125

تہران، ریاض مسائل کا حل مذاکرات، ایران اور پاکستان کا اتفاق

Spread the love

تہران،اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران پاکستان اتفاق

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کیساتھ

گہرے دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات

مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار

ہیں، دونوں ملکوں میں تنازعہ پیچیدہ ضرور لیکن مذاکرات سے حل کیا جا سکتا

ہے، تنازعہ جاری رہنے سے نہ صرف خطے کے امن و سلامتی بلکہ معیشت پر

بھی اثرات مرتب ہونگے، ہم چاہتے ہیں خطے میں کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب، ایران کشیدگی خاتمے کی نوید ممکن؟

تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے

خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا ایران کے صدر کیساتھ گزشتہ

کچھ عرصے میں یہ تیسری ملاقات ہے، ان کیساتھ دو طرفہ تعلقات و تجارت پر

بھی بات ہوئی، مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت پر ایرانی قیادت کے شکر

گزار ہیں، بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو مقبوضہ وادی میں قید کر رکھا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکہ ایران کشیدگی، عالمی امن کیلئے ایک اور خطرہ

عمران خان نے کہا ایران آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے ہم چاہتے ہیں خطے میں

کوئی تنازع نہ ہو، پاکستان نے طویل عرصے تک دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑی

اور 70 ہزار جانیں قربان کیں، ہم چاہتے ہیں خطے میں کوئی تنازع جڑ نہ پکڑ

سکے کیونکہ خطے میں پہلے ہی افغانستان اور شام میں لوگوں کو شدید مشکلات

کا سامنا ہے۔

ایران نے مثبت جواب دیا، کل سعودی عرب جاؤں
گا،عمران خان

عمران خان کا کہنا تھا تمام ترقی پذیر ممالک کیلئے خطے میں اس قسم کا تنازع

انتہائی نقصاندہ ہے، ایران کے صدر حسن روحانی سے مشاورت حوصلہ افزا

رہی اب کل انشا اللہ مثبت سوچ کیساتھ سعودی عرب جائوں گا۔ ایران اور سعودی

عرب کے دورے اور بات چیت پاکستان کا اپنا اقدام ہے، دونوں ملکوں کے

درمیان سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکہ بھی مسائل کے پرامن حل کا خواہاں

نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے دوران ایران اور امریکہ

کے درمیان تعلقات میں کردار ادا کرنے کو بھی کہا، ایرانی صدر کیساتھ ملاقات

میں ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے اور امریکہ کی جانب سے ایران

پر عائد کردہ پابندیوں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، ایرانی قیادت کو یقین

دلایا کہ امریکہ ایران مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے سب کچھ کریں گے تا کہ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی معاہدہ ہو اور پابندیاں اٹھائی جا سکیں۔

مثبت رویہ کا جواب مثبت ہی دیں گے، روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی کا مشترکہ پریس کانفرنس میں کہنا تھا پاکستان اور

ایران برادر پڑوسی و دوست ملک ہیں اور دونوں مل کر خطے کے استحکام کے

لیے کاوشیں کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے خطے کی صورتحال پر

گفتگو ہوئی، پاکستان اور ایران خطے کے مسائل بات چیت سے حل کرنے کے

حامی ہیں، دونوں ممالک کی قیادت کی ملاقاتیں خطے میں صورتحال کی بحالی

کیلئے اہم ہیں۔ ایران پر امریکی پابندیوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی-

یمن جنگ، ایران پرپابندیوں کا خاتمہ ضروری

حسن روحانی نے کہا وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کو قدر کی نگاہ سے

دیکھتے ہیں، یمن میں جنگ کا خاتمہ، انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

پاکستان کی خطے میں امن کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، مثبت رویہ کا مثبت

انداز میں جواب دیا جائیگا، اگر کوئی ملک سمجھتا ہے خطے میں عدم استحکام

کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ غلطی پر ہے، یمن میں فوراً جنگ بند

کرکے وہاں کے عوام کی مدد کی جائے، امریکہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے، ہم

نے جوہری معاہدہ کی بحالی سے متعلق اموراور حالیہ واقعات خصوصاً خلیج

فارس اور دیگر معاملات پر بات کی۔

عمران خان کی ایران کے سپریم لیڈر
آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی میں ملاقات ہوئی

جس میں دونوں رہنمائوں نے سعودی عرب، ایران کشیدگی کے خاتمے، خطے

کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے

بعد ازاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کی جس میں

ایران، سعودی عرب اور ایران امریکہ تنازعات پر تبادلہ خیالات سمیت ان کے

حل کیلئے تفصیلی مشاورت کی-

امہ اختلافات خاتمہ، پاکستان ایران اتفاق

پاکستان اور ایرانی قیادت کے مابین ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد

جاری اعلامیہ میں کہا گیا وزیراعظم عمران خان نے خلیج میں امن و استحکام

کیلئے ایران کا دورہ کیا،جس میں ایرانی صدرحسن روحانی اور ایرانی سپریم

لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقاتیں کی، جس میں مسلمہ امہ کے باہمی اختلافات

کو بات چیت ہی سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ملاقاتوں میں وزیر خارجہ مخدوم

شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز

زلفی بخاری بھی موجود تھے-

باہمی تعاون کے فروغ کا اعادہ

اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت نے باہمی تاریخی و ثقافتی تعلقات

کو اجاگر کرنے کیساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی

تعاون کے فروغ کا اعادہ کیا۔

ایران پاکستان اتفاق

Leave a Reply