tipu nuqta e nazer jtnonline 98

ایم بی ایس ایک بار پھر حریفوں کیخلاف سرگرم کیوں؟

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایم بی سی سرگرم

سعودی عرب کا شاہی خاندان ایک بار پھر تنازعات کی زد میں ہے، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حکم، پر سابق ولی عہد سمیت اہم شہزادوں کی گرفتاری سے چہ مگوئیوں کا ایک نیا سلسلہ چل نکلا ہے، کہ ان شہزادوں کیخلاف کیا کارروائی کی گئی۔ امریکی میڈیا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ شاہ سلمان اور ولی شہزادہ محمد کیخلاف ایک بغاوت کی کوشش تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا-

مزید پڑھیں : “اِس ہاتھ دے اْس ہاتھ لے” کا اصول ہی سکہ رائج الوقت

شہزادہ محمد بن سلمان جسے عرف عام میں ” ایم بی ایس “ بھی کہا جاتا ہے، ان کیلئے ایسے تنازعات کوئی نئی چیز نہیں،2015ء میں جب انہیں ولی عہد بنایا گیا، تب سے انہوں نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے دلیرانہ فیصلے اور اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کیلئے ہر طرح کے حربے استعمال کیے ہیں، اس بار شاہی خاندان کے جو ارکان ان کے عتاب کا شکارہوئے ہیں، ان میں ایک چچا سابق وزیر داخلہ شہزادہ احمد بن عبد العزیز اور ایک کزن شہزادہ محمد بن نائف (ایم بی این) شامل ہیں، جو کہ سابق ولی عہد اور وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔انہیں حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے غداری کے متعلق تفتیش ہو رہی ہے، تاہم ان پر ابھی تک کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔ ان دونوں ( باپ بیٹے ) کے پاس اب زیادہ قوت اور اختیار بھی نہیں ہے۔

محمد بن نائف کی بے توقیری کیساتھ عہدے سے بے دخلی

2017ء میں شاہ سلمان نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کا سعودی تخت سنبھالنے کیلئے راستہ صاف کرنے کی غرض سے محمد بن نائف کو ان کے عہدے سے بے توقیر انداز میں بے دخل کردیا تھا۔ دوسری جانب شہزادہ احمد گزشتہ سال اپنے ملک واپس آنے سے قبل تک لندن میں اپنا وقت گزاررہے تھے۔

سعودی ولی عہد کو عالمی و ملکی سطح پر قیمت چکانی پڑے گی

جہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر ایم بی ایس ایک بار پھر اپنے حریفوں کیخلاف کیوں سرگرم ہیں اور وہ بھی ایسے میں جب وہ پہلے سے ہی کمزور ہیں اور اقتدار پر ان کی گرفت کو چیلنج کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ وہیں یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ اقتدار سنبھالنے سے لے کر آج تک ایم بی ایس نے جس طرح سے سکینڈلز کا نہ صرف سامنا کیا بلکہ اپنے آپ کو ان سے کلیئر بھی کرایا ہے، اس کے بعد نوجوان شہزادے کو یہ بات پتہ ہے، کہ ان کے اس عمل کیلئے انہیں عالمی فورم پر اور نہ ہی ملکی سطح پر کوئی قیمت چکانی پڑے گی۔ سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد عالمی سطح پر بدنامی اور تنقید سے نکل آنے کے بعد ایم بی ایس کیلئے خوف کی کوئی بات باقی نہیں رہی۔ ایم بی سی سرگرم

امریکہ، برطانیہ اور فرانس ایم بی ایس کے بڑے پشت پناہ

وائٹ ہاؤس نے ایم بی ایس کی انتہائی حد تک پشت پناہی کی۔ برطانیہ اور فرانس نے نیم دلانہ تنقید کی مگر ریاض سے ان کی تجارت اب تک جاری ہے، جبکہ روس اور چین کو اس کی فکر ہونی بھی نہیں تھی، اور اس طرح ایم بی ایس اپنی خوشی سے تقریباً جو چاہیں کر سکتے ہیں- اقتدار کیلئے اپنی راہ میں حائل ہونے والے شعبوں کو ایک ایک کرکے الگ تھلگ کرتے چلے گئے- چاہے وہ علماء ہوں، حریف رشتہ دار ہوں، تاجر ہوں یا ملکی پریشر گروپ، وہ حکومت کی پوری طاقت سے انہیں ایک ایک کرکے کچلتے چلے گئے۔

21 ویں صدی کے نئے انداز میں ایک آمرانہ سیاست

یہ بنیادی طور پر 21 ویں صدی کے نئے انداز میں ایک آمرانہ سیاست ہے، اپنے چچازاد بھائی محمد بن نائف کو ولی عہدی سے ہٹائے جانے کے وقت بھی بظاہر عاجزی کیساتھ ان کا ہاتھ چوما تھا۔ محمد بن سلمان کی ترقی محمد بن نائف کی قیمت پر ہونا ستم ظریفی سے خالی نہیں۔ 2017ء کی ابتداء تک مغرب کے زیادہ تر پالیسی ساز محمد بن نائف کے کیمپ میں تھے، اور ساری دنیا کے سکیورٹی اداروں میں ان پر بھروسہ، اور انہیں پسند کیا جاتا تھا۔ جس کسی کی بھی ان سے ملاقات ہوئی، وہ انہیں مستقبل کے لائق بادشاہ کے طور پر دیکھتے رہے۔ لیکن محمد بن نائف ملکی قومی سلامتی کا انتظام سنبھالنے کے جتنے اہل تھے، اتنے ہی وہ شاید محمد بن سلمان کے عزائم اور مکاری کا مقابلہ کرنے میں ناکام تھے۔

بروس ریڈل کا ایک دلچسپ مشورہ

سعودی شاہی خاندان کے بارے میں دنیا ہمیشہ سے تجسس میں مبتلا رہی ہے، کیونکہ شاہی خاندان کے معاملات پر کبھی کوئی خبر مصدقہ ذرائع سے نہیں ملتی، جس کی وجہ سے تجسس مزید بڑھ جاتا۔ شاہی خاندان کے بارے میں متجسس لوگوں کو سی آئی اے کے سابق عہدیدار بروس ریڈل کا ایک دلچسپ مشورہ یاد رکھنا چاہئے۔ بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کے بارے میں جاننا ہو تو اس کیلئے کینیڈی سکول آف گورنمنٹ میں داخلے کی ضرورت نہیں- بس شیکسپیئر کو پڑھ لیں۔ جدید سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز بن سعود کا جب نومبر 1953ء میں انتقال ہوا، تو اس وقت ان کے پاس 40 بیٹے اور 60 پوتے موجود تھے۔ ایک بیٹا ترکی بن عبدالعزیز پہلے ہی فوت ہوچکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : شیعہ مسلک کے 37 افراد کا سر قلم

ترکی بن عبدالعزیز کو ولی عہد کے طور پر تیار کیا گیا تھا، لیکن انکی وفات کے بعد سعود بن عبدالعزیز تخت کے وارث ٹھہرے۔ سعود بن عبدالعزیز 1926ء میں شریف آف مکہ کیخلاف جنگ میں لڑتے ہوئے اپنے والد کی جان بچانے پر حکمرانی کے حقدار تسلیم کئے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ دشمنوں کے لشکر نے عبدالعزیز بن سعود کو گھیر کر حملہ کیا- عبدالعزیز بن سعود اس حملے میں زخمی ہوکر بےہوش ہوگئے تھے۔ اس وقت سعود بن عبدالعزیز نے نہ صرف اپنا اور والد کا دفاع کیا بلکہ ایک حملہ آور کو مار ڈالا اور باقیوں کو بھگا دیا۔ اسی دوران کمک بھی پہنچ گئی اور بادشاہ کو بچا لیا گیا۔ ایم بی سی سرگرم

شاہی خاندان میں اقتدار کی کشمکش کی کہانی

سعود بن عبدالعزیز بادشاہ تو بن گئے لیکن انہیں اپنے سوتیلے بھائی فیصل بن عبدالعزیز کی صورت میں ایک حریف کا سامنا رہا۔ عبدالعزیز صرف عربی لکھنا پڑھنا، گھڑ سواری اور قبائلی طور اطوار جانتے تھے، جبکہ فیصل بن عبدالعزیز بیرون ملک سے تعلیم یافتہ تھے اور بیرونی حکومتوں سے روابط کے باعث سفارتکاری کا تجربہ بھی رکھتے تھے- عبدالعزیز بن سعود بھی بیٹوں کی قابلیت اور مزاج سمجھتے تھے، اسی لیے اندرونی معاملات میں سعود بن عبدالعزیز کو ساتھ رکھتے، جبکہ بیرونی دوروں اور غیر ملکیوں کیساتھ ملاقاتوں میں فیصل کو ساتھ رکھتے تھے۔ دونوں بھائیوں کے درمیان رقابت موجود تھی اور یہیں سے شاہی خاندان میں اقتدار کی کشمکش کی کہانی شروع ہوتی ہے۔

سعودی علماء بھی سعود بن عبدالعزیز کیخلاف ہوگئے

1964ء کے آغاز میں برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی نے شاہی خاندان میں تنازع کی اطلاع دی، جو سچ ثابت ہوئی۔ سعودی شاہی خاندان کے علاوہ سعودی علماء بھی سعود بن عبدالعزیز کیخلاف ہوگئے، اور ان کے شاہی رہن سہن اور اخراجات پر سوالات اٹھائے گئے۔ علماء کی حمایت سے فیصل بن عبدالعزیز نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور بادشاہ کو بالکل بے اختیار کردیا۔ سعود بن عبدالعزیز بادشاہت چھوڑنے کو تیار نہیں تھے، بلکہ انہوں نے مسلح مزاحمت کی کوشش بھی کی جس کے نتیجے میں فیصل بن عبدالعزیز کو 6 ماہ کیلئے ریاض چھوڑ کر جدہ منتقل ہونا پڑا۔ اکتوبر 1964ء میں فیصل بن عبدالعزیز علماء کی حمایت سے ریاض واپس پہنچے اور سعود بن عبدالعزیز کو تخت سے اتار کر خود بادشاہت سنبھال لی۔

شاہی خاندان میں پہلے جھگڑے سے بادشاہت کیلئے اصول وضع

سعودی شاہی خاندان کے اس پہلے جھگڑے سے بادشاہت کیلئے اصول بھی وضع ہوگئے۔ سعود بن عبدالعزیز بادشاہی چھن جانے کے بعد اپنے بیٹوں کیساتھ النصیریہ پیلس ریاض تک محدود ہوگئے، اور شاہ فیصل کی بیعت سے انکاری تھے۔ فیصل کو دھڑکا لگا رہا کہ سعود کا ردِعمل کیا ہوگا۔ سعود اس دوران بادشاہت سے دستبرداری کے عوض بھاری معاوضہ اور بیٹوں کیلئے اعلیٰ مناصب کا تقاضا بھی کر رہے تھے۔ شاہ فیصل نے سعود بن عبدالعزیز سے کہا کہ وہ اپنی چاروں بیویوں اور خدام کیساتھ سوئٹزر لینڈ یا آسٹریا چلے جائیں، لیکن سعود نے جواب دیا کہ ان کے بیٹوں سمیت 500 افراد کو ان کیساتھ روانہ کیا جائے۔

النصیریہ پیلس کے محاصرے کا واقعہ

فیصل بن عبدالعزیز نے مطالبہ نہ مانا اور معاملہ لٹک گیا۔ اسی دوران سعودی انٹیلی جنس نے اطلاع دی کہ سعود اپنے بیٹوں اور گارڈز کو مسلح کر رہے ہیں، تاکہ سعودی عرب سے ان کی جبری بے دخلی کیخلاف مزاحمت کرسکیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ سعود کے حامی قبائل بھی شاہ فیصل کو ہٹا کر سعود کو دوبارہ تخت پر بٹھانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ٹھوس اطلاعات پر سعودی انٹیلی جنس اور نیشنل گارڈز نے النصیریہ پیلس کا محاصرہ کیا۔ شاہ فیصل نے سعود بن عبدالعزیز اور ان کے بیٹوں کو بیعت کیلئے پیغام بھجوایا۔ محمد بن عبدالعزیز جو سعود کے سگے بھائی اور شاہی خاندان کے ثالث کے طور پر مشہور تھے-

دباؤ، بیماری نے سعود بن عبدالعزیز کو جھکنے پر مجبور کیا

شاہ فیصل کا پیغام لے کر النصیریہ پیلس گئے، اور محاصرے کے 3 دن بعد 28 نومبر کو ریڈیو مکہ نے اعلان کیا کہ سعود بن عبدالعزیز کے 11 بیٹوں نے شاہ فیصل کی بیعت کرلی ہے۔ بیٹوں کی طرف سے شاہ فیصل کی اطاعت کے اعلان نے سعود بن عبدالعزیز کو تنہا کردیا۔ سعود بن عبدالعزیز کے حامی قبائل بھی اِس اعلانِ اطاعت کے بعد سعود کی حمایت سے دستبردار ہوگئے، لیکن شاہ فیصل کا جی نہ بھرا۔
شاہ فیصل نے سعود بن عبدالعزیز کو ریاض سے باہر المنصوریہ پیلس منتقل کردیا۔ تنہائی اور دیگر شہزادوں کے دباؤ کے علاوہ بیماری نے بالآخر سعود بن عبدالعزیز کو جھکنے پر مجبور کردیا اور 6 جنوری 1965ء کو سعود بن عبدالعزیز نے اطاعت مان لی۔ شاہ فیصل کے چچا عبداللہ بن عبدالرحمن ثالث بنے اور سعود بن عبدالعزیز نے نئے بادشاہ کے محل میں جا کر بیعت کی۔

