ایران زائرین کو اکٹھا واپس نہ بھیجے، شاہ محمود قریشی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) شاہ محمود قریشی نے ماہرین کی ہدایت پر خود کو آئیسولیشن میں رکھ لیا۔

انہوں نے کہا چین سے آنے پر صدر عارف علوی اور اسد عمر کا بھی ٹیسٹ ہوا، تمام اداروں اور

جماعتوں کو مل کر اس وبا سے لڑنا ہے، تنقید سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔وزیر خارجہ شاہ محمود

قریشی کا کہنا تھا کورونا کا ٹیسٹ کراؤں گا، ماہرین نے پانچ دن بعد کورونا ٹیسٹ کا مشورہ دیا ہے،

کرونا سے متعلق احتیاط برتنی چاہیے، چین میں ایک کرسی سے دوسری کرسی کا فاصلہ تقریباً ایک

میٹر کا تھا۔ انہوں نے کہا چینی قوم نے یکجا ہو کر کرونا وائرس کا مقابلہ کیا، ہمیں چین کے تجربات

سے سیکھنا ہے، ووہان میں گزشتہ روز صرف ایک کیس رپورٹ ہوا، چین نے جس طرح سے کرونا

کا مقابلہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا سی پیک کے ساتھ ہماری معاشی

ترقی جڑی ہوئی ہے، چین جانے کا مقصد اظہار یکجہتی کرنا تھا، چینی صدر کہتے ہیں پاکستان کا

احسان نہیں بھولیں گے، ایک دوسرے پر تنقید کرنا ہمارا مقصد نہیں، حکومت یا ادارے تنہا کچھ نہیں

کرسکتے، صدر عارف علوی مجھ سے زیادہ تمام چیزوں سے متعلق آشنا ہیں۔پریس کانفرنس کرتے

ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دورہ چین کا مقصد چینی قیادت اور عوام کے

ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھاچین اور پاکستان کے تعلقات مثالی اور گہرے ہیں ہم نے ہر کڑے وقت میں

ایک دوسرے کا ساتھ دیاآج جب چین کڑے وقت سے نبرد آزما تھا تو ہمیں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی

کرنا تھاجب کرونا کی وبا سامنے آئی تو بیشتر ممالک نے اپنے شہریوں کو چین سے نکال لیا جسے

چین نے عدم اعتماد کا اشارہ سمجھاجبکہ پاکستان نے چین کی حکومت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے

اپنے طلبا کو وہاں سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ، چین نے قومی یکجہتی سے وبا کا مقابلہ کیا ہمیں بھی

اس وبا ء سے مقابلہ کرنے کے لئے قوم میں آگاہی پیدا کرنا ہوگی،ایران کے وزیر خارجہ سے

ٹیلیفونک رابطہ ہوا میں نے وہاں کرونا سے ہونیوالی اموات پر ان سے اظہار افسوس کیا، ایران سے

گزارش کی ہے کہ جو زائرین ایران میں موجود ہیں ان کی واپسی یقینا ہونی ہے لیکن سب کو اکٹھا

واپس نہ بھجوایا جائے اپنے بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ جب ہماری چینی صدرِ، وزیر اعظم اور

دیگر قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں تو انہوں نے پاکستان کے فیصلے اور چین پر اعتماد کو بے حد

سراہاکل ہماری ویڈیو کانفرنس کے ذریعے وہاں کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا

سے بات چیت ہوئی ا لحمدللہ وہ سب کے سب صحت مند تھے اور متحدتھے ،چینی حکومت نے ان کا

بے حد خیال رکھا ، چار پاکستانی بچیوں کو اللہ تعالی نے اولاد کی نعمت سے نوازا، ان طلبا کا کہنا تھا

کہ پہلے ہمارے والدین کو ہماری فکر لاحق تھی اب ہمیں پاکستان میں اپنے خاندان اور والدین کی فکر

لاحق ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اور میں نے انہیں بارہا

کہا کہ آپ ایسے مرکز میں قیام پذیر ہیں جس نے اس وبا کا مقابلہ کیا ہے اور کامیابی سے ہمکنار

ہوئے ہیں آپ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی قوم کو اپنے تجربات سے آگاہ کریں آپ کے

پیغامات انہیں حوصلہ اور ہمت دیں گے ،ہمیں چینی قیادت نے اس وبا سے نمٹنے کیلئے مکمل بریفنگ

دی ہمیں ذہنی طور پر اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ اس وائرس کی نشوونما بڑھے گی لیکن ہمیں موثر

لائحہ عمل اپنانا ہو گااس سلسلے میں تین بنیادی اقدامات ہیں جن کے ذریعے چین نے اس وبا پر غلبہ

حاصل کیاپہلے نمبر پر تعاون اور اعتماد ہے چینی حکومت نے جو بھی ہدایات جاری کیں چینی عوام

نے من و عن ان پر عمل کیا اور حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا، چین نے قومی یکجہتی سے

وبا کا مقابلہ کیا کسی صوبے نے دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کی بلکہ وہان، جو اس وائرس سے سب

زیادہ متاثر تھا وہاں سب نے مل کر تعاون کیاچین نے جس طرح ہزاروں کی تعداد میں والینٹیرز آفت

زدہ علاقوں میں بھیجے وہ بھی ہمارے لیے بہترین مثال ہے ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا

کہ ہمیں اس وبا ء سے مقابلہ کرنے کے لئے قوم میں آگاہی پیدا کرنا ہوگی-

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply