Kud Kalami by Journalist Imran Rasheed Khan

اہلیان مالاکنڈ بے چین، انتظامیہ پُرسکون، کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے

Spread the love

اہلیان مالاکنڈ بے چین

قدرتی حسن سے مالامال خیبر پختونخوا کا ڈویژن ملاکنڈ کسی تعارف کا محتاج

نہیں، اس کی سرسبز و شاداب وادیاں اپنی مثال آپ ہیں، دنیا بھر سے غیر ملکی

اور وطن عزیز پاکستان سے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں، ماضی میں صوبے کا

یہ حسین ڈویژن دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا، جس کے باعث یہاں کے باسی اس

قدرتی خوبصورتی کو چھوڑ پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے، کیونکہ ان

حسین وادیوں میں ہر طرف موت رقص کرنے رہی تھی، ڈویژن بھر میں تحریک

نفاذ شریعت صوفی محمد گروپ نے سخت قوانین رائج کر کے ریاست کے اندر

ایک اور ریاست قائم کرنے کی ٹھان رکھی تھی، عوام کو سر عام سزائیں دینا، یہاں

تک کے صنف نازک پر بھی کوڑوں کا استعمال کیا گیا، سرکاری ہی نہیں عوامی

املاک پر قبضوں کیساتھ سا تھ اولیاء کرام کے مزارات تک کو گولا بارود سے

نشانہ بنایا گیا، دوسرے لفظوں میں دہشت گردوں نے ان خوبصورت علاقوں کو

انسانوں کے لئے جہنم بنا دیا تھا-

=ضرور پڑھیں= کے پی پولیس وطن دشمنوں کا آسان ہدف کیوں؟

حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے یہاں کی سول انتظامیہ کو بھی اپنی اپنی جان

کے لالے پڑ گئے، اور کئی افسران و اہلکاروں نے اپنی جان بچانے کیلئے وہاں

سے بھاگنے ہی میں عافیت ڈھونڈی، اور ملاکنڈ ڈویژن حقیقی طور پر شہر نا

پرساں کہلانے لگا، عسکریت پسندوں نے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا

بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردانہ کارروائیاں شروع ہو گئیں،

بالآخر پاک آرمی کی جانب سے 2004ء میں یہاں باقاعدہ آپریشن کا آغاز کیا اور

طویل جنگ کے بعد ملاکنڈ کو شرپسندوں کے وجود سے پاک کر دیا۔ لیکن کچھ

عرصہ سے مالاکنڈ ڈویژن میں ایک مرتبہ پھر امن و امان کی صورتحال ابتر ہے،

سنگین واقعات پر حکومت کی عدم توجہی اور انتظامیہ کی متاثرین کو انصاف کی

فراہمی کی بجائے جعلی کارروائیوں کے ذریعے مافیاز کی مبینہ طور پر پشت

پناہی کی وجہ سے عوام کی جانب سے پاک فوج سے مدد طلب کرنے جیسی تواتر

سے زیر گردش ہیں، اور اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مختلف مافیاز کے

روپ میں کالعدم تنظیموں کے سرگرم ہونے کے خدشات تقویت پکڑ سکتے ہیں-

=-،-= عوام کے سوالات پر انتظامیہ کی چُپ معنی خیز

حال ہی میں بہیمانہ انداز میں قتل کی جانیوالی بٹ خیلہ کی رہائشی خاتون وکیل اور

سماجی ورکر ” شیبا گل ” نے مرنے سے چند روز قبل اپنے بیان میں تقریباً ڈیڑھ

کڑور مالیت کی فصل کی کٹائی، مٹی زبردستی فروخت کرنے اور اپنی زندگی کو

لاحق خطرے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کسی دہشت گرد گروہ کا ہاتھ اور

انتظامیہ کی ملی بھگت کا واضح طور پر ذکر کیا تھا، بعدازاں انہیں والد سمیت قتل

کر دینا، کمزور ریاست کی دلیل ہونا اپنی جگہ، مگر واقعہ کے بعد ملزم کی اسلحہ

سمیت گرفتاری، انتظامیہ کی پریس کانفرنس ” داد وصولی ” اور ” کہانی ختم ”

جیسے ڈرامے سے اٹھنے والے سوالات اب بھی جواب کے منتظر ہیں۔ وہ یہ کہ

قاتل نے خود سرنڈر کیا یا اسے گرفتار کیا گیا، کیا مقتولہ کی ریاست سے تحفظ

فراہمی کیلئے دی جانیوالی درخواست یا پریس کانفرنس میں مزکورہ جرم میں

گرفتار ہونیوالے کا نام تھا، یا پھر جن افراد کا چیخ چیخ کر نام پُکارا گیا اور انہیں

مقتولہ کی جانب سے مرکزی ملزم ٹھہرایا جاتا رہا وہ کون اور کہاں ہیں؟ انہیں اس

کیس سے کیوں دور رکھا گیا؟، یہ وہ سوال ہیں جو عوامی حلقوں کی جانب سے

اٹھے اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے کافی بحث کی گئی-

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

خیبر پختونخوا امن جرگہ کے چیئرمین سید کمال شاہ اراکین، اہلیان علاقہ سیاسی

و سماجی تنظیموں کے درجنوں افراد جو ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کی انتہائی

خطرناک صورتحال کے حوالے سے 14 روز سے سخاکوٹ اور گزشتہ روز سے

پشاور میں کے پی کے اسمبلی کے باہر سراپا احتجاج دھرنا دئیے بیٹھے ہیں، بھی

امن جرگہ کے رکن اعلیٰ تعلیم یافتہ سوشل ورکر اور صحافی محمد زادہ آگرہ وال

کے قتل اور جعلی گرفتاری کے حوالے سے کچھ ایسی ہی صورتحال کا رونا رو

رہے ہیں، اور اس ضمن میں انہوں نے عوام کی مدد کیلئے پاک فوج کا دروازہ

کھٹکھٹانے کیلئے راولپنڈی جی ایچ کیو کے باہر مالاکنڈ ڈویژن کے سیکڑوں افراد

کے ہمراہ اپنے مطالبات پیش کرنے جانے کا فیصلہ بھی کیا ہے-

=-،-= مالاکنڈ میں سرگرم کون . مافیاز یا دہشتگرد تنظیمیں ؟

ملاکنڈ ڈویژن سے آمدہ رپورٹس، سوشل میڈیا اطلاعات اور مظاہرین کے مطابق

کافی عرصے سے ایک دو مگر خطرناک مافیا سرگرم ہیں، جنہیں انتظامیہ کی

سرپرستی اور مکمل تعاون حاصل ہے، ان کا یہ بھی کہنا ہے ملاکنڈ کے عوام اپنے

سروں پر ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کے سائے منڈلاتے دیکھ رہے ہیں، لیکن ایسا

لگتا ہے اس مرتبہ کالعدم تنظیمیں مبینہ طور پر یہ کارروائیاں غیر رسمی و غیر

روایتی انداز میں کر رہی ہیں، ان کا مقصد زمینوں پر قبضوں، منشیات اور بھتہ

خوری سمیت دیگر مکروہ دھندوں کے ذریعے پیسے بٹورنا ہے، اب یہ نہیں کہا جا

سکتا اس کالے دھن سے کتنا حصہ انتظامیہ کو پہنچ رہا ہے، اور اس دولت کا

استعمال مستقبل میں کن اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے کیا جائیگا، انہوں نے

یہ بھی کہا مالاکنڈ ڈویژن میں اپنے حق کیلئے یا معاشرے میں برائیوں کیخلاف

آواز اٹھانے والوں کو ہمیشہ کیلئے خاموش کر دینے کی روایت پروان چڑھ رہی

ہے، جس میں مالاکنڈ انتظامیہ برابر کی شریک ہے-

=-،-= عوامی واویلہ، سازش یا جھوٹ قرار نہیں دیا جا سکتا

مالاکنڈ ڈویژن میں مختلف مافیاز اور انتظامیہ کے کردار و کارکردگی پر عوامی،

سیاسی و سماجی حلقوں سمیت سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید، الزامات،

اٹھائے گئے سوالات اور انتہائی سنگین خدشات میں کس حد تک سچائی ہے، اور

مندرجہ بالا حالات کے اثرات ڈویژن پر کس حد تک حاوی ہیں، فی الحال کوئی

نتیجہ اخذ کرنا، ” پیالی میں طوفان ” برپا کرنے کے مترادف ہو گا، کیونکہ مالاکنڈ

ڈویژن میں مکمل طور پر حکومتی رٹ قائم ہے، تاہم اس بات سے بھی چشم پوشی

نہیں کی جا سکتی، کیونکہ مختلف حلقوں کا ” واویلہ ” کسی سازش یا مکمل جھوٹ

قرار نہیں دیا جا سکتا، خصوصاََ اس وقت جب عام عوام، باوقار امن پسند تنظیموں

کی جانب سے حکومت اور انتظامیہ پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار، امن و امان کی

بحالی کیلئے ملک کے افواج سے مدد کا مطالبہ کیا جانا آخری آپشن ہوتا ہے-

=-،-= حقائق جاننے کیلئے تحقیقات ناگزیر

اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ ” کچھ تو ہے

جس کی پردہ داری ہے ” اس لئے ضروری ہے کہ مالاکنڈ کے علاقہ بٹ خیلہ کی

رہائشی خاتون وکیل و سماجی کارکن شیبا گل، صحافی محمد زادہ آگرہ وال کے قتل

سمیت دیگر مختلف نوعیت سنگین خدشات کے حوالے عوامی ترجیحات کے مطابق

انٹیلی جنس بنیادوں پر اعلی سطحی تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ اگر کسی جگہ پر

ملکی سلامتی کو ٹھیس پہنچانے کی سازش یا نقص امن پیدا کرنے کیلئے فنڈنگ

کی جا رہی ہو تو ایسے عناصر کو پُر پھیلانے سے پہلے ہی، کچلنا وطن عزیز کی

سلامتی اور امن و امان کیلئے وقت کی اہم ضرورت ہے-

اہلیان مالاکنڈ بے چین ، اہلیان مالاکنڈ بے چین ، اہلیان مالاکنڈ بے چین
اہلیان مالاکنڈ بے چین ، اہلیان مالاکنڈ بے چین ، اہلیان مالاکنڈ بے چین

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply