Asia Internet Coalition 103

نئے سوشل میڈیا قواعد، ایشیاء انٹرنیٹ کولیشن کا پاکستان کو انتباہ

Spread the love

اسلام آباد(جتن آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک ) ایشیاء انٹرنیٹ کولیشن انتباہ

ایشیاء انٹرنیٹ کولیشن (اے آئی سی) نے وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں لانے کیلئے حکومت کے نئے قواعد سے پاکستان میں ڈیجیٹل کمپنیوں کو کام کرنا انتہائی مشکل ہوجائیگا۔ مزید پڑھیں

خط کی کاپیاں متعلقہ وفاقی وزراء،فروغ نسیم،خالد مقبول اور پی ٹی آے کو ارسال

اے آئی سی کی جانب سے لکھے گئے خط کی نقول وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھاٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ کو بھی بھیج دی گئی ہیں۔ وزیراعظم کو اے آئی سی نے یہ خط سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومت کے نئے قواعد کے جواب میں لکھا ہے جس کے مطابق کسی قسم کی دستاویز یا معلومات کو جاری کرتے وقت متعلقہ تحقیقاتی ادارے کو دکھائی جائیں گی اور ان میں شرائط پر عمل کرنے میں ناکامی کی صورت میں 50 کروڑ تک جرمانہ کیا جائے گا۔

قواعد پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو اپاہج کردینگے، ایم ڈی اے آئی سی

منیجنگ ڈائریکٹر اے آئی سی جیف پین نے خط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قواعد پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو بری طرح اپاہج کردیں گے۔ اے آئی سی کے اراکین اس بات کے معترف ہیں کہ پاکستان میں صلاحیت ہے لیکن اچانک ان قواعد کے اعلان نے حکومت پاکستان کے ان دعووں کو جھٹلا دیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے کھلا ہوا ہے۔حکومتی قوانین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا اس وقت بنائے گئے قواعد سے در حقیقت اے آئی سی اراکین کو پاکستان میں صارفین اور کاروبار کیلئے اپنی خدمات پہنچانے کیلئے انتہائی مشکل ہوگا۔
اے آئی سی اراکین میں عالمی انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں شامل ہیں جن میں فیس بک، ٹویٹر، گوگل، ایمیزون، ایپل، بکنگ ڈاٹ کام، ایکسپیڈیا گروپ، گریب، لنکڈ ان، لائن ریکوٹین اور یاہو نمایاں ہیں-

یہ بھی پڑھیں : سینسر شپ؟ لگ پتہ جائے گا

ایشیاء انٹرنیٹ کولیشن انتباہ

اپنا تبصرہ بھیجیں