ایران امریکہ کشیدگی میں کسی تنازع کا حصہ بنیں گے نہ ہی استعمال ہوں گے،شاہ محمود

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران امریکہ کشیدگی میں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ

ایران امریکا کشیدگی میں کسی تنازع کا حصہ بنیں گے نہ ہی استعمال ہوں

گے،عراق کی صورتحال سے غافل نہیں رہ سکتے، اس آگ کی چنگاریاں ہماری

طرف آسکتی ہیں، یہ صورتحال ہماری پیدا کردہ نہیں مگر ہم متاثر ہو سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران ہمارا پڑوسی

ملک بالکل ہے، ان کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں۔ میں نے پہلا فون جواد ظریف کو

کیا، حکومت پاکستان کا موقف پیش کیا، سوشل میڈیا پرغلط فہمیوں کودرست کرنے

کی کوششیں کیں ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرا مقصد نازک صورتحال سے

یہ بھی پڑھیں:بغداد، امریکی میزائل حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی سمیت 9افراد شہید

ایوان کواعتماد میں لینا ہے، یہ پاکستان نہیں پورے خطے کا چیلنج ہے۔ یہ

صورتحال ہماری پیداکردہ نہیں مگر ہم متاثر ہوسکتے ہیں لہٰذا موجودہ صورتحال

میں ہم خاموش بھی نہیں بیٹھے۔انہوں نے کہا کہ عرب امارات کے وزیرخارجہ کا

موقف بھی سنا،وہ بھی نہیں چاہتے معاملات زیادہ بگڑیں۔ملائیشیا سمٹ کانفرنس

کے حوالے سے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا کی وباء دنیا میں پھیل رہی

ہے، حکومت نے مہاتیرمحمد کی سوچ سے اتفاق کیا تھا۔ مسئلہ یہ ہوا کچھ دوستوں

کو قائل کرنے میں ہمیں وقت درکارتھا، دوستوں نے کہا ایسے عمل سے امہ تقسیم

ہو جائے گی، شک وشبہ کو دور کرنے کیلئے وزیراعظم نے اپنا رول ادا کیا۔

خواجہ آصف کی طرف سے اْٹھائے گئے پوائنٹ پروزیرخارجہ نے کہاکہ سیاسی

پوائنٹ سکورنگ میں اتنے مگن ہوجاتے ہیں کہ پاکستان کے مفادات پرتنقید سے

گریزنہیں کرتے۔ آپ کوعلم ہی نہیں صورتحال کیا ہے ورنہ ایسی باتیں نہ کرتے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں پیشرفت آپ

کو دکھائی نہیں دیتی، حیران ہوں ہاؤس میں آپ کالا چشمہ لگا کر بیٹھ جائیں اور

دکھائی نہ دے، خواجہ آصف کو اطمینان ہو نہ ہوچین کواطمینان ہے۔افغانستان سے

متعلق شاہ محمود قریشی کہ پاکستان نے افغانستان میں ڈائیلاگ میں اہم کردار ادا

کیا، افغانستان میں امن سے ہمیں فائدہ ہوگا، جملہ بازی سے اپنے ملک کے مفاد کو

نہیں روندنا چاہیے۔مقبوضہ کشمیر سے متعلق وزیر خارجہ نے کہاکہ دوبارہ

سکیورٹی کونسل میں کشمیر مسئلے پر بریفنگ کی توقع کر رہے ہیں، وہاں پر

دوبارہ مسئلہ کشمیر کو اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ ہمارے فاصلے

کم ہوئے ہیں، بلند آوازمیں کہا گیا روس کے ساتھ بریک تھروآپ نے جو کیا اس کا

تھوڑا تھوڑا ہمیں بھی علم ہے؟ روس کی اہمیت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا، آج

روس طالبان کو ماسکوسمٹ میں بلا کر ان سے مذاکرات کر رہا ہے، آپ کے

زمانے میں توایسا نہیں تھا۔سینیٹ اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود

قریشی نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے

ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملے سے افغان امن عمل اور خطے کی سکیورٹی

صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ خطہ

عرصہ دراز سے کشیدگی اور عدم استحکام کا شکار رہا، موجودہ حالات نے نئے

تناؤ اور کشیدگی کو جنم دیا۔قبل ازیں سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئیشاہ

محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین

استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور مشرق وسطی میں جاری تنازع میں

کسی کا حصہ دارنہیں بنے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین

جاری کشیدگی کے باعث جنوبی ایشیاء سمیت مشرقی وسطی کے ممالک متاثر ہوں

گے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ حالات نے نئے تناؤ کو جنم دیا جو اسامہ

بن لادن، ابوبکر البغدا دی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہوسکتا ہے۔وزیر خارجہ

نے کہا کہ امریکی کہتے ہیں کہ یہ ان حالات وواقعات کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا

گیا جس کا مقصد جنگ کرنا نہیں بلکہ جنگ کو روکناتھا ، دوسرا یہ کہ اب ہم

مذاکرات اور کشیدگی کو کم کرنے کیلیے تیار ہیں، اس کے علاوہ امریکہ نے یہ

بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے آیا تو

حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام معاملے کو دیکھتے ہوئے

حکومت پاکستان سمجھتی ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل بہت سنجیدہ معاملہ ہے،

اس کا اثر ہے جسے ہم نے بحیثیت قوم سمجھنا ہے کیونکہ اس معاملے کا ایک اثر

ہوگا اور وہ استحکام کے لیے خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں استحکام کو خطرہ

دکھائی دے رہا جس پر حکومت پاکستان کو شدید تشویش ہے۔اس واقعے سے خطہ

مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا اور عراق اور شام کے عدم استحکام کے خدشات

بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے منفی اثرات افغانستان پر بھی ہوسکتے ہیں

اور اس سے وہاں امن عمل متاثر ہوسکتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس

معاملے کی آڑ میں یمن کے حوثی سعودی عرب پر مزید حملے کرسکتے ہیں۔انہوں

نے کہا کہ لبنان کی حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرکے اسے راکٹ سے نشانہ

بناسکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس سے خطے میں شدید قتل و غارت گری

بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں

تیل کی ترسیل متاثر ہوگی جس کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔شاہ

محمود قریشی نے کہا کہ ایران امریکا سے کیے گئے جوہری معاہدے سے

دستبردار ہوسکتا ہے تہران یورینیم افزودگی پر عائد پابندیوں سے عملی طور پر

پیچھے ہٹ گیا ہے۔وزیر خارجہ نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے

ہوئے کہا کہ پاکستان کسی یکطرفہ عمل کی تائید نہیں کرتا اور طاقت کا استعمال

ٹھیک نہیں اس سے مسائل بڑھ سکتے ہیں ختم نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا

موقف ہے کہ یہ خطہ کسی بھیانک جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا ، ہم اس خطے کا

حصہ ہیں جو آگ لگے گی ہم اس کی گرمی سے نہیں بچ پائیں گے۔وزیر خارجہ

نے کہا کہ پاکستان واضح طور پر موقف اپناچکا ہے اور میں نے جن وزرائے خارجہ سے شیئر بھی کیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے

خلاف استعمال نہیں ہوگی اور نہ ہی پاکستان خطے کے کسی تنازع میں حصے دار

بنے گا۔

ایران امریکہ کشیدگی میں
ایران امریکہ کشیدگی میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply