وادی کاگن کا گیٹ وے شہر ایبٹ آباد کی سیاحت کو لاحق خطرات

وادی کاگن کا گیٹ وے شہر ایبٹ آباد کی سیاحت کو لاحق خطرات

Spread the love

(تحریر:- شہزادہ گلزیب خان جدون المعروف گل جی) ایبٹ آباد کی سیاحت

Journalist Shehzada Gullzaib Khan Jadoon

ایبٹ آباد شہر مشرقی وسطی خیبر پختونخوا شمالی پاکستان میں واقع ہے، یہ

راولپنڈی سے 38 میل یعنی 61 کلو میٹر شمال مشرق میں ایک پہاڑی مقام ہے

جو سمندر سے 4,120 فٹ کی بلندی پر ریش یا اوراش میدان کے جنوبی کونے

میں ایک سطح مرتفع پر واقع ہے اور یہ خوبصورت وادی کاگن کا گیٹ وے ہے۔

یہ میدانِ سندھ اور کشمیر کے علاقے سے سڑک کے ذریعے اور پشاور کے

ساتھ ریل کے راستے حویلیاں جو کہ 10 میل یعنی 16 کلومیٹر جنوب میں واقع

ہے سے منسلک ہے۔ ایبٹ آباد ایک ضلعی بازار کا مرکز ہے۔ اس کی بنیاد

1853ء میں رکھی گئی تھی اور اس کا نام اس خطے کے پہلے برطانوی ڈپٹی

کمشنر میجر جیمز ایبٹ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ یہاں پارکس، پریپریٹری سکول،

پشاور یونیورسٹی سے وابستہ کئی کالجز اور ایک جنگلاتی تحقیقی مرکز ہے

کیساتھ ساتھ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول بھی واقع ہے۔ لوہے کے بڑے ذخائر

قریب ہی ہیں۔ اپنے سرسبز مناظر، ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے بھی

اس کی قربت میں واقع ہیں، یہ شہر موسم گرما کی ایک مقبول سیرگاہ ہے۔

=ضرور پڑھیں= واقعی اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

ایبٹ آباد پاکستان کے سب سے خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ضلع

ہزارہ کا صدر مقام ہے، اور سیاسی حوالے سے بھی اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے،

تاہم یہ بھی وطن عزیز کے دیگر شہروں کی طرح ٹریفک سمیت گوناگوں مسائل

کا شکار ہے- البتہ دیگر مسائل سے ہٹ کر شہر کا سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک ہے

کیونکہ شہر ایک سیاحتی مقام ہے مگر یہاں چند ایک ہی بڑی سڑکیں ہیں اور

سیاحتی مقام ہونے کی وجہ سے ان سڑکوں پر ہر وقت ٹریفک کا ہجوم رہتا ہے،

خصوصا موسم گرما کی چھٹیوں کے ایام میں تو اکثر جام رہتا ہے-

=پڑھیں= ایبٹ آباد میں پہلا تھیلیسیمیا کیئر سنٹر اور متاثرین کی خوشی

8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے اور پھر افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں

دہشت گردوں کیخلاف میں آپریشن کے دوران ہزاروں خاندانوں نے محفوظ علاقہ

ہونے کی وجہ سے یہاں سکونت اختیار کی، جائیدادیں خرید کر پلازے تعمیر

کئے، جس کی وجہ سے آبادی میں بھی اضافہ ہوا، اور کاروباری سرگرمیوں کو

بھی فروغ ملا، اسی طرح شہر میں قائم اعلی تعلیمی اداروں کی وجہ سے ملک

بھر سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد حصول تعلیم کیلئے مقیم رہتی ہے، جنہیں شہر

میں شہر میں شاپنگ وغیرہ کیلئے لانے اور لے جانے کے حوالے سے سکول

کالجز کی گاڑیوں، اور پھر نجی و پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتات کا بھی سامنا ہے،

لیکن آمدورفت کیلئے پہلے سے موجود سڑکوں کی کشادگی، اور نئی سڑکوں کی

تعمیر کی جانب توجہ نہ دیئے جانے کے سبب ٹریفک ایک بڑے مسئلے کے

طور پر سر اٹھا چکا ہے-

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

یہاں کی سب سے بڑی شاہراہ ریشم اور ذیلی سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم رہتا ہے،

اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، جبکہ پورا شہر گاڑیوں کے شور

سے گو نجتا رہتا ہے، شوراور فضائی آلودگی کی وجہ سے جہاں شہر کا قدرتی

حسن گہنا رہا ہے وہیں، یہاں کے باسی انتہائی ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار

ہیں، منصو بہ بندی کے بغیر تعمیرات نے بھی علاقے کے حسن کو ماند کر دیا

ہے، دوسری جانب کمسن ڈرائیور بھی لوگوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں، ان

کی وجہ آئے روز ٹریفک حادثات معمول بن چکے ہیں، جنکی وجہ سے درجنوں

افراد جان سے گزر یا معذور ہو چکے ہیں، لیکن مقامی انتظامیہ اس جانب توجہ

دینے کو تیار ہی نظر نہیں آتی-

=-،-= عارضی و ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں علاقے کی سیاحت کیلئے زہر قاتل

عارضی اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل کرنے کے سبب ٹریفک کا مسئلہ انتہائی

گھمبیر شکل اختیار کر چکا ہے، جس کا علاقے کی سیاحت پر انتہائی منفی اثر

مرتب ہو رہا ہے، کیونکہ گرمیوں کے موسم میں ملک اور بیرون ملک سے

آنیوالے سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے، اکثریت کی جانب سے

ٹریفک جام اور پارکنگ کی شکایت سننے کو ملتی ہے، اور سیاح آئندہ یہاں نہ کا

عندیہ بھی دیتے ہیں، جس سے یہاں کاروبار اور روزگار کے مواقعوں پر بھی

منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت

اور ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر ایسا پلان مرتب کر کے اس پر عملدرآمد

یقینی بنانا ہو گا جس سے شہری کی خوبصورتی بھی متاثر نہ ہو اور ٹریفک کا

مسئلہ بھی حل ہو جائے، ورنہ مستقبل قریب میں یہاں کی سیاحت بھی دم توڑ

جائیگی جو کسی بھی طور شہر، صوبہ اور ملک کے مفاد میں نہیں- جب کہ

موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیئے ہوئے ہے-

ایبٹ آباد کی سیاحت ، ایبٹ آباد کی سیاحت ، ایبٹ آباد کی سیاحت

ایبٹ آباد کی سیاحت ، ایبٹ آباد کی سیاحت ، ایبٹ آباد کی سیاحت

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply