے گا- شمالی کوریا نے تجربات کا سلسلہ اور اپنا جوہری پروگرام جاری رکھا ہوا ہے، اور اس نے کچھ ہی عرصہ پہلے اکتوبر میں میزائل تجربہ بھی کیا تھا۔ گو کہ آج دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد 30 سال پہلے کی نسبت کم ہے لیکن یہ اب بھی اتنے ہیں کہ دنیا کو کئی مرتبہ تباہ کر سکتے ہیں، اور عنقریب دنیا ان سے پاک ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
مختصراََ یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسان نے اپنی تباہی و بربادی کا سامان اپنے ہی ہاتھوں سے تیار کر رکھا ہے- چھوٹی سی بھی غلطی اسے تباہ و برباد کر سکتی ہے مگر انسان ہے کہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں، بلکہ اپنی اکڑ فوں “انا” میں آکر خود کو تباہی کی جانب دھکیلے جا رہا ہے-

ایٹمی ہتھیاروں میں کمی

Leave a Reply