ایرانی میزائل حملوں میں امریکی فوجی اڈہ قبرستان میں تبدیل ہونے کا انکشاف

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)عراق کے ایک فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ امریکی

فوج کے اڈے عین الاسد پر ایران کے میزائلی حملے میں اس چھاؤنی کا ریڈار

سسٹم پوری طرح تباہ ہوگیا ہے جبکہ ایک صہیونی صحافی نے کہا ہے کہ دوسو

چوبیس زخمی امریکی فوجیوں کو طیارے کے ذریعے تل ابیب کے ایک ہسپتال

میں منتقل کیا گیا ۔عراق کے فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ ایران کے میزائلی حملے

کو روکنے میں امریکی فوج کا ایئر ڈیفنس سسٹم بری طرح ناکام رہا اورایران سے

فائر کئے گئے میزائل عین الاسد فوجی چھاؤنی کے حساس نشانوں پر گرے۔

صیہونی صحافی نے بھی اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا ہے کہ دوسو چوبیس امریکی

فوجی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں جنھیں امریکی طیاروں کے ذریعے تل ابیب

کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج نے بھی اعتراف

کیا ہے کہ عین الاسد فوجی چھاؤنی پر گیارہ میزائل لگے ہیں۔ امریکی فوج کے

سربراہ مارک میلی نے کہا ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران نے منگل اور بدھ کی

درمیانی رات ایران کے تین الگ الگ مقامات سے امریکی فوجی اڈوں پر سولہ

میزائل فائر کئے تھے جن میں سے کم سے کم گیارہ میزائل عین الاسد فوجی

چھاؤنی پر گرے اور ایک میزائل عراق کے شہر اربیل میں امریکی فوجی اڈے پر

لگاعرب ٹیلی ویڑن چینلوں نے خبردی ہے کہ ایران کے پاسداران کے حملے میں

خطے میں امریکا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی عین الاسد جل کر راکھ ہوگئی

ہے اور وہاں موجود سبھی فوجی آلات اور جدیدترین سسٹم تباہ ہوگئے ہیں۔ عراق

کے فوجی ذریعے نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے میزائلی حملے میں اس

چھاؤنی کا ریڈار سسٹم پوری طرح تباہ ہوگیا ہے۔ دریں اثنا خبریں موصول ہوئی

ہیں کہ عین الاسد فوجی چھاؤنی میں امریکی فوجیوں کے بھاری جانی ومالی

نقصانات کا پردہ فاش ہونے کے خوف سے امریکی فوجیوں نے عراق کے اینٹلی

جینس افسران کو اس چھاؤنی کا دورہ کرنے سے روک دیا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply