101

این ڈی ایس بداخلاقی سکینڈل، امریکہ کا گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ

Spread the love

کابل(جتن آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) این ڈی ایس سکینڈل

افغانستان میں امریکی سفیر جان باس نے افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ہاتھوں دو افغان سماجی کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان میں سماجی کارکنوں موسیٰ محمدی اور احسان اللہ نے صوبہ لوگر کے 6 سکولوں میں 550 بچوں اور نوجوانوں کیساتھ بداخلاقی کو بے نقاب کیا تھا- افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس نے بعدازاں دونوں سماجی کارکنوں کو تحویل میں لے لیا جبکہ افغان صدر نے این ڈی ایس کو ہدایت کی کہ دونوں گرفتار کارکنوں کو وزارت داخلہ کے حوالے کیا جائے- یہ بھی پڑھیں

اشرف غنی کا اپنی خفیہ ایجنسی پر برہمی کا اظہار

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بچوں سے بدفعالی کرنے والے گروہوں کو بے نقاب کرنیوالے دو سماجی کارکنوں کو گرفتار کرنے پر اپنے ہی ملک کی خفیہ ایجنسی پر برہمی کا اظہار کردیا۔ ادھرنیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس)نے بتایا تھا موسیٰ محمدی اور اس کے ساتھی احسان اللہ حمیدی کو نقص امن کیلیے خطرہ قرار دینے پر گرفتار کیا گیا۔ موسی محمدی بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلئے بے بنیاد پراپیگنڈہ کررہا ہے۔ افغان خفیہ ایجنسی نے موسی محمدی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں وہ اپنا اکائونٹ واپس لے رہا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا وہ کسی دباؤکے تحت بول رہا ہے۔

سول سوسائٹی کے کارکنوں کو اعتراف جرم پر مجبور کرنا افسوسناک، امریکی سفیر جان باس

صدراشرف غنی نے این ڈی ایس کو کارروائی روکنے کا حکم دیا۔ افغان صدر نے ٹوئٹ میں کہا سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کا تحفظ صرف سیکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے۔ صدارتی ترجمان صدیق صدیقی نے کہا اشرف غنی نے حکم دیا ہے کارکنوں کو ان کے “تحفظ” کیلئے وزارت داخلہ کے حوالے کیا جائے۔ افغانستان میں امریکی سفیر جان باس نے کہا وہ این ڈی ایس کی سوویت طرز کی حکمت عملی سے سخت پریشان ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ میں مزید کہا سول سوسائٹی کے کارکنوں کو اعتراف جرم پر مجبور کرنا افسوسناک ہے جس کا مقصد افغان بچوں کی حفاظت کرنا تھا۔

این ڈی ایس کی معاملہ پر پہلے خاموشی، پھر گرفتار کرنے کا اعتراف

اس معاملے پر این ڈی ایس نے پہلے خاموشی اختیار کی بعد میں کہا کارکنوں کو حفاظت کیلئے تحویل میں لیا گیا ہے۔ این ڈی ایس کے اس اقدام کی جرمن سفیر، سابق افغان صدر حامد کرزئی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں مذمت کرچکی ہیں۔

این ڈی ایس سکینڈل

Leave a Reply