0

ایل اوسی پربھارتی جارحیت،سول آبادی پرگولہ باری سے متعدد گھر تباہ

Spread the love

پاک فوج کی جانب سے کرارا جواب ملنے کے بعد بھی بھارتی فوج کا جنگی جنون ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اورلائن آف کنٹرول پر سول آبادی کو بھاری توپخانے سے نشانہ بنارہی ہے جس کی وجہ سے متعدد مکانات تباہ جبکہ متعدد راہائشی زخمی ہوگئے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے راولاکوٹ میں صبح 3 بجے بٹل، منڈہول، چھتروٹہ، سلوئی، جھاوڑہ، بائیں، ککوٹہ کی سول آبادیوں پرمارٹر گولے داغے جس کے بعد سیکٹرکے علاقوں میں آمدورفت کا سلسلہ منقطع ہوکررہ گیا جبکہ گولہ باری سے متعد د مکان تباہ ،کئی رہائشی زخمی جبکہ درجنوں مال مویشی ہلاک ہوئے۔بھارتی جنگی جنون کے جواب میں پاک فوج بھی منہ توڑ کارروائیاں کررہی ہے تاہم صرف فوجی چوکیوں کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔دوسری جانب راولا کوٹ میں ایلیمنٹری بورڈ پونچھ کے پانچویں اورآٹھویں کے ہونیوالے پرچہ جات ملتوی اورسرحدی علاقوں میں نجی وسرکاری تعلیمی ادارے 4 روزکیلئے بند کردیئے گئے ہیں۔ادھر بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے بعد سے جاری کشیدہ صورتحال کے باعث تیسرے روز بھی آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کے ملحقہ علاقوں چناری،چکوٹھی ،گوجر بانڈی،وادی لیپاء اور گردونواح میں انٹر نیٹ سروس معطل رہی جس سے صارفین شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انٹر نیٹ سروس کی معطلی کے باعث عام لوگوں کے علاوہ صحافیوں کو بھی اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے عوام نے انٹر نیٹ سروس کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے ۔دوسری طرف پاک بھارت کشیدگی کے باوجود لاہورکے سرحدی علاقے میں بسنے والے بہادر اورجفاکش پا کستا نی اپنا گھربارچھوڑکر بارڈر سے پیچھے محفوظ علاقوں میں آنے کوتیار نہیں بلکہ یہاں بسنے والے لوگ فوج کے شانہ بشانہ بھارت سے جنگ لڑنے کوتیار بیٹھے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے مابین جنگی تناؤ اور کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے بھارت نے مشرقی پنجاب کے سرحدی علاقے میں ایمرجنسی نافذکرتے ہوئے ریڈالرٹ جاری کیا اور مقامی لوگوں کو علاقے خالی کرنے کا کہا جارہا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں لاہور، قصور اورسیالکوٹ کے سرحدی علاقوں میں لوگ بلاخوف و خطر زندگی گزاررہے ہیں۔واہگہ سرحد سے جڑے ٹھٹھہ گاؤ ں کے رہائشیوں نے بتایا ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ جب جنگ کا خطرہ بڑھتا تو سرحدی علاقے کے دیہات خالی کروالیے جاتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں، ہم کہیں نہیں جائیں گے، ہمارے جوان اور بزرگ تیاربیٹھے ہیں، ہم فوج سے پہلے بھارت کا مقابلہ کرنے کوتیار ہیں۔واضح رہے پاک بھارت بارڈر کے قریب لاہور سیکٹر میں 84 سے زیادہ چھوٹے بڑے پاکستانی دیہات ہیں جہاں لوگ معمول کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں۔

Leave a Reply