ایران صدارتی انتخابات، جواد ظریف، احمدی نژاد، علی لاریجانی امیدوار 99

ایران صدارتی انتخابات، جواد ظریف، احمدی نژاد، علی لاریجانی امیدوار

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تہران (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) ایران صدارتی انتخابات

ایران میں آئندہ صدارتی انتخابات 2021ء میں ہونے کی امید کی جا رہی ہے اور

آئندہ سال ہونیوالے صدارتی انتخابات کے متوقع امیدواروں کے بارے میں بھی

قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کون کون ایران کے نئے صدارتی انتخابات میں

قسمت آزمائی کرے گا۔ اس سلسلے میں موجودہ وزیرخارجہ محمد جواد ظریف اور

سابق صدر محمود احمدی نژاد کے نام بھی گردش کررہے ہیں۔

——————————————————————————–
یہ بھی پڑھیں : ہمیں ضرورت نہیں بلکہ ہم امریکیوں کی مدد کو تیار ہیں، ایران
——————————————————————————–

ایران کی جوڈیشل کونسل کےسربراہ ابراہیم رئیسی، تہران کے سابق میئر اور

پارلیمنٹ رکن محمد باقر قالیباف اورسابق ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر علی

لاریجانی بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ آئندہ

انتخابات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے آٹھویں صدر کا انتخاب عوامی

ووٹوں کے ذریعے کیا جائیگا، بشرطیکہ امیدواروں کو گارڈین کونسل کی حمایت

حاصل ہو۔

گارڈین کونسل چھ سینئر فقہا پرمشتمل، سربراہ علی خامنہ ای

گارڈین کونسل چھ سینئر فقہا پرمشتمل ہوتی ہے جن کی سربراہی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کرتے ہیں۔ وہی اس کونسل کے ارکان کا بھی تقرر کرتے ہیں۔ البتہ آئندہ سال کے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر حسن روحانی کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ وہ مسلسل دو بار صدارتی انتخابات جیت چکے ہیں۔

جواد ظریف کا شمار ایران کے اصلاح پسند رہنماﺅں میں ہوتا ہے، رپورٹ

اگرچہ بظاہر کچھ حلقے اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ جواد ظریف بھی ایران میں انتخابات کیلئے صدارتی امیدوار ہوسکتے ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق جواد ظریف کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے مقتدر حلقوں میں چہ میگوئیاں بھی شروع ہوچکی ہیں۔ جواد ظریف کا شمار ایران کے اصلاح پسند رہنماﺅں میں ہوتا ہے اور وہ عالمی سطح پر ایرانی مقدمات کی دبنگ انداز میں لابنگ کرتے رہے ہیں۔

جواد ظریف کو الیکشن لڑنے کیلئے گارڈین کونسل کی منظوری درکار

اصلاح پسند کیوں ظریف کو نامزد کرتے ہیں حالانکہ انھیں صدر روحانی جیسے اصلاح پسندوں کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ سیاسی قد کاٹھ میں وہ حسن روحانی جیسے لیڈروں کے ہم پلہ نہیں۔ اگر جواد ظریف انتخابات کی دوڑ میں شامل ہوتے بھی ہیں تو انہیں گارڈین کونسل کی طرف سے منظوری درکار ہوگی۔ گارڈین کونسل کا اعتماد حاصل کیے بغیر وہ اس میدان میں کامیاب ہونا تو درکنار اتر بھی نہیں سکتے۔

——————————————————————————
دوستو : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————

جواد ظریف کیساتھ ساتھ ایرانی سپریم لیڈر کے مقرب ابراہیم رئیسی بھی آئندہ سال ہونیوالے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ رئیسی کا شمار ایران کے بنیاد پرست اور قدمت پسند حلقوں میں ہوتا ہے۔

ایران صدارتی انتخابات

Leave a Reply