ایف بی آر کا گندم چوکر پر عائد 17 فیصد سیلز ٹیکس واپس لینے کا فیصلہ

ایف بی آر کا گندم چوکر پر عائد 17 فیصد سیلز ٹیکس واپس لینے کا فیصلہ

Spread the love

اسلام آباد ( جے ٹی این آن لائن بزنس نیوز) ایف بی آر فیصلہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فلور ملز پر عائد کیے جانے والے سیلز ٹیکس سے

متعلق اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے نے گندم چوکر پر عائد

ہونے والا 17 فیصد سیلز ٹیکس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ایف ایم سی جی

فلور ملز سے متعلق دوبارہ وضاحت جاری کردی ہے۔ ایف بی آر ترجمان کے

مطابق فنانس بل2021ء میں فلورملز و ریفائنری ریٹیلرز کو سہولت دی گئی ہے،

مجموعی کاروباری حجم ( ٹرن اوور ) کی بنیاد پر کم از کم ٹیکس شرح کو تبدیل

کر دیا گیا ہے۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق فنانس بل میں غلطی کی ترمیم کے

ذریعے تصحیح کردی جائے گی، فلور ملز پر لاگو کم از کم ٹیکس ٹرن اوور کے

0.25 فیصد رہے گا، ٹرن اوور پر 1.25 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا تاثر غلط

دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایف بی آر نے بتایا کہ حکومت نے گندم چوکر پر

17 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جسے اب واپس لیا جارہا ہے۔ یاد رہے

کہ فلور ملز مالکان نے 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کے خلاف دو روزہ

علامتی ہڑتال کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا۔

=-،-=ڈیری و پولٹری مصنوعات اور رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ

حکومت نے ترمیمی فنانس بل کے ذریعے بجٹ میں ڈیری مصنوعات، پولٹری اور

رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ

ہی درآمدی کنسائنمنٹس کے لیے کنٹینرز کے اندر درآمدی اشیاء کی فہرست اور

انوائسز کی کاپیاں رکھنے سے متعلق قوانین میں بھی نرمی لائی جائے گی اس

حوالے سے وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے

فنانس بل میں مذکورہ شعبوں پر تجویز کردہ ٹیکسوں کی شرح میں کمی کے لیے

ترامیم کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ پارلیمنٹ میں جو ترمیمی فنانس بل پیش

کیا جائے گا اس میں ان شعبوں کے لیے مجوزہ ٹیکسوں کی شرح کو ریشنلائز کر

کے کم کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیمی فنانس بل کے ذریعے بجٹ میں

تجویز کردہ ڈیری مصنوعات پر ٹیکسوں کی شرح کم کی جارہی ہے۔ اسی طرح

پولٹری کے لیے تجویز کردہ ٹیکسوں کی شرح بھی کم کی جارہی ہے۔

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

علاوہ ازیں پلانٹ اور مشینری کی درآمد پر بھی ٹیکسوں کی شرح کو ریشنلائز کیا

جارہا ہے جس کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

اسی طرح درآمدی کنسائنمنٹس کے انوائسز اور اشیاءکی فہرست کنٹینرز کے اندر

نہ رکھنے پر تجویز کردہ جرمانوں میں بھی نرمی کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے اور

اس کے لیے ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ کنٹینرز کے اندر درآمدی سامان کی

انوائس اور فہرست نہ رکھنے پر متعارف کروائی جانے والے جرمانوں کی رجیم

پر نظر ثانی کی جائے۔

=-،-= یکم جولائی سے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں 13تا 18 روپے فی کلو اضافہ

یکم جولائی سے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں 13 سے 18 روپے فی کلو

اضافہ ہو جائے گا۔ قیمتوں اضافے کی وجہ فنانس بل 2021-22ء میں نئے ٹیکسز

کا نفاذ ہے۔ اس حوالے سے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے وزیر

اعظم اور وزیر خزانہ کو پیشگی آگاہ کر دیا ہے کہ قیمتیں بڑھیں گی۔ ایسوسی ایشن

کی جانب سے خط کے متن میں کہا گیا کہ اگر ٹیکسز واپس نہ لیے گئے تو پھر

یکم جولائی سے گھی اور تیل 13 سے 18 روپے تک مہنگا ہو جائے گا جس سے

عام طبقہ متاثر ہوگا۔ پاکستان وناسپتی ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ معاملہ خزانہ

کمیٹی میں بھی اٹھایا گیا تھا۔ کمیٹی نے پی وی ایم اے کو وزارت خزانہ کے حکام

سے معاملات حل کرنے کی ہدایت دی تھی تاہم پی وی ایم اے کی سیکرٹری خزانہ

سے ملاقات بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی جس کے بعد ایسوسی ایشن کی جانب سے

خط وزیراعظم اور وزیر خزانہ کو لکھا گیا ہے-

ایف بی آر فیصلہ ، ایف بی آر فیصلہ ، ایف بی آر فیصلہ

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply