Khamenei

ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے کوئی نہیں روک سکتا، آیت اللہ علی خامنہ ای

Spread the love

ایران کو جوہری ہتھیار

تہران /واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن نیوز) یران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ

ای نے دھمکی آمیز بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک عالمی طاقتوں کے آگے گھٹنے

نہیں ٹیکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی طاقت ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول

سے نہیں روک سکتی۔ادھروائٹ ہائوس نے کہا ہے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی

خامنہ ای کے جوہری پروگرام سے متعلق متنازع بیان کے باوجود ہمارے موقف

میںکوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی سپریم

لیڈر نے ایک بیان میں کہا کہ ایران چاہے تو جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے مگر ہم

ایسا نہیں کرنا چاہتے۔ جوہری معاہدے سے ایران کا طریقہ کار تبدیل نہیں ہوگا۔خبر

گان کونسل کے اجلاس سے خطاب میں آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران

یورینیم افزودگی کی حد 20 فی صد تک رکھنے کا پابند نہیں۔ یہ ہماری ضرورت

پر منحصر ہے اور ہم یورینیم افزودگی کا تناسب 60 فی صد تک بھی لے جاسکتے

ہیں۔ اس اجلاس میں جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے کوشاں صدر حسن روحانی

بھی موجود تھے۔ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ تہران کسی بیرونی دباو میں نہیں

آئے گا اور ہم جوہری معاہدے سے متعلق اپنے موقف کو بھی تبدیل نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا اور یورپ کا

طریقہ کار غیر منصفانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہرہ پروگرام کئی سال

سے محدود سطح پر ہے۔ اگر دوسرا فریق اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو ہم بھی

کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران توانائی کی ضروریات کے حصول کے لیے

جوہرہ صلاحیت کے حصول پر مصر ہے۔ ہم غیر عسکری مقاصد کے لیے یورینیم

کی افزودگی کا تناسب 60 فی صد تک لے جاسکتے ہیں۔ ایران اپنے جوہری

پروگرام پر پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ہم پوری قوت کے ساھ جوہری

صلاحیت کے حصول کی کوششیں جاری رکھیں گے۔دوسری جانب وائٹ ہاوس کی

ترجمان جین ساکی نے کہاکہ ہم ایران کے ساتھ بات چیت کے نتائج سے قبل ایران

پر عائد پابندیاں نہیں اٹھائیں گے اور نہ ایرانی سپریم لیڈر کے یورینیم افزودگی کی

مقدار بڑھانے سے متعلق بیان سے ہماری پالیسی تبدیل ہوگی۔وائٹ ہائوس کی

ترجمان جین ساکی نے کہا کہ ہم جوہری معاہدے پر اضافی اقدامات نہیں کریں گے

اور دستخط کنندگان کے گروپ میں طے شدہ مذاکرات کا انتظار کریں گے۔انہوں

نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے بیان میں سفارتی مشاورت میں حصہ لینے کا

مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہم ایرانیوں کی طرف سے دعوت نامے کا جواب دینے کا انتظار

کریں گے۔ساکی نے مزید کہا کہ ایران کے بارے میں ہماری پالیسی داخلی اتفاق

رائے کا موضوع ہونا چاہیئے۔ ہم اپنے اگلے اقدامات پر کانگریس سے مشاورت

کریں گے۔ساکی کے بقول سفارت کاری ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے

روکنے کا راستہ ہے لیکن اس فریم ورک سے باہر اقدامات کا آپشن بھی موجود

ہے۔

ایران کو جوہری ہتھیار

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply