0

این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق ضروری

Spread the love

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے آئی ایم ایف سے بات چیت چل رہی ہے اور کوشش ہے جلد معاہدہ ہو جائے ، پاکستان کےلئے قرض کا حجم نہیں بلکہ شرائط اہم تھیں،ایسا معاہدہ نہیں چاہتے جو پاکستان کی معیشت اور عوام کےلئے بہتر نہ ہو،نئے این ایف سی کےلئے وفاق اور چاروں صوبوں نے کھلے دل سے اتفاق کرنا ہے ،پہلے اجلاس میں مسائل کی نشاندہی کر کے مل جل کر حل تلاش کریں گے ، اب غیر یقینی کی صو ر تحا ل نظر نہیں آرہی اور لوگ خوش ہیں ، بجلی کے نظام کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے ،ٹیکس ریٹرنزفائل کرنے کا طریقہ آسان کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور2019کی ٹیکس ریٹرنزکو آسان بنایا جائے گا، ٹاپ ٹیکس پیئرز کی ستائش کےلئے فروری میں تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس کے مہمان خصوصی وزیر اعظم ہوں گے ، کپاس ہماری معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،ای سی سی کے اجلاس میں سندھ اور پنجاب کے زراعت کے وزراءاور تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر 2019ءکےلئے حکمت عملی بنائیں گے ،پہلے سے موجود صنعتی زونز کو فعال بنانے کےلئے کام کیا جائے گا ،پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کےلئے بیرون ملک پاکستانیوں کےلئے وزیر اعظم عمران خان 31جنوری کو سرٹیفکیٹس کا اجراءکریں گے ۔
گزشتہ روز فےڈرےشن آف پاکستان چےمبرز آف کامرس اےنڈ انڈسٹری(اےف پی سی سی آئی) کے ریجنل آفس اور لاہورچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر تاجر تنظیموں ، مختلف ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا آئندہ وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کو یکجا کرکے نجی شعبہ کو مجموعی طور پر ایک ٹیکس دینے اور ایک ٹیکس کلکٹر کےساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔معاشی ترقی کےلئے حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد سازی ضروری ہے،پاکستان کے شمال میں چین اور مشرق میںبھارت ہے جن سے مقابلہ کرنے کےلئے مل کر کام کرنا ہوگا، نوجوانوں کےلئے روزگار اور عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کےلئے ریونیو میں اضافہ ضروری ہے۔ نجی شعبہ معاشی قوت ہے اوراکیسویں صدی میں دنیا کا معاشی مقابلہ نجی شعبے نے ہی کرنا ہے، حکومت کا کردار صرف سہولت کار کا ہے اور اس نے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے ۔ ریفنڈز کے سلسلے میں پرومزری نوٹس کے اجراءوالا آئیڈیا نجی شعبے کا تھا، اس سے لیکوڈٹی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوگا،لیکوڈٹی ایسے ہی جیسے رگوں میں خون دوڑتا ہے۔ انٹرسٹ ریٹ کا تعین مرکزی بینک کی ذمہ داری ہے۔جب تک سیونگز نہیں بڑھے گی مستحکم سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی ۔ مل کر چلیں گے تو مسائل حل ہوں گے ۔
سابقہ حکمران ہمارے لئے پہاڑ چھوڑ کر گئے ہیں ،23جنوری کو پیش کئے گئے فنانس بل کو ہر طبقے نے سراہا ہے ، ابھی تو ابتداءہے ، ایسا نہیں ہم نے جنگ جیت لی ہے بلکہ ابھی گولہ باری شروع ہوئی ہے ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم نے جن حالات میں معاشی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں سب کو معلوم ہے ، سب سے ضروری ادائیگیوں کا توازن کےلئے کام کرنا تھا ۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد انڈسٹری صوبوں کا سبجیکٹ ہے اور ضروری ہے وفاق ، صوبے اور سب مل کر چلیں ، ہمارے درمیان ورکنگ سیشن ہونے چاہئیں تاکہ ہم ایک پیج پر ہوں ۔ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی ٹریننگ نہیں ،اگر فوری نجکاری کا فیصلہ کربھی لیں تو اس کےلئے سات آٹھ سال درکار ہونگے، سپیشل اکنامک زونز کے حوالے سے بات درست ، سی پیک میں تو سپیشل اکنامک زونز بننے ہی ہیں لیکن جو پہلے سے موجود ہیں انہیں کس طرح فعال بنانا اور کس طرح ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہے ۔

Leave a Reply