خالد بن عبدالعزیز ولی عہد بنے، خاندان میں رنجشیں برقرار رہیں

مارچ 1965ء میں قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں کے درمیان طاقت کے توازن کا ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت 53 سالہ خالد بن عبدالعزیز کو سیاسی ناتجربہ کاری کے باوجود ولی عہد مقرر کردیا گیا۔ خالد بن عبدالعزیز کو ولی عہد بنانے کے بعد بھی خاندان میں رنجشیں برقرار رہیں۔ شاہی خاندان کے اختلافات اور جھگڑے ختم نہ ہوئے اور شاہ فیصل 1975ء میں اپنے بھتیجے فیصل بن مساعد کے ہاتھوں قتل ہوگئے۔ سعودی شاہی خاندان میں چلنے والی حالیہ کشمکش کی جڑ ااسی پرانی چپقلش میں پیوستہ ہے، جس میں نئے پیدا ہونیوالے تنازعات مزید زہر بھرتے ہیں۔ ایم بی سی سرگرم

تخت و تاج کی وراثت، جانشینی سعودی شاہی خاندان میں تنازع کا بڑا سبب

شاہ فیصل کے بعد شاہ خالد کو اقتدار ملا اور پھر سدیری سیون کے نام سے مشہور 7 بھائیوں میں سے سب سے بڑے شہزادہ فہد اقتدار میں آئے۔ تخت و تاج کی وراثت اور جانشینی ہمیشہ سے سعودی شاہی خاندان میں تنازع کا باعث رہی ہے اور سعودی شاہی خاندان کو سعودی شاہی خاندان سے ہی خطرہ رہا ہے۔ شاہ عبداللہ کے دور کو سیاسی استحکام کا دور کہا جاتا ہے، لیکن اگست 2010ء میں ان کے بارے میں بھی خبر پھیلی تھی کہ وہ بغاوت کا شکار ہونے سے بال بال بچے۔ ان کیخلاف مبینہ طور پر اس وقت امریکہ میں سعودی سفیر اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان سازش کر رہے تھے اور انہیں تخت سے ہٹانے کا منصوبہ تھا۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی جانشینی، اندرونی و بیرونی مدد ڈھکی چھپی نہیں

مبینہ طور پر یہ منصوبہ سعودی عرب کے اس وقت کے دشمن شمار کئے جانیوالے ملک شام نے بے نقاب کیا، اور شام کو یہ اطلاع روسی انٹیلی جنس نے دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس مخبری کے بعد ہی شاہ عبداللہ بیروت کے دورے پر گئے اور صدر بشارالاسد سے ملاقات کی اور تعلقات میں بہتری آئی۔ شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی جس طرح ولی عہد کے بعد یکے بعد دیگرے ولی عہد بدلے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی جانشینی کیلئے اندرونی اور بیرونی مدد ڈھکی چھپی نہیں۔ شاہ سلمان نے یکے بعد دیگرے ولی عہد کیوں بدلے اور اختیارات کے ارتکاز کی ضرورت کیوں پیش آئی یہ دلچسپ امر ہے۔ ایم بی سی سرگرم

شاہ سلمان کو ہٹانے کی وجہ انکا الزائمر کا مرض

شاہ سلمان کی تخت نشینی کے بعد اکتوبر 2015ء میں خبر آئی کہ شاہ سلمان کے 11 بھائیوں میں سے 8 انہیں ہٹانے پر متفق ہیں اور ان کی جگہ سب سے چھوٹے بھائی احمد بن عبدالعزیز، جو سدیری شاخ سے ہی ہیں، کو لانا چاہتے ہیں۔ شاہ سلمان کو ہٹانے کی وجہ ان کا الزائمر کا مریض ہونا اور ناتجربہ کار محمد بن سلمان کو جانشین بنانا بھی بتایا گیا۔

کارروائی کا مقصد یہ باور کرانا ” باس “ کون

سعودی شاہی خاندان میں اقتدار کے کھیل پر چہ مگوئیاں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں، حالیہ دنوں میں افواہیں گرم تھیں کہ شاہ سلمان وفات کے قریب ہیں، یا محمد بن سلمان نے تختہ الٹنے کی سازش کو محسوس کر لیا، اور فوراً عمل کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا۔ موجودہ کارروائی شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے باقی شاہی خاندان کیلئے یہ پیغام تھا، کہ اپنی حد میں رہیں۔ یہ نظم و ضبط قائم کرنے کیلئے کیا گیا اقدام تھا، جس کا مقصد وفاداری حاصل کرنا اور سب کو یہ باور کروانا تھا کہ ” باس “ کون ہے، اور کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ بلا شبہ محمد بن سلمان ہی سعودی عرب کے باس ہیں۔

ایم بی سی سرگرم

Leave a Reply